کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاجی سرگرمیاں عارضی طور پر روکنے کے اشارے کے بعد ایک بار پھر سڑکوں پر اترنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی۷؍ نومبر کو کیرالا کے شہر کوچی میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف احتجاج کرے گی۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 6:03 PM IST | Kochi
کاکروچ جنتا پارٹی نے احتجاجی سرگرمیاں عارضی طور پر روکنے کے اشارے کے بعد ایک بار پھر سڑکوں پر اترنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی۷؍ نومبر کو کیرالا کے شہر کوچی میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف احتجاج کرے گی۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کیرالا کے شہر کوچی میں ۷؍نومبر کو نئے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی ایک بار پھر سڑکوں پر اترنے کی تیاری کر رہی ہے، حالانکہ اس کے بانی ابھیجیت دپکے نے حال ہی میں احتجاجی سرگرمیاں عارضی طور پر روکنے کا اشارہ دیا تھا۔ سی جے پی نے اپنے تازہ اعلان میں حامیوں سے سنیچرکو شام۴؍ بجے کوچی کے راجندر میدان میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی ہے۔ اس احتجاج کا نعرہ ’’جمہوریت بچاؤ! ایس آئی آر منسوخ کرو!‘‘ رکھا گیا ہے۔ اس کے ذریعے پارٹی نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن، ایس آئی آر) کی مخالفت کا اعادہ کیا ہے۔ یہ سی جے پی کی جانب سے احتجاجی سرگرمیاں روکنے کے اشارے کے بعد احتجاج کا پہلا اعلان ہے۔ اس دوران پارٹی کی قیادت سے متعلق کئی اہم واقعات بھی پیش آئے، جن میں بانی ابھیجیت دپکے کو حراست میں لیا جانا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران پارٹی کے شریک کنوینرس سورَو داس اور آشوتوش رانکا کی گرفتاری شامل ہے۔
Save Democracy! Cancel SIR! Join Us - 7th November - 4 PM | Rajendra Maidan, Kochi 📍 https://t.co/yPY824x1mm
— Cockroach Janta Party - CJP (@Cockroachisback) November 5, 2026
سی جے پی کے احتجاج اور عارضی وقفے کی کہانی
سی جے پی نے مئی میں اپنے قیام کے بعد سے مختلف مسائل پر احتجاجی مہمات چلائی ہیں۔ اس کا پہلا بڑا احتجاج نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کے مطالبے کیلئے تھا۔ بعد ازاں اگست میں پارٹی نے ملک گیر سطح پر ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم شروع کی، جس کے ذریعے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی، اساتذہ کی قلت اور ناقص بنیادی ڈھانچے جیسے مسائل کو اجاگر کیا گیا۔ ستمبر کے اواخر میں پارٹی نے اپنی توجہ الیکشن کمیشن کی جانب مرکوز کردی اور ملک گیر سطح پر ایس آئی آر کی کارروائی میں مبینہ بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ووٹ چوری پر ہم اسمبلی سے پارلیمنٹ تک بحث کیلئےتیار ہیں‘‘
تاہم اس احتجاج کو اس وقت دھچکا لگا جب۱۳؍ اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرے کے بعد سی جے پی کے شریک کنوینرس سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو گرفتار کرلیا گیا۔ دونوں لیڈروں نے جنتر منتر کو احتجاج کیلئے مقررہ مقام کی فہرست سے خارج کئے جانے کے باوجود وہاں احتجاج کیا اور قومی پرچم لہرایا تھا۔ اس کے بعد۱۶؍ اکتوبر کو مجوزہ ترنگا مارچ سے قبل ابھیجیت دپکے کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ اس طرح پارٹی اپنے تینوں اہم لیڈروں سے محروم ہوگئی، جو احتجاج کی منصوبہ بندی اور انتظامات کی ذمہ داری سنبھالنے والے تھے۔ سی جے پی نے اس احتجاج کیلئے پلان بی تیار رکھنے کا دعویٰ کیا تھا، لیکن اس کے باوجود مجوزہ مارچ شروع نہیں ہوسکا۔
یہ بھی پڑھئے: الیکشن کمیشن کی ڈی جی ( آئی ٹی) سیما کھنہ کی ذمہ داری میں تبدیلی
دپکے کی حامیوں سے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کی اپیل
ان واقعات کے درمیان ابھیجیت دپکے نے دسہرہ کے موقع پر ایک جذباتی ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے سی جے پی کے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ تہوار کے دوران اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت گزاریں۔ انہوں نے احتجاج میں حصہ لینے والے افراد کے اہل خانہ کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا اور پارٹی کے شریک کنوینرس سورَو داس اور آشوتوش رانکا کی عدم موجودگی کی جانب توجہ دلائی، جو اس وقت عدالتی حراست میں تھے۔ دپکے نے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ تہوار کے موقع پر ان دونوں لیڈروں کو یاد رکھیں، کیونکہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ وقت نہیں گزار سکتے۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ مظاہرین کا اپنا تھا، لیکن اس کے نتائج اور مشکلات ان کے اہل خانہ کو بھی برداشت کرنا پڑ رہی ہیں۔ دپکے کے اس پیغام کو کئی ماہ سے جاری احتجاجی سرگرمیوں کے بعد سی جے پی کی جانب سے عارضی طور پر مظاہرے روکنے کے اشارے کے طور پر دیکھا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنا جرم نہیں ہے‘‘، الٰہ آباد ہائی کورٹ
کرائم برانچ نے سی جے پی لیڈروں سے پوچھ گچھ کی
سی جے پی کے تازہ احتجاجی اعلان سے چند روز قبل پارٹی لیڈروں سورَو داس، آشوتوش رانکا اور اجنکیا شندے سے دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے پوچھ گچھ کی تھی۔ یہ کارروائی۱۳؍ اکتوبر کو جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج سے متعلق دو ایف آئی آر کے سلسلے میں کی گئی۔ تینوں لیڈروں سے۵؍ نومبر کو راجوری گارڈن میں واقع کرائم برانچ کے دفتر میں تقریباً چار گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق ان سے تقریباً۷۰؍ سوالات کئے گئے، تاہم انہوں نے بعض سوالات کے جواب نہیں د یئے۔ یہ دونوں ایف آئی آر ابتدا میں کناٹ پلیس اور پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشنوں میں درج کی گئی تھیں۔ ان میں جنتر منتر پہنچنے کیلئے نجی جائیداد سے غیر قانونی طور پر داخل ہونے اور احتجاج کیلئے مقررہ فہرست سے خارج کئے گئے مقام پر عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزامات شامل ہیں۔ بعد میں ان مقدمات کو کرائم برانچ کے حوالے کردیا گیا۔ پوچھ گچھ کے بعد آشوتوش رانکا نے کہا کہ سی جے پی تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گی۔ انہوں نے اس موقف کا بھی اعادہ کیا کہ قومی پرچم لہرانے کو جرم نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ اس معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔