Updated: November 03, 2026, 8:35 PM IST
| Lhasa
ماؤنٹ ایورسٹ پر سال بھر مائیکرو پلاسٹک اور نینو پلاسٹک کے ذرات گر رہے ہیں جو ممکنہ طور پر زہریلے ہوسکتے ہیں۔ سائنسدانوں کا تخمینہ ہے کہ تبت کی سطح مرتفع پر ۴۰۰۰ میٹر سے زیادہ کی بلندی پر ہر سال ۵۶ ٹن سے زیادہ مائیکرو پلاسٹک ذرات جمع ہو سکتے ہیں۔ تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایورسٹ پر پلاسٹک صرف کوہ پیماؤں اور سیاحت کی وجہ سے جمع نہیں ہو رہا، بلکہ فضائی گردش کے ذریعے بھی آ رہا ہے۔
چینی محققین کی جانب سے ’کمیونیکیشنز ارتھ اینڈ انوائرنمنٹ‘ نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، ماؤنٹ ایورسٹ پر سال بھر مائیکرو پلاسٹک اور نینو پلاسٹک کے ذرات گر رہے ہیں جو ممکنہ طور پر زہریلے ہوسکتے ہیں۔ مائیکرو پلاسٹک ۵ ملی میٹر سے چھوٹے پلاسٹک کے ٹکڑے ہوتے ہیں۔ اب یہ دنیا کی بلند ترین پہاڑی چوٹیوں سے لے کر گہرے ترین سمندروں تک، پورے کرہ ارض پر پائے جاتے ہیں۔ تحقیقات نے خبردار کیا ہے کہ یہ ماحولیاتی اور عوامی صحت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ سائنسی مطالعات کے مطابق، ان ذرات کی وجہ سے انسانوں اور جانوروں میں سوزش، ڈی این اے کو نقصان اور ہارمونز کے بگاڑ کا خدشہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اس سے قبل کی تحقیق میں ایورسٹ کے ارد گرد برف اور ندی کے پانی میں ایسے ذرات کا سراغ لگایا گیا تھا، لیکن اس پھیلاؤ کی مکمل وسعت واضح نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھئے: آج کی سبزیوں، ترکاریوں میں گزشتہ ۶۰؍ سال کے مقابلے غذائیت نصف سے بھی کم رہ گئیں، مٹی کا معیار وجہ
اس نئی تحقیق کے تحت، محققین نے ایورسٹ کی شمالی ڈھلوان پر مہینوں تک نگرانی کی اور نتائج میں پایا کہ تبت میں ایک اونچائی پر واقع ریسرچ سینٹر، قومولانگما اسٹیشن (Qomolangma Station) پر روزانہ ۶۴ مائیکرو پلاسٹک ذرات فی مربع میٹر گرے، جبکہ ایورسٹ بیس کیمپ پر یہ شرح ۲۳ ذرات فی مربع میٹر یومیہ تھی۔ سب سے عام پائے جانے والے ذرات پولی امائیڈ، پولی ایتھیلین ٹیرفتھلیٹ اور پولی ایتھیلین تھے۔ قومولانگما اسٹیشن پر نینو پلاسٹک بھی زیادہ مقدار میں موجود تھے، جن میں پولی ایتھیلین، پولی ایتھیلین ٹیرفتھلیٹ، پولی ونائل کلورائیڈ اور پولی پروپیلین شامل ہیں۔ سائنسدانوں کا تخمینہ ہے کہ تبتی سطح مرتفع پر ۴۰۰۰ میٹر سے زیادہ کی بلندی پر ہر سال ۵۶ ٹن سے زیادہ مائیکرو پلاسٹک ذرات جمع ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پرتگال کے جزیرے کورفو میں ننھے پرندوں کی پہلی پرواز بچانے کیلئے روشنیاں بجھا دی جاتی ہیں
فضائی گردش اور مانسون کا کردار
تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایورسٹ پر پلاسٹک صرف کوہ پیماؤں اور سیاحت کی وجہ سے جمع نہیں ہو رہا، بلکہ فضائی گردش کے ذریعے بھی آ رہا ہے۔ یہ فضائی گردش، آلودگی کو مسلسل ”تھرڈ پول“ (تیسرے قطب) تک لے جا رہی ہے جو آرکٹک اور انٹارکٹیکا کے بعد سب سے بڑے برفانی ذخائر والا خطہ ہے۔ مانسون کے ادوار نے گیلی تہہ نشینی (wet deposition) کے ذریعے مائیکرو پلاسٹک کی مقدار میں اضافہ کیا ہے، اس عمل میں بارش، برف یا دھند ہوا میں معلق ذرات کو سطح پر نیچے لے آتی ہے۔ محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ یہ نتائج فضا کو تھرڈ پول تک پلاسٹک کی منتقلی کا ایک مؤثر راستہ قرار دیتے ہیں، جس سے ممکنہ ماحولیاتی خطرات لاحق ہیں۔