یہ کلیان کے ڈاکٹر بلال قاضی کی کہانی ہے جنہوں نے۱۰؍ ویں میں اپنی والدہ کی موت کے بعد کینسر کے خلاف جنگ چھیڑ نے کا عزم کیا۔
EPAPER
Updated: April 05, 2026, 10:44 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai
یہ کلیان کے ڈاکٹر بلال قاضی کی کہانی ہے جنہوں نے۱۰؍ ویں میں اپنی والدہ کی موت کے بعد کینسر کے خلاف جنگ چھیڑ نے کا عزم کیا۔
کہتے ہیں کہ اگر انسان کے ارادے بلند ہوں اور نیت میں خلوص ہو تو وہ اپنی زندگی کے سب سے بڑے دکھ کو بھی دوسروں کے لئے سکھ کا ذریعہ بناسکتا ہے۔ ایسی ہی ایک جیتی جاگتی مثال نیشنل ہاسپٹل کلیان کے نوجوان معالج ڈاکٹر بلال قاضی ہیں جنہوں نے خون کے کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ ڈاکٹر بلال کی کہانی محض ڈگریوں اور کامیابیوں کی داستان نہیں بلکہ ایک بیٹے کے اس عہد کی کہانی ہے جو انہوں نے اپنی والدہ کی وفات پر کیا تھا۔ جب وہ دسویں جماعت کے طالب علم تھے تو ان کی والدہ خون کے کینسر کے باعث موت ہوگئی تھی۔ اس صدمے نے ان کے ننھے دل میں یہ عزم پیدا کیا کہ وہ مستقبل میں کینسر کے خلاف لڑیں گے تاکہ کسی اور کا گھر اس طرح نہ اجڑے جیسا ان کا اجڑا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’آلودہ پانی کی شکایتوں کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے‘‘
خون کے کینسر اور بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کے شعبے میں نوجوان معالج ڈاکٹر بلال قاضی اپنی مہارت اور جدید طبی خدمات کے باعث تیزی سے ایک نمایاں نام کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ سیلولر تھیراپی اور جدید پیوندکاری جیسے پیچیدہ طریقۂ علاج میں مہارت رکھنے والے چند ماہرین میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان جدید طبی طریقوں کی مدد سے خون کے کینسر اور بون میرو سے متعلق کئی پیچیدہ بیماریوں کے علاج میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر بلال قاضی نے احمد نگر کے پی ڈی وی وی پی ایف میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے کولکاتا کے این آر ایس میڈیکل کالج سے میڈیسن میں ایم ڈی کی ڈگری مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے خون کی بیماریوں کے علاج کے خصوصی شعبہ یعنی کلینکل ہیماٹولوجی میں اپنی تحقیق کا آغاز کیا۔ جدید طبی وسائل کے ساتھ ۳ ؍برس تک خون کے کینسر کی مختلف اقسام کے علاج کے طریقوں پر تحقیق کرنے کے بعد انہیں اس میدان میں ڈی ایم کی اعلیٰ سند سے نوازا گیا۔آج ڈاکٹر بلال قاضی ممبئی میں کلینکل ہیماٹولوجی اور بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کے میدان میں ایک معتبر نام بن چکے ہیں۔
نمائندۂ انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر بلال نے اپنے اس سفر کی ایک جذباتی داستان بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ ساتویں جماعت میں تھے تو ان کی والدہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو گئیں۔ ابتدا میں ڈاکٹروں نے اس بیماری کو ٹی بی سمجھ کر علاج شروع کیا لیکن بعد میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔ تشخیص میں تاخیر کے باعث بروقت علاج ممکن نہ ہو سکا اور بالآخر ۳؍ سال بعد ان کا انتقال ہو گیا۔
ڈاکٹر بلال کے مطابق یہی سانحہ ان کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ انہوں نے اسی وقت یہ عزم کیا کہ وہ خون کے کینسر کے علاج کے شعبہ میں ماہر بن کر لوگوں کی جان بچانے کے لئے اپنی زندگی وقف کریں گے۔بقول ڈاکٹر بلال ’’اگر ہم اپنے ذاتی دکھ کو انسانیت کے دکھ سے جوڑ دیں تو ہم نہ صرف اپنے غم پر قابو پا سکتے ہیں بلکہ دنیا کے لئے ایک مثبت مثال بھی قائم کر سکتے ہیں۔‘‘فی الوقت ڈاکٹر بلال قاضی تھانے کے سن ایکٹ اسپتال میں جدید طبی سہولیات کے ساتھ مریضوں کا علاج کر رہے ہیں جبکہ ممبئی کے کئی بڑے اسپتالوں میں بطور وزٹنگ ڈاکٹر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ خاص طور پر کلیان کے نیشنل اسپتال میں ان کی موجودگی مقامی مریضوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں سمجھی جا رہی ہے۔