Updated: May 27, 2026, 4:35 PM IST
| İstanbul
خلیجی ممالک اور یورپی ممالک میں مسلمانوں نے مذہبی جوش و خروش کے ساتھ عید الاضحیٰ منائی، جہاں مساجد، عید گاہوں اور عوامی مقامات پر نمازِ عید کے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔ عید کے موقع پر اتحاد، قربانی، بھائی چارے اور امن کے پیغامات کو اجاگر کیا گیا جبکہ مختلف ممالک کے لیڈران نے بھی مسلمانوں کو مبارکباد پیش کی۔
تاشقند، ازبکستان میں لوگ عید الاضحی کی نماز کیلئے جمع ہیں۔ تصویر: ایکس
دنیا بھر کے مسلمانوں نے بدھ کو عید الاضحیٰ کا پہلا دن منایا، جسے ’’قربانی کی عید‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور یہ اسلام کی اہم مذہبی عیدوں میں سے ایک ہے۔ یہ عید حضرت ابراہیمؑ کی اللہ تعالیٰ سے وفاداری اور اپنے بیٹے کی قربانی دینےکیلئے آمادگی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ مسلمان اس موقع پر نماز ادا کرتے ہیں، کھانے تقسیم کرتے ہیں، صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ روایت کے مطابق بہت سے خاندان بکری، بھیڑ یا گائے جیسے جانور کی قربانی کرتے ہیں، اور اس کا گوشت رشتہ داروں، پڑوسیوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
عید الاضحیٰ کا تعلق سعودی عرب میں ہونے والی سالانہ حج عبادت سے بھی گہرا ہے۔ حج کے مناسک پیر کو باضابطہ طور پر شروع ہوئے، جب حجاج کرام منیٰ پہنچے۔ زائرین کی سہولت اور حفاظت کیلئے وسیع انتظامات اور سیکوریٹی اقدامات کئے گئے۔ چھ روزہ حج میں میدانِ عرفات میں وقوف، مزدلفہ میں قیام، رمیِ جمرات (شیطان کو کنکریاں مارنے کی رسم) اور مسجد الحرام میں طوافِ وداع شامل ہیں۔ یہ تمام مناسک اسلامی عقیدے کے بنیادی تصورات کی علامت ہیں اور حضرت ابراہیمؑ اور ان کے خاندان کی آزمائشوں کی یاد دلاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ہانگ کانگ، سوئزرلینڈ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے بڑا کراس بارڈر ویلتھ ہب بن گیا: بی سی جی رپورٹ
ترکی میں عید کی تقریبات ملک بھر کی مساجد میں صبح سویرے نمازِ عید سے شروع ہوئیں۔ استنبول میں مقامی اور غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں آیا صوفیہ گرینڈ مسجد اور سلطان احمد مسجد میں نمازِ عید ادا کرنےکیلئے جمع ہوئے، جہاں داخلے کیلئے طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ نماز کے بعد خاندانوں اور دوستوں نے ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی۔ ترکی کے علاوہ مشرق وسطیٰ سے لے کر ایشیا تک مختلف علاقوں میں مسلمانوں نے عید کی خوشیوں میں حصہ لیا۔ آذربائیجان میں دارالحکومت باکو کی مساجد میں نمازی ملک اور عالمِ اسلام کے امن و خوشحالی کیلئے دعائیں کرنے کیلئے جمع ہوئے۔ صبح سویرے ہی شہری مساجد کا رخ کرنے لگے اور نمازِ عید ادا کرنے کیلئے قطاروں میں کھڑے نظر آئے۔ باکو کی مختلف مساجد میں شدید رش دیکھنے میں آیا، اور کئی مقامات پر نمازیوں نے صحنوں، باغات اور اطراف کی جگہوں پر نماز ادا کی کیونکہ مساجد میں تمام افراد کے لیے جگہ موجود نہ تھی۔
یہ بھی پڑھئے: عظیم تباہی قریب ہے،۲۰۶۴ء تک دنیا کی آبادی نصف ہوجائے گی : تحقیق
شیکی شہر کی تاریخی جامع مسجد میں بھی بڑی تعداد میں افراد نے نمازِ عید ادا کی۔ یہ شہر اپنی تاریخی اور قدرتی خوبصورتی کیلئےمشہور ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک، جن میں قازقستان اور کرغزستان شامل ہیں، میں مسلمانوں نے مساجد اور عید گاہوں میں نمازِ عید ادا کی۔ قازقستان میں ملک بھر سے مسلمان اس بابرکت دن کی مناسبت سے مساجد میں جمع ہوئے، جو اتحاد اور بھائی چارے کی علامت ہے۔ ائمہ کرام نے خطبات میں عید الاضحیٰ کی اہمیت، قربانی کی حکمت اور اس کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ ملک کے امن، سلامتی اور خوشحالی کیلئے بھی دعائیں کی گئیں۔ کرغزستان میں شہریوں نے مختلف شہروں کے چوراہوں اور مساجد میں نمازِ عید ادا کی۔ دارالحکومت بشکیک میں شہری الا تو اسکوائر اور تُرداکُن اُسبالیئیف اسکوائر، جسے ’’اولڈ اسکوائر‘‘ بھی کہا جاتا ہے، میں جمع ہوئے۔ نمازیوں نے اپنے ساتھ لائی گئی جائے نمازیں سڑکوں اور چوراہوں پر بچھا کر نماز ادا کی۔
بوسنیا و ہرزیگووینا، سربیا، مونٹی نیگرو، کروشیا، شمالی مقدونیہ، البانیہ اور کوسوو سمیت بلقان کے ممالک میں بھی مسلمانوں نے جوش و خروش سے عید الاضحیٰ منائی۔ مقبوضہ بیت المقدس میں ہزاروں مسلمانوں نے سخت اسرائیلی پولیس سیکوریٹی کے باوجود مسجد اقصیٰ میں نمازِ عید ادا کی۔ یروشلم کے اسلامی وقف ڈپارٹمنٹ کے مطابق اس سال مسجد اقصیٰ میں نمازِ عید کیلئے تقریباً ایک لاکھ چالیس ہزار افراد جمع ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ اور لبنان پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری جاری،۱۸؍ افراد شہید
یورپ بھر میں عید الاضحیٰ کی تقریبات
یورپ بھر میں مسلمانوں نے بدھ کی صبح مساجد اور مخصوص مقامات پر نمازِ عید ادا کی، جہاں بڑے اجتماعات اور اتحاد کی فضا دیکھنے میں آئی۔ اٹلی میں روم اور دیگر شہروں سے ہزاروں مسلمان گرینڈ مسجد آف روم میں جمع ہوئے۔ غیر معمولی رش کی وجہ سے نماز تین مرتبہ ادا کی گئی۔ میلان، نیپلز اور ٹورین جیسے شہروں کی مساجد بھی نمازیوں سے بھر گئیں۔ مالٹا میں مسلمانوں اور ترک شہریوں نے مارسا کے تاریخی ترک شہداء قبرستان میں نمازِ عید ادا کی، جس میں تقریباً ۲۵۰؍افراد شریک ہوئے۔ نماز کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور مقامی حکام بھی تقریبات میں شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: آئرلینڈ کا مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کو سامان تجارت کی فراہمی روکنے پر غور
سوئزرلینڈ میں ملک بھر کی مساجد نمازیوں سے بھر گئیں۔ جنیوا میں ہزاروں افراد پال ایکسپو نمائش مرکز میں جمع ہوئے۔ نماز کے بعد عالمِ اسلام اور جنگ زدہ علاقوں میں امن کیلئے دعائیں کی گئیں۔ نیدرلینڈز میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان صبح سویرے مساجد پہنچے۔ شیڈام میں یلدز اسلامک سینٹر میں خطبات کے دوران بھائی چارے، امن اور باہمی تعاون پر زور دیا گیا۔ جرمنی میں ترک اسلامک یونین فار ریلیجس افیئرز سے وابستہ مساجد میں نمازِ عید ادا کی گئی۔ برلن میں ترک سفارتی نمائندے شہادتک مسجد میں نمازیوں کے ساتھ شریک ہوئے۔ کولون میں مرکزی مسجد میں شدید رش کے باعث بہت سے افراد نے کھلے میدانوں میں نماز ادا کی۔
یہ بھی پڑھئے: قطر مذاکرات میں اہم پیش رفت، ایران کا محتاط موقف برقرار، امریکہ پر تنقید
سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں بھی مساجد نمازیوں سے بھر گئیں اور کئی افراد نے رش کی وجہ سے باہر نماز ادا کی۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں علماء نے خطبات میں مفاہمت، رحم دلی اور سماجی یکجہتی پر زور دیا، جبکہ دنیا بھر کے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں امن کیلئے دعائیں کی گئیں۔ فٹجا گرینڈ مسجد میں تقریباً دو ہزار افراد نے نماز ادا کی۔ یونان کے مغربی تھریس علاقے میں مسلمانوں نے کوموتینی، زانتھی اور دیگر دیہاتوں کی مساجد میں نمازِ عید ادا کی۔ خطبات میں اتحاد، خیرات اور بھائی چارے کی تلقین کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: جبل رحمت ومیدانِ عرفات میں لاکھوں حجاج کو ایک کرنے والا روح پرور منظر
پوتن کی مسلمانوں کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد
روسی صدر پوتن نے عید الاضحیٰ کے موقع پر مسلمانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے روس کی سماجی اور ثقافتی زندگی میں ان کے کردار کو سراہا۔ کریملن کی جانب سے جاری بیان میں پیوٹن نے کہا کہ یہ عید، جو صدیوں پرانی اسلامی روایات سے جڑی ہوئی ہے، ’’ایمان والوں کو نیکی، انصاف، رحم دلی اور تقویٰ کی دعوت دیتی ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا’’اپنے آبا و اجداد کی تعلیمات اور قدیم روایات پر عمل کرتے ہوئے، آپ اس قدیم عید کو بھرپور انداز میں مناتے ہیں، جو مسلمانوں کو اسلام کی بنیادوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ‘‘ پوتن نے روس میں مسلم تنظیموں کے فعال کردار کو بھی سراہا، خاص طور پر خاندانی اقدار کے فروغ، نوجوانوں میں حب الوطنی پیدا کرنے، اور تعلیمی و فلاحی سرگرمیوں کے حوالے سے۔ انہوں نے مزید کہا:’’اور یقیناً، وطن کے محافظوں اور ان کے خاندانوں کی حمایت کیلئے آپ کی سرگرمیاں گہری قدردانی کی مستحق ہیں۔ ‘‘