اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر اسرائیل کا ظلم بڑھتا جارہا ہے، جبکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ خطے میںنسلی امتیازاور ظلم کو روکنے کے اقدامات کرے۔
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 1:14 PM IST | Jerusalem
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر اسرائیل کا ظلم بڑھتا جارہا ہے، جبکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ خطے میںنسلی امتیازاور ظلم کو روکنے کے اقدامات کرے۔
اقوام متحدہ کےانسانی حقوق کے دفتر کی جانب سے اس ہفتے جاری ہونے والی ایک جامع رپورٹ میں مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی کے ہر پہلو پر اسرائیل کے متعصب قوانین، پالیسیوں اور طریقہ کار کے اثرات کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کے تحت اس پر نسلی امتیاز اور ظلم کو ممنوع قرار دینے اور ختم کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔مقبوضہ فلسطینی علاقے میں فلسطینیوں کے خلاف حکام کی جانب سے جاری امتیاز ایک طویل عرصے سے تشویش کا باعث ہے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے، اور یہ کہ کم از کم دسمبر ۲۰۲۲ء سے صورتحال میں ڈرامائی طور پر بگاڑ آیا ہے۔ رپورٹ میں متعدد واضح مثالیں موجود ہیں کہ کس طرح فلسطینیوں کی زندگی تیزی سے محدود اور غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ پر اسرائیلی حملے، ۲۴؍ گھنٹوں میں ۱۴؍ فلسطینی شہید
رپورٹ کے مطابق، ’’اسرائیلی حکام مغربی کنارے میں رہنے والے غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے ساتھ دو الگ الگ قوانین اور پالیسیوں کے تحت سلوک کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں نقل و حرکت اور زمین و پانی جیسے وسائل تک رسائی سمیت اہم مسائل پر غیر مساوی سلوک ہوتا ہے۔ فلسطینیوں کی زمینوں کی بڑے پیمانے پر ضبطی اور وسائل تک رسائی سے محرومی جاری ہے۔ اس کا اثر انہیں ان کی زمینوں اور گھروں سے بے دخل کرنا ہے، جو سرکاری سطح پر امتیاز کی دیگر اقسام کے ساتھ ہوتا ہے، بشمول فوجی عدالتوں میں ان کے خلاف فوجداری مقدمات جن کے دوران ان کے حق سماعت اور منصفانہ مقدمے کے حقوق کو سرکاری طور پر پامال کیا جاتا ہے۔خیال کیا جارہا ہے کہ اس نسلی امتیاز کی معقول بنیادیں موجود ہیں کہ تعصب، تفریق اور تابع داری کا مقصد مستقل بنیادوں پر فلسطینیوں پر ظلم اور غلبہ برقرار رکھنا ہے۔ ‘‘ایسی پالیسی کو برقرار رکھنے کے ارادے سے کیے گئے اقدامات آئی سی ای آر ڈی (تمام اقسام کے نسلی امتیاز کے خاتمے کا بین الاقوامی کنونشن) کے آرٹیکل 3 کی خلاف ورزی ہیں، جو نسلی امتیازاورـظلم کو ممنوع قرار دیتا ہے۔واضح رہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے، اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی طاقت کے استعمال، غیر قانونی حراستوں اور تشدد، سول سوسائٹی پر دباؤ اور میڈیا کی آزادیوں پر ناجائز پابندیوں، سخت نقل و حرکت کی پابندیوں، غیر قانونی آبادکاریوں کے توسیعی اقدامات اور متعلقہ خلاف ورزیوں میں مزید اضافہ کیا ہے، جس نے وہاں انسانی حقوق کی صورتحال کو بدترین بنا دیا ہے، اور بہت سے معاملات میں اسرائیلی سیکیورٹی فورسیز(آئی ایس ایف) کی خاموشی، حمایت اور شرکت کے ساتھ غیر قانونی یہودی آبادکاروں کے تشدد میں مسلسل اضافے سے مزید بڑھ گیا ہے ۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے نئی یہودی بستیوں سے متعلق ٹینڈر جاری کیا
رپو رٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف نافذ فوجی انصاف کا نظام اسرائیلی سول قانون کے مقابلے میں کم یا کوئی انسانی حقوق کا تحفظ فراہم نہیں کرتا، دوسری جانب آبادکاروں کے لیے کہیں زیادہ تحفظ فراہم کرتا ہے۔ فوجی قانونی نظام مقبوضہمغربی کنارے میں فلسطینیوں کو کنٹرول کرنے کا ایک اہم آلہ ہے۔‘‘رپورٹ میں غیر قانونی قتل اور ریاستی و آبادکار تشدد کی دیگر اقسام کے رجحانات کا بھی ذکر ہے اور اس کے ثبوت کے طور پر متعدد مثالیں دی گئی ہیں۔ ان میں ایک دس سالہ بچے صدام حسین اور ۲۳ سالہ حاملہ سندس شلبی کو بلا کسی وجہ گولی مار کرہلاک کر دیا گیا، بعد میں کہا گیا کہ وہ مشکوک نگاہوں سے زمین کی جانب دیکھ رہے تھے ۔ آئی ایس ایف نے یہ بھی تسلیم کیا کہ خاتون بے ضرر تھی اور اس کے قریب کوئی آئی ای ڈی نہیں ملا۔
اس کے علاوہ نقل و حرکت پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔ ایک جانب نئی سڑکوں کی تعمیر ہے جو یہودی بستیوں کو آپس میں جوڑتی ہیں، دوسری جانب وہی سڑکیں فلسطینی بستیوں کو ایک دوسرے سے علاحدہ کردیا ہے۔ان سڑکوں پر فلسطینیوں کا چلنا ممنوع ہے۔اس کے علاوہ مغربی کنارے میں ہزاروں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا ہے، جو ایک جنگی جرم ہے۔رپورٹ کے مطابق فلسطینی اپنے قدرتی وسائل سے بھی محروم ہیں۔ مثال کے طور پر، اسرائیل غیر قانونی طور پر فلسطینی آبی ذخائر کوضبط کرتا ہے، اور پانی کو یہودی آبادی کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اس پر مجبور ہو کر فلسطینی اتھارٹی کو ایک اسرائیلی سرکاری کمپنی سے بڑی مقدار میں پانی خریدنا پڑتا ہے جو مقبوضہ مغربی کنارے سے پانی نکالتی ہے۔
اقوام متحدہ کےانسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا، ’’خواہ پانی تک رسائی ہو، اسکول جانا ہو، اسپتال پہنچنا ہو، خاندان یا دوستوں سے ملنا ہو، یا زیتون کی کٹائی ہو مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زندگی کا ہر پہلو اسرائیل کے امتیازی قوانین، پالیسیوں اور طریقہ کار کے ذریعے کنٹرول اور محدود کیا جاتا ہے۔یہ نسلی امتیاز اور علاحدگی کیبدترین شکل ہے، جو اس قسم کے ظلم پر مبنی نظام جیسی ہے جسے ہم نے پہلے نہیں دیکھا ہے۔اس نظام کے تحت فلسطینیوں پر ظلم پر سزا نہ ہونا عام ہے،اور قتل ، تشدد جیسے جرم کے ہزاروں معاملات پریا تو مقدمہ چلتا ہی نہیں، اور شاذو نادر کسی معاملے میں مقدمہ چلتا بھی ہے تو سزا نہیں ہوتی۔ اسرائیلی حکام اور آبادکاروں نے فلسطینی زمین کے ہزاروں ہیکٹرز پر قبضہ کیا ہے جن میں سے زیادہ تر نئی اسرائیلی آبادکاریاں یا آؤٹ پوسٹ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔
وولکر نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی حکام کو ان تمام قوانین، پالیسیوں اور طریقہ کار کو منسوخ کرنا چاہیے جو نسل، مذہب یا نسل کی بنیاد پر فلسطینیوں کے خلاف سرکاری امتیاز کو دوام بخشتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی حکام پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اپنی غیر قانونی موجودگی کا خاتمہ کریں، بشمول تمام آباد کاریوں کو ختم کرنا اور تمام آبادکاروں کو نکالنا، اوراسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کا احترام کرے۔