عدالت عالیہ نے اپنے ریمارک میں کہا کہ اس المناک حادثے کی ذمہ دار حکومت اور مقامی انتظامیہ بھی ہے، ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جو اساتذہ کی مجرمانہ غفلت کو ثابت کرے۔
EPAPER
Updated: October 24, 2026, 12:44 PM IST | Siraj Sheikh | Raigad /Mumbai
عدالت عالیہ نے اپنے ریمارک میں کہا کہ اس المناک حادثے کی ذمہ دار حکومت اور مقامی انتظامیہ بھی ہے، ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جو اساتذہ کی مجرمانہ غفلت کو ثابت کرے۔
بامبے ہائیکورٹ نے انتہائی اہم فیصلہ سناتے ہوئے ۲۰۱۶ء کے مروڈ سمندری سانحہ میں پونے کے عابدہ انعامدار کالج کے عملے اور انتظامیہ کے خلاف درج ایف آئی آر کو مکمل طور پر خارج کر دیا ہے۔ عدالت عالیہ کا کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے تمام ۱۴؍ طلبہ بالغ تھے اور اپنے فیصلوں کے نتائج خود سمجھنے کے اہل تھے، اسلئے انتظامیہ کو مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت نہیں جو اساتذہ کی مجرمانہ غفلت کو ثابت کرے، جبکہ اصل قصوروار حکومتی انتظامیہ بھی ہے جس نے ساحل پر حفاظتی انتظامات اور لائف گارڈز تعینات نہیں کیے تھے۔
اس فیصلے سے جہاں کالج انتظامیہ کو بڑی راحت ملی ہے، وہاں یہ بحث ایک بار پھر چھڑ گئی ہے کہ اگر کالج ذمہ دار نہیں، تو پھر۱۴؍ قیمتی جانوں کے ضیاع کی ذمہ دار خود حکومت کیوں نہیں؟ یہ دلخراش حادثہ یکم فروری۲۰۱۶ءکو پیش آیا تھا جس میں عابدہ انعامدار کالج کے۱۴؍ طلبہ و طالبات مروڈ جنجیرہ کے سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:مہاراشٹر لیجسلیٹو کونسل کی ۵؍ سیٹوں کیلئے پولنگ مکمل
ہائی کورٹ کا فیصلہ اور ریمارکس
کالج کے اساتذہ، پرنسپل اور ٹرسٹیز کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کرتے ہوئے بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس ملند جادھو نے کالج کے پرنسپل، ٹرسٹیز اور اساتذہ سمیت۱۷؍ افراد کے خلاف تعزیراتِ ہند کی دفعہ ۳۰۴؍اے کے تحت درج مقدمے کو خارج کرتے ہوئے واضح کیا کہ مندر میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے طلبہ بچے نہیں تھے بلکہ اچھے اور برے کی تمیز رکھنے والے بالغ شہری تھے۔ پکنک پر لے جانے والے اساتذہ یا کالج کی انتظامیہ کو ان کی موت کا ذمہ دار قرار دے کر تعزیراتِ ہند کی دفعہ۳۰۴؍اے کے تحت سزا نہیں دی جا سکتی ۔
حادثے کی ذمہ دار حکومت اور مقامی انتظامیہ بھی
عدالتی کاروائی کے دوران یہ حقیقت سامنے آئی کہ اس وقت مروڈجنجیرہ کے ساحل پر حفاظتی انتظامات کا فقدان تھا،لائف گارڈ موجود نہیں تھے ۔ انتباہی بورڈ بھی غائب تھے ، ریسکیو اور ہنگامی امداد کی انتظامات انتہائی کمزور تھے۔
لواحقین کا غم اور انصاف پر سوالیہ نشان
عدالت عالیہ کے فیصلے کے بعد یہ سوال دوبارہ کھڑا ہو گیا ہے کہ ان۱۴؍انسانی جانوں کے ضیاع کا اصل حساب کون دے گا؟لواحقین اور لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے ساحل سمندر پر حفاظتی گھیرا لگایا ہوتا یا وہاں خطرے کے نشانات واضح کیے ہوتے، تو شاید آج ان کے بچے زندہ ہوتے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی میں مرکزی دستوں کی تعیناتی میں توسیع
مروڈ تھانے کے انسپکٹر کامبلے کا بیان
اس ضمن میں مروڈ تھانے کے انسپکٹر پر شو رام کامبلے نے نمائندہ انقلاب کو بتایا کہ ہمیں دیگر ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ عدالت عالیہ نے مروڈ غرقابی واقعہ میں اہم فیصلہ سنایا ہے لیکن ہمیں فیصلے سے متعلق دستاویزات موصول نہیں ہوئے ہیں۔ لہٰذا ہم کچھ نہیں سکتے۔
یکم فروری ۲۰۱۶ء کو کیا ہوا تھا؟
پونے کے معروف تعلیمی ادارہ عابدہ انعامدار کالج کے۱۱۶؍ طلبہ اور عملے کے اراکین یکم فروری ۲۰۱۶ء کو رائے گڑھ ضلع میں واقع مروڈ بیچ پر پکنک منانے گئے تھے۔ تقریباً دوپہر کے وقت جب بیشتر طلبہ کھانا کھارہے تھے، تبھی ۴۰؍کے قریب طلبہ سمندر میں اترے تھے۔گہرائی اورلہروں کے تیز بہاؤ کا اندازہ نہ ہونے کے باعث۱۴؍ طلبہ ڈوب کر ہلاک ہو گئےتھے۔