سماجوادی پارٹی مہاراشٹر کے صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے پیر کو مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم سے ملاقات کی جس کے دوران انہوںنے مطالبہ کیا کہ اقلیتی طبقےکے اہل ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نہ کاٹے جائیںجس پر چیف الیکٹورل آفیسر نے یقین دلایاکہ جو اسپیشل انٹینسیو ریویژن ( ایس آئی آر ) کیا جانے والا ہے۔
ابوعاصم اعظمی چیف الیکٹورل آفیسر چوکلنگم کے ہمراہ۔ تصویر:آئی این این
سماجوادی پارٹی مہاراشٹر کے صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے پیر کو مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم سے ملاقات کی جس کے دوران انہوںنے مطالبہ کیا کہ اقلیتی طبقےکے اہل ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے نہ کاٹے جائیںجس پر چیف الیکٹورل آفیسر نے یقین دلایاکہ جو اسپیشل انٹینسیو ریویژن ( ایس آئی آر ) کیا جانے والا ہے ، یہ کسی ووٹر کا نام کاٹنے کیلئے نہیں بلکہ حقیقی ووٹر کا نام برقرار رکھنے اور ایک سے زیادہ مرتبہ آنے والوں ناموں کو ایک ہی جگہ رکھنے ،جو ووٹر انتقال کر چکے ہیں ،ان کا نام نکالنے کیلئے کیاجارہا ہے۔ انہوںنے یہ بھی بتایاکہ ابھی ایس آئی آر شروع نہیں ہوا ہے لیکن اس سے قبل کی کارروائی ۲۰۰۲ء اور ابھی کے ووٹر کی تفصیل جسے ’ووٹر میپنگ‘ کہتے ہیں، وہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ میں شہیدوں کی تعداد ۷۲؍ ہزار ۳۰۰؍ سے تجاوز، اسرائیلی جارحیت جاری
چیف الیکٹورل آفیسر نے ابو عاصم اعظمی کو یقین دلایا کہ بلا وجہ کسی ووٹر کا نام نکالا نہیں جائے گا۔چیف الیکٹورل آفیسر سے ملاقات کے بعد ابو عاصم اعظمی نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ ’’ افسر نے یقین دلایاہےکہ بی ایل او ووٹر کے گھر پر ایک دو نہیںبلکہ ۳؍ مرتبہ جاکر اس کی تصدیق کریں گے کہ وہ ووٹر لسٹ میں دیئے گئے پتہ پر رہتا ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ جن ووٹروں کا نام ۲۰۰۲ء کی اور موجودہ ووٹرلسٹ میں موجود ہے ، انہیں کوئی ثبوت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور ان کا نام ایس آئی آر سے نہیں کاٹا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:کسانوں کے احتجاج پر سرکار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور،ٹکیت کی رہائی
اسی طرح جن ووٹروں کے نام موجودہ ووٹر لسٹ میں ہے لیکن ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میںنہیں لیکن ان کے والدیا والدہ یا دادا یادادی یا نانا یانانی کانام ہے تو ان کا بھی نام ایس آئی آر سے نہیں نکالا جائے گا۔ اس کے علاوہ اگر کسی شخص کا موجودہ ووٹر لسٹ میںنام ہے لیکن ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ میں نہیں ہے ، اس کا اور نہ ہی متذکورہ بالا کسی رشتہ دار کانام نہیں تب بھی وہ ۱۲؍ دستاویزات میں سے کسی ایک ، ۲؍ یا ۳؍ دستاویز کی بنیاد پر اپنا نام ایس آئی آر میں درج کروا سکتا ہے۔ اس لئے شہریوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘