• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیڑ، جالنہ اور اورنگ آباد کے مختلف علاقوں میں کسانوں کا زبردست احتجاج

Updated: September 23, 2026, 12:07 PM IST | ZA Khan | Beed

ڈیڑھ گھنٹے تک راستہ روکو آندولن کیا۔ بیل گاڑی مارچ نکالا۔ سوکھی فصلیں لے کر کلکٹر دفتر پہنچے۔ حکومت سے خشک سالی کا اعلان کرنے اور متاثرین کو فوری امداد دینے کاپُرزور مطالبہ۔

Farmers protesting in Aurangabad. Photo: Inquilab
اورنگ آباد میں کسان احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر: انقلاب

ساڑھے ۳؍ ماہ سے بارش نہ ہونے کے باعث ریاست کے مختلف اضلاع میں خریف کی فصلیں تباہ ہونے لگی ہیں۔ فصلیں سوکھ جانے، مویشیوں کیلئے چارے ،پانی کی قلت اور انتظامیہ کی عدم توجہی کے خلاف کسانوں کا غصہ اب سڑکوں پر نظر آنے لگا ہے۔ بیڑ، جالنہ اور اورنگ آباد سمیت مختلف علاقوں میں کسانوں اور کسان تنظیموں کی جانب سے احتجاج، راستہ روکوآندولن  اور مارچ کیا گیا۔

 ڈیڑھ گھنٹے تک راستہ روکواحتجاج ۔ حکومت سے کئی مطالبات 

بارش نہ ہونے  سے فصلیں تباہ ہونے اور مالی مشکلات کا سامنا کرنے والے کسانوں نے کسان سنگھرش سمیتی کے ضلع کنوینر سنجے پاٹل دودھگاؤںکر کی قیادت میں تعلقہ کے یڈشی میں شولاپور- اورنگ آباد قومی شاہراہ پر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک راستہ روکو احتجاج کیا۔کسانوں کا مطالبہ ہے کہ ضلع میں فوری طور پر ’خشک سالی‘ کا اعلان کرتے ہوئے فی ہیکٹر۵۰؍ ہزار روپے کی امداد دی جائے۔ باقاعدگی سے قرض کی ادائیگی کرنے والے کسانوں کو دو لاکھ روپے کی امداد دی جائے، فصل بیمہ کے منسوخ کئے گئے چاروں ٹریگر دوبارہ نافذ کرکے۲۵؍ فیصد پیشگی رقم ادا کی جائے اور۲۰۰۹ء سے ۲۰۲۶ء کے دوران امداد سے محروم کسانوں کو مکمل قرض معافی دی جائے۔ اس کے علاوہ ضلع میں فوری طور پر مصنوعی بارش کا انتظام کرنے، زراعت کیلئے دن کے وقت مسلسل ۸؍ گھنٹے بجلی فراہم کرنے، زرعی پیداوار کو کم از کم امدادی قیمت دلانے کیلئے قانون بنانے اور گنے  اور گڑ پاؤڈر بنانے والی فیکٹریوں کو ایف آر پی کے دائرے میں لاتے ہوئے بقایا رقم فوری ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: جموئی میں طالبہ کے ساتھ بدسلوکی کرنےوالے ۲؍ ملزمین کاانکاؤنٹر، ملزم کے پیر میں گولی لگی

بیڑ میں بیل گاڑی مارچ

بیڑ ضلع میں خشک سالی کا اعلان کرکے کسانوں کو فی ہیکٹر ۵۰؍ہزار روپے کی فوری امداد دینے سمیت مختلف مطالبات کیلئے کسان مزدور پارٹی کی جانب سے منگل کو تحصیل دفتر تک بیل گاڑی مارچ نکالا گیا۔ مذکورہ پارٹی کے ریاستی سیکریٹری منڈل کے رکن بھائی موہن گنڈ کی قیادت میں دوپہر۱۲؍ بجے کیج شہر کے ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر چوک سے اس مارچ کا آغاز ہوا۔ مظاہرین نے  مویشیوں کیلئے فوری طور پر چارے کا انتظام کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ 

کسان سوکھی فصلیں ہاتھ میں لے کر کلکٹر کےدفتر پہنچے 

  خریف کی فصلیں تباہ ہونے سے کسان سخت پریشان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات پر کیا گیا خرچ بھی واپس ملنے کی امید نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی قرض کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے اور آئندہ ربیع سیزن کیلئے رقم کا انتظام کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے۵؍ اکتوبر کے بعد فصلوں کے پنچ نامے اور این ڈی آر ایف کے ضوابط کے تحت امداد فراہم کرنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ اس پس منظر میں پریشان کسان منگل کو سوکھی اور تباہ شدہ فصلیں ہاتھ میں لے کر کلکٹر دفتر پہنچے اور اپنے شدیدغصے کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھئے:پانچ دنوں تک پولیس حراست میں رکھنا بھاری پڑا، ہائی کورٹ برہم، یوگی سرکار پر۵۰؍ ہزار کا جرمانہ

جالنہ میں سوکھی سویا بین، کپاس اور مکئی لے کر مارچ

سوابھیمانی کسان سنگھٹنا کی قیادت میں کسانوں نے سویا بین، کپاس، تور اور مکئی سمیت سوکھی ہوئی فصلیں ہاتھ میں لے کر امبد چوفلی سے ضلع کلکٹر دفتر تک مارچ کیا۔ شدید دھوپ،۳۲؍ ڈگری درجہ حرارت اور حبس کے باوجود یہ احتجاج تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔اس دوران مختلف نعروں سے پورا علاقہ گونج اٹھا اور کچھ دیر کیلئے ٹریفک بھی متاثر ہوا۔  مظاہرین کے جارحانہ رویے کے پیش نظر پولیس نے انہیں ضلع کلکٹر دفتر کے داخلی دروازے پر ہی روک دیا۔اس موقع پر نائب تحصیلدار پی ڈی شندے کو سوکھی سویا بین اور کپاس کی پَروالی کے ساتھ تحریری مطالبات پیش کئے گئے۔ بعد ازاں مظاہرین نے رہائشی ڈپٹی کلکٹر ششی کانت ہدگل سے بھی ملاقات کرکے انہیں   مکتوب دیا۔کسانوں نے فوری طور پر خشک سالی کا اعلان کرنے، فی ہیکٹر ایک لاکھ روپے مالی امداد دینے اور فصل بیمہ کی رقم فوری طور پر کسانوں کے بینک کھاتوں میں جمع کرانے کا مطالبہ کیا۔سوابھیمانی کسان سنگھٹنا کے نوجوان ریاستی صدر میور بورڈے اور ضلع صدر سریش کالے نے انتباہ دیا کہ ایک ہفتے کے اندر خشک سالی کا اعلان کرکے فوری امداد فراہم نہ کی گئی تو جالنہ ضلع میں کسی بھی وزیر کو دورہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ انہوں نے ضرورت پڑنے پر وزیر زراعت کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج کرنے کا بھی انتباہ دیا۔

ناندیڑ میں خشک سالی سے متعلق جائزہ اجلاس کے دوران وزیر اور عوامی نمائندوں کے مبینہ طور پر کاجو بادام کھانے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد کسانوں میں ناراضگی کی خبر ہے۔ اس کا اثر جالنہ کے احتجاج میں بھی نظر آیا جہاں کسانوں نے اپنے مطالبات کے مکتوب کے ساتھ پتے پر گیلے بادام پیش کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔

سنگم نیر میں جن آکروش مورچہ

اسی طرح  سنگم نیر میں بھی منگل کو سینئر کانگریس لیڈر بالا صاحب تھورات کی قیادت میں کسانوں نےجن آکروش مورچہ نکالا اور خشک سالی کا اعلان کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے:جموئی میں طالبہ کے ساتھ بدسلوکی کرنےوالے ۲؍ ملزمین کاانکاؤنٹر، ملزم کے پیر میں گولی لگی

کَنّڑ اور سویاگاؤں میں بھی احتجاج

اورنگ آباد کے کَنّڑ اور سویاگاؤں تعلقوں میں بارش کی کمی کے باعث خریف کا سیزن شدید متاثر ہوا ہے جس کے نتیجے میں کسان پریشان ہیں۔ ان دونوں تعلقوں میں خشک سالی کا اعلان کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس کی جانب سے منگل کو  کَنّڑ کے پِشور ناکہ پر احتجاج کیا گیا۔ کانگریس کے سابق رکن اسمبلی نام دیوراؤ پوار، بلدیہ صدر فرین بیگم، کارپوریٹر عبدالجاوید اور یعقوب شیخ کی قیادت میں کئے گئے اس احتجاج میں کسان سوکھی ہوئی فصلیں لے کر پہنچے۔ یعقوب شیخ نے الزام عائد کیا کہ موجودہ سیاسی قیادت تعلقہ کے مسائل حل کرنے میں انتہائی غیر موثر ثابت ہوئی ہے۔  

 پانی اور چارے کی صورتحال کا جائزہ

جالنہ ضلع میں ممکنہ پانی کی قلت کے پیش نظر انتظامیہ کو ابھی سے خشک سالی سے نمٹنے کیلئے پیشگی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سرپرست وزیر اور وزیر ماحولیات     پنکجا منڈے کی جانب سے یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔انہوں نے منگل کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے جالنہ  میں پانی کی قلت اور چارے کی دستیابی کا جائزہ لیا۔

ریاست پر خشک سالی کا سایہ، کابینہ کے اجلاس میں۵؍ بڑے اور اہم فیصلے

 ریاست میں خشک سالی سے نمٹنے کے اقدامات کیلئے کابینہ کی ذیلی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وزیر محصولات چندر شیکھر باونکولے اس ذیلی کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے کہا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کو وقتاً فوقتاً فیصلے کرنے کے تمام اختیارات حاصل ہوں گے اور سنیچر تک ابتدائی نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔ ریاستی حکومت کے وزراء ڈیم کا دورہ کریں گے اور اس کا معائنہ کریں گے۔ اس سے کسانوں کو امداد فراہم کرنے کے کام میں تیزی آئے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK