سماج وادی پارٹی کی جانب سےاسلام جمخانہ میںمیٹنگ ۔ حاضرین نے تشویش کا اظہار کیا اوریہ بھی کہا: یہ محض کسی عمارت کا نہیں تعلیم اوراقلیتوں کے مستقبل کا بھی مسئلہ ہے ۔انہدامی کارروائی پرتحریک شروع کرنے کا بھی انتباہ۔
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 11:58 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Marine Lines
سماج وادی پارٹی کی جانب سےاسلام جمخانہ میںمیٹنگ ۔ حاضرین نے تشویش کا اظہار کیا اوریہ بھی کہا: یہ محض کسی عمارت کا نہیں تعلیم اوراقلیتوں کے مستقبل کا بھی مسئلہ ہے ۔انہدامی کارروائی پرتحریک شروع کرنے کا بھی انتباہ۔
رام پور میں واقع مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو منہدم کرنے کے اترپردیش حکومت کے فیصلے کیخلاف زبردست تشویش پائی جارہی ہے ۔ اس کے خلاف مسلسل آواز بلند کی جارہی ہے کہ بہرصورت اس یونیورسٹی کاتحفظ کیاجائے کیونکہ یہ محض ایک عمارت کا نہیں بلکہ حصول ِ علم اوراقلیتوں کے مستقبل کا بھی سوال ہے ۔ اسی سلسلے میںجمعرات کو اسلام جمخانہ میں سماج وادی پارٹی کی جانب سے ایک میٹنگ کی گئی جس میںکئی اشخاص اورلیڈران نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ کے خلاف کارروائی پر کانگریس لیڈران کی ڈی جی پی اور پولیس کمشنر سے ملاقات
یاد رہے کہ محمد علی جوہریونیورسٹی میںہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔رام پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے اس تعلق سے کہا گیا کہ یونیورسٹی کی ۳۸؍عمارتوں کی تعمیر کی اجازت نہیںلی گئی تھی اور اس کا باضابطہ نقشہ پاس نہیں کرایا گیا تھا مگریہ بھی بتایا جارہا ہےجو کم حیران کن نہیں ہے کہ یونیورسٹی کےقیام کےبعد رام پور ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کا قیام ہوا ہے۔ دوسرے یہ کہ کسی تعلیم گاہ کا انہدام ہرگز مسئلے کا حل نہیںہے بلکہ حل تو یہ ہے کہ خامیوں کو درست کیا جائے اوراگرکسی شعبے یا شخص کی جانب سے ضابطہ شکنی کی گئی ہے تو اس سے مواخذہ کیا جائے نہ کہ یونیورسٹی کو ہی ختم کردیاجائے جیساکہ یوپی حکومت نے انتباہ دیا ہے۔ اس موقع پر یہ کہا گیا کہ حکومت کوئی نئی یونیورسٹی نہیں بنا رہی ہے بلکہ محمدعلی جوہر یونیورسٹی کو گرانا چاہتی ہے، حالانکہ یہاں ہزاروں طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ حکومت چاہے تو اس یونیورسٹی کی تکنیکی خامیوں اور ان کمیوں کو جن کا حوالہ دیا جارہا ہے ، اسے دور کر سکتی ہے لیکن سیاسی انتقام کی وجہ سے طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کیاجا رہا ہے۔ ہم سب اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں۔اس میٹنگ میںمتعدد تجاویز پربھی تبادلۂ خیال کیا گیا ۔ان تجاویز میں گورنر کو میمورنڈم پیش کرنا اور اگربالفرض یونیورسٹی کے خلاف انہدامی کارروائی کی گئی تو ممبئی میں عوامی تحریک شروع کرنا وغیرہ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: طلبہ کیخلاف کارروائی پر بحث نہ کرانے پر میونسپل اجلاس میں ہنگامہ
میٹنگ میں رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی ، یوسف ابرہانی، مولانا انیس اشرفی، معراج صدیقی، عامر ادریسی، سلیم الوارے، سعیدحمید، سرفراز آرزو اور علماءو سماجی خدمت گار موجود تھے۔