ایف ڈی اے کو ہدایت دی کہ وہ سرکاری، نیم سرکاری یا نجی اداروں کے خلاف کارروائی کرتے وقت منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور یکساں رویہ اختیار کرے ۔ ۳؍ کورٹ کینٹین ،شہرو مضافات کے ہوٹلوں اور دیگر فوڈ اسٹیبلشمنٹ پر کارروائیوں کا چارٹ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے پیش کیا ۔عدالت نے۴؍ وکلاء کے ہمراہ ہائی کورٹ کی کینٹین کاازسرنو معائنہ کی ہدایت دی۔
منترالیہ کی کینٹین جسے ایف ڈی اے نے صاف ستھری ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا ہے۔ (تصویر: انقلاب)
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن(ایف ڈی اے ) کی کارروائیوں کے خلاف ایک سے زائد فوڈ اسٹیبلشمنٹ جس میں ’پورنیما ریسٹورنٹ‘ اور نوی ممبئی کے’ پارک ان ریڈیسن‘ کے مالکان شامل ہیں ،کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت پر شنوائی کا سلسلہ جاری ہے ۔ جمعہ کو ہونے والی شنوائی کے دوران ایک طرف کورٹ نےبامبے بار اسوسی ایشن کے ۴؍ وکلاء کے ہمراہ ایک بار پھر ہائی کورٹ کینٹین کا از سر نو جائزہ لینے کی ہدایت دی تو دوسری طرف منترالیہ کی کینٹین کو ۹۸؍ فیصد صاف ستھری ہونے کا سرٹیفکیٹ دینے پر بے اطمینانی کا اظہار بھی کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ۴۶؍ ویں برسی پر عظیم گلوکار محمد رفیع کو جذباتی انداز میں خراج عقیدت پیش کیا گیا
بامبے ہائی کورٹ کے کار گزار چیف جسٹس رویندر وی گھوگھے اور جسٹس گوتم انکھڈنے ایف ڈی اے کی شہری اور ریاستی سطح پر فوڈ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مسلسل کی جانے والی کارروائیوں پر سماعت کرتے ہوئےیہ بھی کہا کہ’’ہوٹل اور ریسٹورنٹ کے علاوہ دیگر فوڈ اسٹیبلشمنٹ پر کی جانے والی کارروائیوں جس میں سرکاری ، نیم سرکاری اور نجی ادارے بھی شامل ہیں کے خلاف یکساں ،منصفانہ اور غیر جانبدارانہ کارروائی کی جانی چاہئے ۔‘‘ دوران سماعت جب کورٹ کو منترالیہ کی کینٹین میں کی جانے والی کارروائی کے بعد اسے ۹۸؍ فیصد صاف ستھری کا سرٹیفکیٹ دینے کی اطلاع دی گئی تو اس پر کورٹ نے بے اطمینانی کا اظہار کیا ۔
اسی طرح ہائی کورٹ کینٹین سے متعلق جمعرات کو ایف ڈی اے کے ذریعہ معائنہ کئے جانے اور کسی بھی قسم کا اعتراض نہ کرنے کے علاوہ بامبے بار اسوسی ایشن کے رضا کارانہ طور پر چند دنوں کے لئے کینٹین کو بند کئے جانے کے فیصلہ کی اطلاع ملنے پر بار کونسل کے ۴؍ وکلاء کو ایف ڈی اے کی ٹیم کے ہمراہ ہائی کورٹ کی کینٹین کا از سر نومعائنہ کرنے کی ہدایت دی اور عدالت کے روبرو کئے جانے والے معائنہ کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ساتھ ہی کورٹ نے جمعرات کو ہائی کورٹ کینٹین کےکئے گئے معائنہ کے دوران لی گئی تصویریں اور ویڈیوز بھی عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی۔
یہ بھی پڑھئے: متواتر بارش کے سبب ممبئی میں ڈینگواور ملیریا کا زور
دوران سماعت ایف ڈی اے نے عدالت کے روبرو ایک چارٹ پیش کیا جس میں شہر کے مختلف ہوٹلوں، ریسٹورنٹ، کینٹین جس میں ہائی کورٹ کے علاوہ دیگر کورٹ کی ۳؍ کینٹین، منترالیہ کینٹین اور مختلف نجی کلبوں کی تفصیلات موجود تھیں۔اس چارٹ میںمنترالیہ کینٹین میں کئے گئے معائنہ اور ۹۸؍ فیصد صاف ستھری ہونے کے سرٹیفکیٹ کی تفصیل بھی شامل تھی جس پر اعتراض کرتے ہوئے عدالت نے ایجنسی سے کہا کہ ’’کارروائی کرتے وقت سب کے ساتھ یکساں اور منصفانہ رویہ اختیار کیا جانا چاہئے۔ آپ صرف نجی اداروں کو نشانہ نہیں بنا سکتے۔ہم شہریوں کی صحت کے تحفظ کے پیش نظر ایف ڈی اے کی کارروائیو ں کو سراہاتے ہیں لیکن کسی ایک فریق کی جانب جھکاؤ نہیں ہونا چاہئے ۔ اس لئے ایجنسی کو غیر جانبدار اور منصفانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ اس بات کی نشاندہی کورٹ نے اس لئے بھی کی ہے کہ کچھ معاملات میںایف ڈی اے نے پہلے اصلاحی نوٹس جاری کیا لیکن چند دیگر معاملات میں اسے نظر انداز کرتے ہوئے براہِ راست معطلی کا نوٹس جاری کیا تھا ۔‘‘