’لائر فرٹینٹی کلیکٹیو بامبے‘ چمبور میں تحویل میں لئے گئے ۵۰؍ طلبہ کو رہاکروانے میں کامیاب۔ بامبے بار اسوسی ایشن کے۱۴۰؍ سے زائد وکلاء کی ٹیم اور ’اے پی سی آر‘ کے ۶؍وکیل بھی تیار۔
EPAPER
Updated: July 25, 2026, 1:27 PM IST | Nadeem Asran / Saeed Ahmed Khan | Mumbai
’لائر فرٹینٹی کلیکٹیو بامبے‘ چمبور میں تحویل میں لئے گئے ۵۰؍ طلبہ کو رہاکروانے میں کامیاب۔ بامبے بار اسوسی ایشن کے۱۴۰؍ سے زائد وکلاء کی ٹیم اور ’اے پی سی آر‘ کے ۶؍وکیل بھی تیار۔
نیٹ پیپر لیٖک اور طلبہ کی خودکشی کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) کے جنترمنتر پر احتجاج اورپولیس کے مظاہرین پرلاٹھی چارج کے خلاف ممبئی میں طلباء و طالبات نے زبردست احتجاج کیا تھا ۔ اس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں تحویل میں لے لیا ۔ پولیس کے ذریعے مظاہرین کے خلاف بڑے پیمانے نوٹس بھیجنے، کیس درج کرنے اور دفعہ۱۴۴؍ کے لگانے کے باوجود وہ بے خوف ہوکر مسلسل احتجاج کررہے ہیں ۔طلبہ پر پولیس کی کارروائی کے پیش نظر وکلاء جن ہائی کورٹ کے وکیل بھی شامل ہیں، طلبہ کیلئے آگے آئے اور انہیں مفت قانونی مدد فراہم کرنے کا اعلان کیا ۔
طلبہ کو قانونی مدد فراہم کرنے کے سلسلہ میں ایک طرف بامبے بار اسوسی ایشن کے۱۴۰؍ سے زائد وکلاء نے طلبہ کی حمایت کی ہے ۔ بار اسوسی ایشن کے سینئر کریمنل وکیل ستیش مانے شندے کی سربراہی میں طلبہ، سماجی اور طلبہ تنظیموں کے علاوہ شہریوں کے پرامن احتجاج کے باوجود طلبہ و نوجوانوں کو نوٹس بھیجنے، انہیں حراست میں لینے اور ان کے خلاف کیس درج کرنے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔ وکیل ستیش مانے شندے جو سنجے دت، سلمان خان اور آرین خان جیسے فلم اسٹاروں کے کیس کی پیروی کرچکے ہیں، نے اس ضمن میں اس نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ۱۴۰؍وکلاء کی ٹیم طلبہ کو قانونی مدد فراہم کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ طلبہ کو حراست میں لینا، انہیں نوٹس دینا اور ان پر فوجداری کے تحت کیس درج کرنا قانوناً درست نہیں ہے۔ ان نے مزید کہا کہ ممبئی میں طلبہ اور دیگر مظاہرین نے بہت ہی پرامن طریقہ سے احتجاج کیا ہے، اس کے باوجود پولیس کا طلبہ کو ہراساں کرنا، حراست میں لینا، نوٹس دینا اور کیس درج کرنا افسوسناک اور حیرت انگیز ہے۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ کی حمایت میں مظاہرہ اور سیاہ فیتہ باندھ کر اظہار یکجہتی
شیواجی پارک پولیس اسٹیشن میں سب سے زیادہ کیس
قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ مذکورہ احتجاج کے دوران آزاد میدان، ورلی، سائن، ماہم، وڈالا، کالا چوکی، دادر اور چمبور میں ایک ہزار سے زائد طلبہ پر اب تک۱۳؍ ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے ۔ سب سے زیادہ۶۰۰؍ سے زائد طلبہ پر شیواجی پارک پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا ہے ۔ طلبہ کے خلاف مختلف پولیس اسٹیشنوں میں کیس درج کرنے پر شہر کے۱۵؍ وکلاء پر مشتمل ٹیم نے بھی طلبہ کو مفت قانونی مدد فراہم کرنے کا اعلان ہی نہیں کیا بلکہ زمینی سطح پر طلبہ کو لیگل ایڈ دینا شروع کردیا ہے ۔ اس ضمن میں ’لائر فرٹینٹی کلیکٹیو بامبے‘ نام سے طلبہ کو قانونی مدد فراہم کرنے والے کنوینر وکیل سیف عالم نے اس نمائندے کو بتایا کہ ’’گزشتہ روز چمبور میں احتجاج کے دوران جن۵۰؍طلبہ کو پولیس نے حراست میں لیا تھا، ٹیم میں شامل وکلاء مخدوم شیخ، عابد عباس سیّد، رخسار قریشی،عنیزہ شیخ اور دیگر وکلاء کی مدد سے انہیں رہا کرایا گیا ہے۔‘‘ انہوں یہ بھی بتایا کہ کئی طلبہ اپنی تنظیم یا پھر اہل خانہ کے ذریعہ ہم سے رابطہ قائم کررہے ہیں ۔ ہم اس معاملہ میں درج کی گئی ایف آئی آر اور تمام طلبہ کی جانب سے جلد ہی ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن داخل کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ احتجاج میں شامل صرف طلبہ کو مفت قانونی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
شہر کی سول سٹی کورٹ بار اسوسی ایشن نے بھی طلبہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہی نہیں سٹی سول کورٹ بار اسوسی ایشن نے طلبہ کی حمایت اور انہیں قانونی مدد فراہم کرنے کے سلسلہ میں ایک قرارداد منظور کی ہے ۔
یہ بھی پڑھئے: ’’احتجاج کرنے والے طلبہ کیخلاف تمام کیس واپس لئے جائیں‘‘
’اے پی سی آر‘ کے۶؍ وکلاء سے بھی رابطہ کیا جاسکتا ہے
اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر ) کی جانب سےبھی طلبہ کو مفت قانونی مدد فراہم کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کام کیلئے۶؍ وکلاء خدمات مہیا کروارہے ہیںجن میں ایڈوکیٹ کریم پٹھان، ایڈوکیٹ فضل، ایڈوکیٹ عشرت خان، ایڈوکیٹ عمران، ایڈوکیٹ نیاز اور ایڈوکیٹ امیر ملک شامل ہیں۔اے پی سی آر کے عہدیدار شاکر شیخ سے نمائندہ انقلاب کے یہ پوچھنے پر کہ مفت قانونی مدد کس طرح مہیا کرائی جائے گی یا جارہی ہے تو انہوں نے بتایا کہ اگر مظاہرین میں شامل کسی طالب علم یا اس کے اہل خانہ کو بار بار پولیس اسٹیشن بلایا جائے یا نوٹس بھیجا جائے تو یہ وکلاء پولیس اسٹیشن جائیں گے اور پولیس افسران سے گفتگو کریں گے۔ اسی طرح اگر کسی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے تو اس کو ختم کرانے کیلئے عدالت سے رجوع ہوں گے۔ اس کے علاوہ طلبہ کو کوئی اور قانونی مدد درکار ہوگی تو ہمارے وکلاء اس کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ طلبہ اور ان کے اہل خانہ کو متوجہ کیا جارہا ہے کہ وہ پریشان نہ ہوں، اے پی سی آر ان کو قانونی مدد فراہم کرانے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔