Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر: اقلیتی تعلیمی اداروں کیلئے حکومت کی جانب سے قواعد سخت

Updated: August 08, 2026, 7:05 PM IST | Mumbai

مہاراشٹر حکومت اسکولوں اور کالجوں کو اقلیتی تعلیمی ادارے کا درجہ دینے کے طریقۂ کار میں بڑی تبدیلی کی تیاری کررہی ہے۔ حکومت کی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے درخواستوں کی سخت جانچ، مختلف سرکاری محکموں سے تصدیق، سینئر افسران کی نگرانی اور درجہ ملنے کے بعد بھی اداروں کے وقتاً فوقتاً جائزے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کی قیادت ایڈیشنل چیف سیکریٹری بی وینگوپال ریڈی نے کی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مہاراشٹر حکومت اسکولوں اور کالجوں کو اقلیتی تعلیمی ادارے کا درجہ دینے کے موجودہ طریقۂ کار میں بڑی تبدیلی کی تیاری کررہی ہے۔ نئے نظام کے تحت اقلیتی درجہ حاصل کرنے کے لیے درخواست دینے والے اداروں اور انہیں چلانے والے ٹرسٹ یا سوسائٹی کی پہلے کے مقابلے میں زیادہ تفصیلی جانچ کی جائے گی۔ مختلف سرکاری محکموں سے تصدیق، سینئر افسران کی نگرانی اور درجہ ملنے کے بعد بھی اداروں کے وقتاً فوقتاً جائزے کی تجویز دی گئی ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق اس معاملے کا جائزہ لینے والی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی قیادت ایڈیشنل چیف سیکریٹری بی وینگوپال ریڈی نے کی۔ کمیٹی نے موجودہ نظام میں موجود خامیوں اور ان مقامات کی نشاندہی کی جہاں مزید انتظامی نگرانی ضروری محسوس ہوئی۔ ان سفارشات کے بعد ریاستی حکومت نے ایک نئی کمیٹی تشکیل دی ہے جو اقلیتی درجہ دینے کے لیے نظرثانی شدہ معیاری عملی طریقۂ کار تیار کرے گی۔ ایک سینئر سرکاری افسر کے مطابق نئی ہدایات اگست ۲۰۲۶ء کے آخر تک جاری ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آئی آئی ٹی بامبےکےماہر نفسیات پروفیسرعزیزالدین خان جےسی بوس فیلوشپ کیلئےمنتخب

مجوزہ نظام میں درخواستوں کی جانچ صرف دستاویزات کی ابتدائی پڑتال تک محدود نہیں رہے گی۔ مختلف سرکاری محکموں کو جانچ کے عمل میں شامل کرنے کی تجویز ہے تاکہ ادارے اور اسے چلانے والے ٹرسٹ یا سوسائٹی کی فراہم کردہ معلومات کی الگ الگ سطح پر تصدیق ہوسکے۔ اس کے ساتھ سینئر افسران کی نگرانی بھی رکھی جاسکتی ہے۔ کمیٹی کی ایک اہم سفارش اقلیتی درجہ ملنے کے بعد اداروں کے وقتاً فوقتاً جائزے کی ہے۔ اس کا مقصد یہ جانچنا ہوگا کہ درجہ حاصل کرنے کے بعد بھی ادارہ مقررہ شرائط پوری کررہا ہے یا نہیں اور اس کی انتظامی یا ملکیتی صورت حال میں کوئی ایسی تبدیلی تو نہیں آئی جو اس حیثیت پر اثر انداز ہوسکے۔
نئے طریقۂ کار کی ضرورت جنوری ۲۰۲۶ء میں اقلیتی درجہ دینے کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد محسوس ہوئی۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار، جو اقلیتی ترقی محکمہ کا قلمدان بھی سنبھال رہے تھے، ۲۸؍ جنوری کو طیارہ حادثے میں ہلاک ہوئے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ۲۸؍ جنوری سے ۲؍ فروری کے درمیان صرف ۳؍ دن میں ۷۵؍  تعلیمی اداروں کو اقلیتی درجہ دیا گیا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق پہلے سرٹیفکیٹ پر ۲۸؍ جنوری کو سہ پہر ۳؍ بجکر ۹؍ منٹ پر دستخط ہوئے تھے۔ اسی روز ۷؍ اداروں کو درجہ دیا گیا اور اگلے ۳؍ دن میں تعداد ۷۵؍ تک پہنچ گئی۔ منظوریوں کی رفتار اور وقت پر سوالات اٹھنے کے بعد وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے ان منظوریوں پر روک لگادی اور معاملے کی جانچ کا حکم دیا۔ بعد کی رپورٹنگ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ۷۵؍ منظوریوں پر منترالیہ کی سطح کے ایک ہی افسر کے ڈجیٹل دستخط موجود تھے۔

یہ بھی پڑھئے: مہا ٹی ای ٹی میں حجاب و نقاب پر پابندی: ’جی آئی او‘ کی سونیترا پوار سے ملاقات

ان اداروں کا تعلق ممبئی، پونے، تھانے، یوتمل، ناگپور، چندرپور، بلڈانہ، لاتور، ناسک، سانگلی اور رائے گڑھ سمیت کم از کم ۱۴؍  اضلاع سے تھا۔ بعض معاملات میں ایک ہی ٹرسٹ کے تحت چلنے والے کئی اسکولوں کو ایک ہی سرٹیفکیٹ کے ذریعے اقلیتی درجہ دیا گیا تھا۔ یہ منظوری آئین ہند کے آرٹیکل ۳۰ (۱) اور قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے قانون ۲۰۰۴ء کی دفعہ ۲(جی) کے تحت دی گئی تھی۔ آئین کا آرٹیکل ۳۰ (۱) مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق دیتا ہے۔ اقلیتی درجہ رکھنے والے اداروں کو بعض قانونی اور انتظامی معاملات میں عام تعلیمی اداروں سے مختلف حقوق اور استثنیٰ حاصل ہوتے ہیں، جس کے باعث اس حیثیت کی منظوری کا عمل اہم سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ریاست میں پووتر پورٹل کے ذریعے اساتذہ بھرتی کےعمل کا آغاز

اس معاملے کے اثرات داخلوں پر بھی پڑے۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں ۲۰؍ ٹرسٹ کے اسکولوں کو عارضی طور پر آر ٹی ای داخلہ نظام میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ان ٹرسٹ کا اقلیتی درجہ جانچ مکمل ہونے تک روک دیا گیا تھا، جس کے باعث ان اسکولوں پر اقلیتی اداروں کو حاصل آر ٹی ای سے متعلق استثنیٰ لاگو نہیں رہا۔ نتیجتاً انہیں آر ٹی ای قانون کے تحت معاشی طور پر کمزور اور محروم طبقات کے بچوں کے لیے ۲۵؍ فیصد نشستیں مختص کرنا تھیں۔ نئی ہدایات اسی تنازع کے بعد اقلیتی درجہ دینے کے نظام میں انتظامی اصلاح کی کوشش سمجھی جارہی ہیں۔ حکومت کی موجودہ سمت میں درخواست کے مرحلے پر سخت جانچ، متعدد محکموں سے تصدیق، اعلیٰ سطحی نگرانی اور درجہ ملنے کے بعد باقاعدہ جائزہ شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK