Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر: شدید گرمی اور ایل نینو سے الفانسو آم کی فصل تباہ، کسان بحران کا شکار

Updated: May 27, 2026, 7:25 PM IST | Mumbai

ہندوستان کی ریاست مہاراشٹر میں شدید گرمی، موسمیاتی تبدیلی اور ایل نینو کے اثرات نے مشہور الفانسو آم کی فصل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کسانوں، تاجروں اور برآمد کنندگان کے مطابق اس سال پیداوار کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ برآمدات اور مقامی کاروبار بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستان کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں اس سال الفانسو آم کی پیداوار شدید موسمی اثرات کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ ساحلی قصبے دیوگڈ سے تعلق رکھنے والی ۲۶؍ سالہ باغبانی ماہر کومل واکے نے بتایا کہ ان کے خاندان کے تین ایکڑ باغات میں تقریباً کوئی آم پیدا نہیں ہوا، جس کے باعث انہیں اپنے مستقل گاہکوں کے آرڈرز پورے کرنے کیلئے دوسرے بڑے فارموں سے آم خریدنے پڑ رہے ہیں۔ واکے کے مطابق اگر وہ اس سال سپلائی پوری نہ کریں تو آن لائن گروسری پلیٹ فارمز اور بڑے خریدار اگلے برس واپس نہیں آئیں گے۔ مہاراشٹر خصوصاً اپنے مشہور الفانسو آموں کیلئے جانا جاتا ہے، جسے اکثر ’’آموں کا بادشاہ‘‘ کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : کاکروچ جنتا پارٹی نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والی پٹیشن دوبارہ شروع کردی

سی آر آئی ایس آئی ایل کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان دنیا میں آم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں ۲۰۲۴ء اور ۲۰۲۵ء کے دوران تقریباً ۸ء۲؍ میٹرک ٹن آم پیدا ہوئے۔ تاہم اس سال موسمیاتی حالات نے خاص طور پر مہاراشٹر کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا۔ زرعی حکام کے مطابق دسمبر اور جنوری کے دوران دن اور رات کے درجہ حرارت میں غیر معمولی فرق نے آم کے پھول اور پھل بننے کے عمل کو متاثر کیا۔ بعد ازاں اپریل اور مئی میں معمول سے کہیں زیادہ گرمی نے تیار ہونے والے پھلوں کو بھی نقصان پہنچایا۔ ماہرین اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ ایل نینو کو قرار دے رہے ہیں۔ ایل نینو ایک موسمیاتی رجحان ہے جو عالمی موسم کے نظام کو متاثر کرتا ہے اور شدید گرمی، خشک سالی یا غیر معمولی بارش جیسے حالات پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اس سال شدید ایل نینو ایشیا، جنوبی امریکہ اور افریقہ میں فصلوں کو متاثر کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے : گرمیت سنگھ کو پھر ۳۰؍ دن کی پیرول، ۲۰۱۷ء کے بعد ۱۶؍ ویں مرتبہ جیل سے رِہا

رائٹرز کے مطابق، سرکاری تعاون سے ہونے والے ایک سروے میں دیوگڈ علاقے میں آم کی فصل کو ۸۵؍ سے ۹۰؍ فیصد تک نقصان پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ مہاراشٹر کے دیگر آم پیدا کرنے والے اضلاع بھی اسی طرح متاثر ہوئے ہیں۔ موڈور انٹیلی جنس کے مطابق گزشتہ سال ہندوستان کی آم کی صنعت کی مجموعی مالیت تقریباً ۳ء۲؍ ارب ڈالر تھی، جو ۲۰۳۱ء تک بڑھ کر ۴ء۳؍ ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اگرچہ زیادہ تر آموں کی کھپت ہندوستان کے اندر ہی ہے، تاہم ۲۰۲۵ء میں تقریباً ۵۶؍ ملین ڈالر مالیت کے تازہ آم اور ۸۰؍ ملین ڈالر مالیت کا آم کا گودا برآمد کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے : ’’دنیا میں ہر۳۰۰؍میں سے ایک شخص شیزوفرینیا کا شکار ہے‘‘

رپورٹ کے مطابق اس سال موسمی نقصان کے ساتھ ساتھ ایران جنگ سے پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی نے بھی برآمدات کو متاثر کیا۔ ہندوستان دنیا کے بڑے آم برآمد کنندگان میں شامل ہے اور اسے تھائی لینڈ، میکسیکو اور ویتنام جیسے ممالک سے مقابلہ درپیش ہے۔ ہندوستانی آموں کی بڑی منڈیوں میں متحدہ عرب امارات، امریکہ، برطانیہ، کویت اور قطر شامل ہیں۔ آم برآمد کرنے والی کمپنی شری ولی ایگرو کے شریک بانی شریدھر پاٹھک کے مطابق فریٹ چارجز دوگنے سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں، جبکہ دبئی اور عمان جیسے خلیجی ممالک کیلئے کئی ترسیل میں تاخیر یا منسوخی کے باعث ان کی برآمدات تقریباً ۴۰؍ فیصد کم ہو گئی ہیں۔

برآمدات میں کمی کے باعث کئی آم مقامی مارکیٹ میں بھیج دیے گئے، جس سے پیداوار کم ہونے کے باوجود مقامی قیمتوں پر دباؤ پڑا۔ اس بحران نے صرف کسانوں ہی نہیں بلکہ آم سے جڑے دیگر کاروباروں کو بھی متاثر کیا ہے۔ مالوان میں آم کے کارٹون تیار کرنے والے سنجے نارے نے بتایا کہ ان کی فیکٹری میں تقریباً ایک لاکھ ڈبے فروخت نہ ہو سکے۔ ان کے مطابق، ’’اس پورے خطے کی معیشت آم اور مچھلی پر چلتی ہے۔ گرمیوں میں آم نہ ہوں تو یہاں لوگوں کے پاس آمدنی کے بہت کم ذرائع بچتے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK