Inquilab Logo Happiest Places to Work

طلبہ کیخلاف کارروائی پر بحث نہ کرانے پر میونسپل اجلاس میں ہنگامہ

Updated: July 24, 2026, 11:50 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

اپوزیشن پارٹیوں کے کارپوریٹروں نے پلےکارڈز لے کر مودی سرکار اور وزیر اعظم کے خلاف نعرےلگائے ۔ شور شرابے کے دوران کئی تجاویز کو بغیر بحث و مباحثہ کے منظورکرلیا گیا۔

Opposition corporators are protesting outside BMC House with placards with various slogans. (Photo: Inquilab)
اپوزیشن کے کارپوریٹربی ایم سی ہاؤس کے باہرمختلف نعروں والے پلے کارڈز لئے احتجاج کررہے ہیں۔(تصویر: انقلاب)

نیٹ پیپر لیٖک کے معاملے میں پُرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کی حمایت میں اور ان پر پولیس کارروائی کے خلاف اپوزیشن پارٹیوں کے کارپوریٹروں نے جمعرات کو برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی جنرل باڈی میٹنگ میں آواز بلند کرتے ہوئے نعرے لگائے جس کی وجہ سے میٹنگ کی کارروائی کافی تاخیر سے شروع ہوئی۔ تاہم میئر ریتو تاؤڑے نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس شور شرابے کے درمیان ہی میٹنگ کی کارروائی مختصر وقت میں مکمل کرلی۔ 

جنرل باڈی میٹنگ کا وقت دوپہر ۲؍ بجے طے کیا گیا تھا لیکن میئر ریتوتاوڑے سہ پہر ساڑھے ۳؍ بجے کے بعد ہاؤس میں پہنچیں۔  ۳؍ بج کر ۴۰؍ منٹ پر ان کے پہنچنے پر شیوسینا (ادھوٹھاکرے) کی لیڈر اور سابق میئر کشوری پیڈنیکر اور کانگریس لیڈر اشرف اعظمی نے میئر سے مطالبہ کیا کہ نیٖٹ امتحان کے پرچہ لیٖک ہونے پر ممبئی کے مختلف علاقوں میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ پولیس نے جو زیادتیاں کی ہیں، ان کی پٹائی کی، ان کے کپڑے پھاڑ دیئے اور ان کے خلاف کیس درج کیا گیا،ان معاملات پر بی ایم سی ہائوس میں بحث کرائی جائے۔

یہ بھی پڑھئے: ممبئی اور پنویل میں بند کا ملا جلا اثر، کہیں دکانیں کھلی رہیں ، کہیں بند

تاہم اپنی جگہ پر بیٹھنے سے پہلے میئر ریتو تائوڑے نے مظاہرین سے کہا کہ ’’مودی سرکار طلبہ کو انصاف دینے کی اہل ہے۔ مودی سرکار طلبہ کے مسئلہ پر انتہائی سنجیدہ ہے۔ آپ لوگ بیٹھ جائیے، اس موضوع پر یہاں کچھ نہیں ہوگا۔‘‘

اشرف اعظمی نے کے مطابق ’’جب بی ایم سی ہائوس میں بنگلہ دیشیوں کے موضوع پر بحث ہوسکتی ہے تو ہمارے اپنے ملک اور ہمارے شہر کے طلبہ کے مسئلہ پر بحث کیوں نہیں ہوسکتی؟‘‘ انقلاب سے گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہائوس کی اگلی کارروائی کے دوران بھی اس معاملے کو اٹھایا جائے گا۔

اپوزیشن کے ذریعہ طلبہ کے احتجاج کے موضوع پر بحث کرانے کا مطالبہ   نہ ماننے کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیوں کے کارپوریٹروں نے اپنا مظاہرہ اور نعرے لگانے کا سلسلہ  جاری رکھا جس کے دوران   شیو سینا(یوبی ٹی) اور کانگریس کے کارپوریٹروں نے ہاتھوں میں پلےکارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’شرم کرو‘‘ اور ’’دھرمیندر پردھان استعفیٰ دو‘‘ جیسے نعرے تحریر تھے۔ اس کے علاوہ یہ لیڈران ’’مودی سرکار چورہے‘‘، ’’چوکیدار چور ہے‘‘، ’’تاناشاہی نہیں چلے گی‘‘ جیسے نعرے لگارہے تھے۔ ان نعروں کے درمیان میئر نے ہائوس کی کارروائی شروع کردی اور کئی تجاویز کو بغیر کسی بحث و مباحثہ کے منظوری دے دی گئی۔ کارروائی کے دوران میئر نے اس بات پر اعتراض کیا کہ اپوزیشن لیڈران ملک کے وزیر اعظم کو بی ایم سی ہائوس کے اندر چور بول رہے ہیں جو غلط ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے حکومت کے خلاف میدان میں ، ۲۶؍ جولائی کو مورچہ

تقریباً ۴۵؍ منٹ تک چلنے والی ہائوس کی کارروائی کے دوران اپوزیشن پارٹی کی نعرہ بازی ایک منٹ کیلئے بھی بند نہیں ہوئی۔ یہ نعرہ بازی صرف اس وقت بند ہوئی جب بی ایم سی کی سابق کارپوریٹر کُشل مِلکی رام شرما کی موت کی وجہ سے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جارہا تھا۔ البتہ خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد ہائوس کی کارروائی ختم کرکے آئندہ ماہ ۱۰؍ تاریخ تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

ہائوس ختم ہونے کے بعد جب اپوزیشن لیڈران ہائوس کے باہر الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے تب حکمراں محاذ کے بی جے پی لیڈران نے بھی نعرہ بازی شروع کردی اور شام دیر گئے تک دونوں طرف سے نعرے بازی کا سلسلہ چلتا رہا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK