۱۰؍ لاکھ ٹن شکر کی درآمد کے فیصلے اور اسٹاک کی حد طے کرنے کا خاطر خواہ اثر، ملک بھر میں ملوں سے شکر اب ۵۵؍ روپے فی کلو پر مارکیٹ میں آرہی ہے، مزید کم ہوگی۔
EPAPER
Updated: August 26, 2026, 1:03 PM IST | Agency | New Delhi
۱۰؍ لاکھ ٹن شکر کی درآمد کے فیصلے اور اسٹاک کی حد طے کرنے کا خاطر خواہ اثر، ملک بھر میں ملوں سے شکر اب ۵۵؍ روپے فی کلو پر مارکیٹ میں آرہی ہے، مزید کم ہوگی۔
تہواروں کاموسم شروع ہونے سے عین پہلے ملک بھر میں شکر کی قیمتوں کے ریکارڈ سطح پر پہنچنے کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہونےوالی مودی سرکار نے جوہنگامی اقدامات کئے ہیں ان کا اثر نظر آنے لگا ہے۔ حالانکہ ابھی خردہ بازار میں قیمتوں میں خاطر خواہ فرق نہیں آیا لیکن فیکٹری گیٹ پر چینی کی قیمتیں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تیزی سے کم ہوئی ہیں ۔ فوڈ سیکریٹری سنجیو چوپڑہ نے منگل کو بتایا کہ شکر ملوں سے نکلنےوالی شکر کی قیمت میں جو ۶۷؍ روپے فی کلو کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی، اس میں ۱۸؍ فیصد کی کمی آئی ہے۔ ملوں سے شکر اَب ۵۵؍روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔ شکر بنانے والی ملوں کے قومی فیڈریشن نے بھی کہا ہے کہ ملک میں شکر کی قلت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہیوسٹن کی آبی گزرگاہ سے ۹؍ سالوں میں ۲۰۰؍ لاشیں برآمد، سیریل کلر کا شبہ خارج
حکومت کے اقدمات کا اثر
شکرکی قیمتوں میں یہ کمی حکومت کے ہنگامی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ پہلے ہی طلبہ کے احتجاج کی وجہ سے عوامی سطح پر حکومت مخالف رجحان سے پریشان مودی سرکار نے شکر کی قیمتوں میں اضافہ سے اس رجحان کو تقویت ملنے کے اندیشوں سے بچنے کیلئے فوری طور پر جہاں ۱۰؍ لاکھ ٹن خام شکر کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دی وہیں ذخیرہ اندوزی روکنے کیلئے شکر کے اسٹاک کی حد مقرر کردی۔ ان دونوں اقدامات کی وجہ سے بازار میں پھیلی بے یقینی میں کمی آئی ہے۔
فوڈ سیکریٹری سنجیو چوپڑا نے خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی ‘ کو بتایا کہ مل کے گیٹ پر چینی کی قیمتیں جنہیں ملوں نے بڑھا دیا تھا، اب کم ہونا شروع ہوگئی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ یہ۵۵؍ روپے فی کلو تک آچکی ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید کم ہوں گی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:’’کنال چاہتا تھاکہ بس اس کے والد گھر آجائیں‘‘
شکر کی پیداوار میں کمی مگر حکمت نے کہا: قلت نہیں ہے
موجودہ مارکیٹنگ سال میں شکر کی پیداوار میں گزشتہ برسوں کے مقابلے کمی کا اندازہ لگایا گیا ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس کمی کے باوجود ملک میں شکر کی قلت نہیں ہے اور پیداوار ملکی ضرورت سے زیادہ ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے چینی کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا وہ سپلائی کی صورتحال کے لحاظ سے ٹھیک نہیں تھا۔
اکتوبر تا ستمبر۲۶-۲۰۲۵ء کے مارکیٹنگ سال میں چینی کی پیداوار کا تخمینہ ۳۰۶؍ لاکھ ٹن لگایا گیا ہے، جو پہلے۳۴۳؍ لاکھ ٹن تھا۔ اس کے باوجود یہ مقدار بھا ہندوستان کی سالانہ گھریلو کھپت جو تقریباً۲۸۰؍ سے ۲۸۵؍ لاکھ ٹن سے زیادہ ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کا حکومتوں پر زمین کی بحالی کو معاشی سرمایہ کاری سمجھنے پر زور
۷؍ سے ۱۰؍ دن میںخردہ قیمتیں کم ہوں گی
انڈین شوگر اینڈ بائیو انرجی مینوفیکچررس اسوسی ایشن (آئی ایس ایم اے) نے بھی کہا ہے کہ ملک میں شکر کی کوئی قلت نہیں ہے اور حکومت کی جانب سے حالیہ اقدامات کے بعد آئندہ۷؍سے۱۰؍دنوں میں خردہ بازار میں چینی کی قیمتوں میں کمی آنے کی توقع ہے۔ آئی ایس ایم اے کے صدر نیرج شرگاؤنکر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں شکر کی قیمتوں میں اضافہ کئی عوامل کی وجہ سے ہوا، جن میں تاجروں اور بڑے صارفین کی جانب سے قیاس آرائی پر مبنی خریداری اور خراب موسمی حالات کے باعث پیداوار میں کمی شامل ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ملک میں شکر کی مجموعی سپلائی کی صورتحال اطمینان بخش ہے،کسی طرح کی قلت نہیں ہے۔