Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملائیشیا: ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پر اکائونٹ بنانے پر پابندی

Updated: June 01, 2026, 4:03 PM IST | Kuala Lumpur

ملائیشیا نے یکم جون سے اپنے ملک میں ایک نیا قانون نافذ کر دیا ہے۔ اب۱۶؍ سال سے کم عمر کے بچے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں بنا سکیں گے۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کرنے سے پہلے عمر کی تصدیق (ایج ویریفکیشن) کرنا لازمی ہوگا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ملائیشیا نے پیر کو سے نافذ ہونے والے نئے آن لائن سیفٹی قواعد کے تحت بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کیلئے صارفین کی عمر کی تصدیق لازمی قرار دے دی ہے اور ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کو اکاؤنٹ بنانے سے روک دیا گیا ہے۔ فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ قواعد اُن پلیٹ فارمز پر لاگو ہوں گے جن کے اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں کم از کم۸۰؍ لاکھ صارفین ہیں، جن میں فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب شامل ہیں۔ تاہم، کمیونی کیشنز ریگولیٹر کے مطابق ان اقدامات پر عمل درآمد کیلئے پلیٹ فارمز کو کچھ مہلت دی جائے گی، جس کی مدت واضح نہیں کی گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران نے شیطانی سرگرمیوں کا حوالہ دے کر تہران کے مشہور کیفے کو بند کردیا

دنیا بھر میں بچوں کی فلاح و بہبود پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے باعث ملائیشیا بھی اُن ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو نوجوانوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملائیشین کمیونی کیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن کی ایک دستاویز کے مطابق متعلقہ پلیٹ فارمز کو ’عمر کی تصدیق کیلئےاقدامات‘کرنا ہوں گے، جن میں قومی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ جیسے سرکاری ریکارڈ کے ذریعے تصدیق شامل ہے۔ ایم سی ایم سی کے مطابق، قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر ایک کروڑ ملائیشین رنگٹ (تقریباً۲۵؍ لاکھ ڈالر) تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے ایبولا کے باعث سفری پابندیوں کے خلاف خبردار کیا

عالمی رجحان
آسٹریلیا دسمبر میں ایسا قانون نافذ کرنے والا پہلا ملک بنا جس نے ٹک ٹاک، یوٹیوب، سنیپ چیٹ اور دیگر بڑی ویب سائٹس کو ۱۶؍ سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس ختم کرنے یا بھاری جرمانے دینے کا پابند کیا۔ انڈونیشیا نے بھی اسی طرح پلیٹ فارمز کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مارچ میں ۱۶؍ سال سے کم عمر افراد پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی۔ انڈونیشیا کے علاوہ ترکی، ناروے، یونان، فرانس، اسپین اور ڈنمارک سمیت کئی یورپی ممالک نے بھی ایسی ہی پابندیاں متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: فرانس: پی ایس جی کی فتح کا جشن تشدد میں تبدیل، کئی شہروں میں پولیس کی کارروائی

’مکمل پابندی‘ پر تنقید
برطانیہ میں قائم آزادیٔ اظہار کی تنظیم آرٹیکل۱۹؍ اور دیگر گروپوں نے جمعے کو ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ’بچوں کو ڈجیٹل دنیا تک رسائی سے محروم نہیں کیا جانا چاہئے، بلکہ انہیں محفوظ انداز میں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ یہ رسائی ملنی چاہئے۔ ‘تنظیم کے مطابق، سوشل میڈیا پر مجوزہ مکمل پابندی ان کمپنیوں کے کاروباری ماڈلز اور بنیادی مسائل کو حل نہیں کرتی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK