Updated: August 11, 2026, 2:03 PM IST
| Malatya
ترکی کے شہر ملاتیا میں ایک منفرد مذہبی روایت گزشتہ ۳۱؍ برس سے جاری ہے۔ شہر کے اہم آبی مرکز گن دوز بے کپتاج (Gündüzbey Kaptaj) سہولت میں ۱۹۹۵ء سے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے ۲۴؍ گھنٹے بلا تعطل قرآن مجید کی تلاوت نشر کی جا رہی ہے۔ مقامی رپورٹس کے مطابق یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ پانی کی نعمت پر شکر ادا کرنے اور اس مقام کی روحانی فضا برقرار رکھنے کی نیت سے شروع کیا گیا تھا۔
ترکی کے شہر ملاتیا میں قرآن مجید کی تلاوت اور پانی کی ایک قدرتی سہولت سے جڑی ایک منفرد روایت نے ایک بار پھر لوگوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ گن دوز بے کپتاج نامی اس آبی مرکز میں گزشتہ ۳۱؍ سال سے ۲۴؍ گھنٹے قرآن مجید کی مسلسل تلاوت لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے نشر کی جا رہی ہے۔ یہ سلسلہ ۱۹۹۵ء میں شروع ہوا تھا اور آج بھی جاری ہے۔ یہ سہولت ملاتیا کے یشیل یورت (Yeşilyurt) علاقے میں واقع ہے اور بیَی داغی کے پہاڑی سلسلے سے آنے والے قدرتی چشمے کے پانی کو جمع کرکے شہر کے پینے کے پانی کے نظام تک پہنچاتی ہے۔ مقامی رپورٹ کے مطابق اس مقام پر نصب متعدد اسپیکروں سے دن رات تلاوت کی آواز پورے احاطے میں گونجتی رہتی ہے اور پانی کے بہاؤ کی آواز کے ساتھ مل کر ایک منفرد روحانی ماحول پیدا کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ملازمت ختم ہونے کے بعد ۶۰؍ دن کی مہلت ختم کرنے کی تجویز
اللہ کی نعمت پر شکرانے سے شروع ہوئی روایت
مقامی میڈیا کے مطابق قرآن مجید کی تلاوت کا یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ پانی کی نعمت پر شکر ادا کرنے کی نیت سے شروع کیا گیا تھا۔ اسے اس مقام کی حفاظت اور روحانی ماحول برقرار رکھنے کی ایک علامتی روایت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ تلاوت مختلف قرّاء کی ریکارڈ شدہ آوازوں کے ذریعے نشر کی جاتی ہے اور یہ سلسلہ دن رات جاری رہتا ہے۔ یہ روایت اس علاقے میں پانی کی غیر معمولی اہمیت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ مقامی رپورٹوں کے مطابق گن دوز بے کا چشمہ طویل عرصے سے ملاتیا کے لیے اہم آبی ذریعہ رہا ہے اور ۱۹۹۵ء میں جب اس پانی کو مکمل طور پر شہر کے پینے کے پانی کے نظام میں شامل کیا گیا تو اس مقام پر جاری سابقہ مذہبی روایات میں تبدیلی آئی، تاہم قرآن مجید کی تلاوت کا سلسلہ برقرار رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں ۳۰۰؍ دنوں میں ۳۰۰؍ بچوں کی موت ہوئی: یونیسیف
قدرتی چشمے سے شہر تک پانی
گن دوز بے کپتاج سے حاصل ہونے والا پانی پہاڑوں سے قدرتی طور پر آتا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق اسے بڑے پیمانے پر کیمیائی صفائی کے عمل سے گزارنے کی ضرورت نہیں پڑتی، تاہم شہر کے نظام میں شامل کرنے سے پہلے مقررہ معیار کے مطابق کلورینیشن کی جاتی ہے۔ ملاتیا کے سابق میئر صلاح الدین گورکان نے ۲۰۲۳ء میں گن دوز بے کپتاج کا معائنہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مقام سے موسم کے لحاظ سے تقریباً ۳۵۰۰؍ لیٹر فی سیکنڈ پانی مرکزی نظام کو فراہم کیا جا رہا تھا، جو بہار کے مہینوں میں تقریباً ۴۵۰۰؍ لیٹر فی سیکنڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ انہوں نے پانی کو صاف، قدرتی اور پینے کے قابل قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: کولمبیا: نئی حکومت کا اسرائیل سے معاشی تعلقات کی بحالی پر زور
زلزلوں کے باوجود چشمے کی اہمیت برقرار
گن دوز بے کا آبی نظام ۲۰۲۳ء کے تباہ کن زلزلوں کے دوران بھی خاص توجہ کا مرکز رہا۔ مقامی حکام کے مطابق زلزلوں کے بعد پانی کی سطح اور شفافیت میں عارضی تبدیلیاں دیکھی گئی تھیں، تاہم چشمے کا پانی دوبارہ بحال ہوگیا۔ مقامی رپورٹوں میں بتایا گیا کہ زلزلے کے بعد پانی کے عارضی طور پر غائب ہونے سے حکام میں تشویش پیدا ہوئی تھی، مگر بعد میں پانی دوبارہ وافر مقدار میں دستیاب ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ گن دوز بے کپتاج صرف ایک عام آبی سہولت نہیں بلکہ ملاتیا کے لیے بنیادی اہمیت رکھنے والا قدرتی وسیلہ سمجھا جاتا ہے۔ شہر کے پینے کے پانی کی فراہمی، قدرتی چشمے کی اہمیت اور تین دہائیوں سے جاری قرآن مجید کی تلاوت نے اس مقام کو ایک منفرد شناخت دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے اعلیٰ جنرل ایران جنگ سے نکلنے کے راستے کی تلاش میں؛ وسیع تر جوابی کارروائی کا خطرہ برقرار
۳۱؍ برس گزرنے کے بعد بھی یہاں نصب اسپیکروں سے تلاوت کا سلسلہ جاری ہے۔ پانی اپنے قدرتی بہاؤ کے ساتھ شہر کی جانب سفر کرتا ہے اور اسی مقام پر قرآن مجید کی آواز مسلسل سنائی دیتی رہتی ہے، ایک ایسی روایت جو پانی کی نعمت پر شکر، مذہبی عقیدت اور مقامی ثقافت کو ایک ہی جگہ جوڑتی ہے۔