Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس یوکرین جنگ نے مسلمانوں اور عیسائیوں کو مزید قریب کر دیا: مفتی سلیمانوف

Updated: August 18, 2026, 10:04 PM IST | Kyiv

روس یوکرین جنگ نے جہاں مسلمانوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے، وہیں اس بحران نے مسلم اور عیسائی برادریوں کو ایک دوسرے کے مزید قریب بھی کر دیا ہے۔ یوکرین کے مفتی مراد سلیمانوف کا کہنا ہے کہ مذہبی اتحاد، انصاف اور امن کی کوششیں جنگ کے خاتمے کیلئے انتہائی اہم ہیں۔

Mufti Murat Suleimanov. Photo: INN
مفتی مراد سلیمانوف۔ تصویر: آئی این این

ہر روز یوکرین کے مسلمان اس خدشے کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں کہ اگلا میزائل ان کی مسجد، گھر یا محلے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ لیکن جنگ نے جہاں ان کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیا ہے، وہیں اس نے ملک کی مختلف مذہبی برادریوں کے درمیان تعلقات کو بھی نئی شکل دی ہے اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ یوکرین کے ممتاز مسلم مذہبی رہنما کے مطابق ایسا ہی ہوا ہے۔ انادولو کے ساتھ ایک انٹرویو میں یوکرین کی مسلم مذہبی انتظامیہ کے مفتی مراد سلیمانوف نے کہا کہ ۲۰۲۲ءسے قبل بھی مسلم اور عیسائی رہنما باقاعدہ مکالمے اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے مل کر کام کرتے تھے، لیکن جنگ نے انہیں ایک دوسرے کے مزید قریب کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان سپریم کورٹ کا سابق وزیراعظم عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا حکم

مختلف مطالعات اور اسلامی تنظیموں کے مطابق یوکرین میں تقریباً۵؍ لاکھ سے۲۰؍ لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ بہت سے یورپی ممالک کے برعکس ان میں زیادہ تر مقامی باشندے ہیں، جن میں کریمیا کے تاتار سب سے بڑی مسلم برادری ہیں۔ سلیمانوف نے کہا کہ بعض لوگوں کو توقع تھی کہ مسلمان غیر جانب دار رہیں گے، کیونکہ اس تنازعے کو اکثر دو بڑی حد تک عیسائی ممالک کے درمیان جنگ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس، ان کے بقول، یوکرین کی مسلم برادری نے کھل کر ملک کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا، ’’اس کے نتیجے میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات انتہائی قریبی ہو گئے ہیں۔ ‘‘انہوں نے روس پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کشیدگی سے متعلق جھوٹے بیانیے پھیلا کر اختلافات پیدا کرنے کیلئے پروپیگنڈا استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری طاقت ہماری اتحاد میں ہے اور یہ انتہائی اہم ہے۔ ہم اس اتحاد کا مظاہرہ اس وقت کرتے ہیں جب ایک میٹروپولیٹن بشپ، ایک پادری، ایک مفتی اور ایک امام ایک ساتھ کھڑے ہو کر انصاف کی حمایت میں ایک آواز میں بات کرتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: جیسن آرڈے کی موت پر لندن میں ہزاروں افراد کا خراجِ عقیدت، اہل خانہ کا ردعمل

جنگ کے سائے میں زندگی
یہ اتحاد ایسے حالات میں پروان چڑھا ہے جب روزانہ ہونے والے حملوں نے یوکرین کی مسلم برادری کی زندگی کو یکسر بدل دیا ہے۔ سلیمانوف نے کہا کہ میزائل حملوں سے شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جن میں باخموت، سیویرودونیتسک اور کستیانتینیوکا کی مساجد بھی شامل ہیں۔ اس صورتِ حال نے بعض مسلمانوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا تاکہ وہ قائم شدہ مسلم برادریوں کے اندر رہتے ہوئے اپنے مذہبی فرائض جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے کہا، ’’اس کے نتیجے میں بہت سے مسلمان دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئے تاکہ وہ مسلم برادری کا حصہ بنے رہ سکیں، اپنے مذہبی فرائض ادا کر سکیں، نمازوں میں شرکت کر سکیں، جنازے ادا کر سکیں اور اپنی دیگر مذہبی ضروریات پوری کر سکیں۔ ‘‘اس تمام خلل کے باوجود بہت سے مسلمانوں نے یوکرین میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ وہ خود کو اس ملک کا ایک لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: جیرڈ کشنرکی حماس کے وفد سے ملاقات، اسرائیل کے انخلا کا وعدہ

انہوں نے کہا، ’’جو لوگ یہاں رہ گئے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا کردار بہت اہم ہے۔ کیوں ؟ کیونکہ ہم یوکرینی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ‘‘سلیمانوف نے جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کے ذریعے حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’سلامتی ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ جب آپ روزانہ میزائلوں کی آواز سنتے ہیں اور مسلسل گولہ باری میں زندگی گزارتے ہیں تو یہ آپ کی روزمرہ حقیقت بن جاتی ہے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ یہ جنگ ختم ہو اور امن قائم ہو۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: عرب خطے میں ۲۴؍ اگست سے موسم کی تبدیلی کا آغاز، سہیل ستارہ نمودار ہوگا

یوکرین سے آگے انصاف کی بات
سلیمانوف کے مطابق، یوکرین کی مذہبی برادریوں کو متحد رکھنے والے اصولوں کو دیگر تنازعات کے حوالے سے عالمی برادری کے ردِعمل کی بھی رہنمائی کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’یوکرین کے مفتی اور ایک مسلمان کی حیثیت سے فلسطین اور غزہ میں ہونے والی نسل کشی کے بارے میں بات کرنا بھی میری ذمہ داری ہے۔ یہ ہمارا فرض ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ انصاف کا اطلاق منتخب انداز میں نہیں ہونا چاہئے اور عالمی لیڈروں پر زور دیا کہ وہ جنگوں کے خاتمے کیلئے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں۔ سلیمانوف نے مسلم دنیا کی جانب سے ملنے والی حمایت کا خیرمقدم کیا، تاہم کہا کہ یوکرین کی مسلم برادری کو بین الاقوامی سطح پر مزید توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گڑھے میں مردہ ژراف کے سر کا ویڈیو: جنوبی افریقی پارٹی کے اقدام پر اینیمل ریسکیو ورکرز کا شدید ردِعمل

انہوں نے کہا، ’’ہم حمایت کے الفاظ سنتے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ لوگ یوکرین کے مسلمانوں کے بارے میں زیادہ بات کریں۔ ‘‘انہوں نے ترکی کی مذہبی امور کی صدارت (دیانت) کے ساتھ مزید قریبی تعاون کی امید بھی ظاہر کی اور کہا کہ وہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کیلئے’ہر ممکن کوشش‘ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم دیکھتے ہیں کہ دیانت یوکرین کے مسلمانوں کی مدد سمیت مختلف صورتوں میں تعاون فراہم کر رہی ہے۔ مجھے خلوص سے امید ہے کہ مستقبل میں ہمارا تعاون مزید وسیع اور مضبوط ہوگا اور باہمی اعتماد کی مزید مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگا۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK