Updated: June 25, 2026, 10:00 PM IST
| New Delhi
پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے معروف کارٹونسٹ اور صحافی جو سیکو کی ۲۰۱۳ء کے مظفر نگر فسادات پر مبنی گرافک رپورٹ The Once and Future Riot کی تقسیم سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ ناشر نے قانونی جانچ کے دوران غلط نقشے اور دیگر اعتراضات کو وجہ قرار دیا، جبکہ سیکو کا کہنا ہے کہ ان سے اقتباسات، نتائج اور دیگر مواد میں ایسی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا جو صحافتی اصولوں کے خلاف تھیں۔ سیکو نے انکشاف کیا ہے کہ اب تک کم از کم چھ ہندوستانی پبلشرز کتاب شائع کرنے میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔
معروف کارٹونسٹ، صحافی اور گرافک جرنلزم کے علمبردار جو سیکو (Joe Sacco) کی ۲۰۱۳ء کے مظفر نگر فسادات پر مبنی کتاب The Once and Future Riot کی ہندوستان میں اشاعت پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے کتاب کو تقسیم کرنے کے منصوبے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے، تاہم سیکو کا کہنا ہے کہ کم از کم چھ ہندوستانی ناشر اس کتاب کو شائع کرنے کے لیے ان سے رابطہ کر چکے ہیں۔ جو سیکو، جنہیں مزاحیہ یا گرافک فارم میں جنگی رپورٹنگ کا بانی تصور کیا جاتا ہے، اس سے قبل فلسطین اور بوسنیا کی جنگ پر اپنی رپورٹنگ کے لیے عالمی شہرت حاصل کر چکے ہیں، جبکہ ان کی کتابوں کا ۱۴؍ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
سیکو نے دی انڈین ایکسپریس سے گفتگو میں کہا کہ ’’تقریباً چھ ہندوستانی پبلشرز نے مجھ سے ہندوستان میں کتاب شائع کرنے کے بارے میں رابطہ کیا ہے، اس لیے مجھے یہ تاثر بھی ہے کہ ہندوستان میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو ہندوستان میں ہوئے واقعات کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور جو سیاسی جانچ پڑتال میں رکاوٹ ڈالنے والی قوتوں کے خلاف ہیں۔‘‘ خیال رہے کہ The Once and Future Riot، جو ۲۰۲۵ء میں شائع ہوئی، ۲۰۱۳ء کے مظفر نگر فرقہ وارانہ فسادات پر مبنی ۱۳۵؍ صفحات کا ایک گرافک نان فکشن بیانیہ ہے۔ ان فسادات میں ۶۰؍ سے زائد افراد ہلاک اور ۴۰؍ ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے تھے۔ کتاب کے اگست یا ستمبر تک ہندوستانی بازار میں آنے کی توقع تھی۔
یہ بھی پڑھئے: چالیس گائوں میں پولیس کا کامبنگ آپریشن، بڑے پیمانے پر ہتھیار ضبط
تاہم، پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر گورو شرینگیش نے اس ماہ کے آغاز میں دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ قانونی جانچ کے دوران کتاب میں ہندوستان کی سرحدوں کا غلط نقشہ اور حوالہ جات سے متعلق اعتراضات سامنے آئے، جس کے باعث اشاعت روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس بارے میں بالکل واضح ہیں: اگر ہم جانتے ہیں کہ ایک غلط نقشہ ہے اور کوئی تبدیلی آنے والی نہیں ہے، تو ہم ایسا نہیں کریں گے۔‘‘ دوسری جانب سیکو نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’حوالہ جات پر اعتراضات کبھی سامنے نہیں آئے۔میری کتاب کو میرے شمالی امریکہ کے پبلشر Metropolitan Books میں میرے ایڈیٹرز نے اچھی طرح حقائق کی جانچ پڑتال کے بعد شائع کیا تھا۔‘‘
سیکو کے مطابق، ناشر کی جانب سے مطلوبہ تبدیلیاں صرف نقشے تک محدود نہیں تھیں بلکہ ان سے کتاب کے متن میں بھی متعدد تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان میں سے کچھ تقاضے میرے لیے ایسے لوگوں کے اقتباسات کو تبدیل کرنا تھے جن کا میں نے انٹرویو کیا تھا، بشمول ایک عوامی شخصیت، تاکہ ان کی بیان بازی کو خاموش کیا جا سکے۔ میں اقتباسات کو تبدیل نہیں کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’مجھے صفحے کے نیچے ایک کیپشن منتقل کرنے کے لیے بھی کہا گیا تھا اور، سب سے اہم بات، اپنے اس نتیجے کو ہٹانے کے لیے کہ ہندو قوم پرستی، ہر محاذ پر حاوی ہے۔‘‘ سیکو کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی کتاب ’’متوازن اور منصفانہ‘‘ ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہی شرائط اور تبدیلیوں کے مطالبات کی وجہ سے انہوں نے اپنے ادبی نمائندوں کو واضح کر دیا کہ وہ ان تقاضوں پر عمل نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے اپنے ایجنٹوں سے کہا کہ ہم ایسی تصدیق اور تقاضوں کی تعمیل نہیں کریں گے، اور پھر میں علاحدہ ہوگیا۔ ‘‘ سیکو نے یہ بھی کہا کہ ناشر نے ان سے انٹرویو دینے والے افراد کے رضامندی فارم اور ان کی مماثلت (likeness) کی تصدیق کی دستاویزات بھی طلب کیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’انٹرویو اور فوٹو گرافی کے لیے زبانی رضامندی حاصل کرنا معیاری صحافتی عمل ہے، اور تمام معاملات میں زبانی رضامندی دی جاتی ہے۔ صحافی عام طور پر فیلڈ ورک کرتے وقت رضامندی کے فارم استعمال نہیں کرتے، اور اس لیے دکھانے کے لیے کوئی نہیں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: طلبہ کی آواز دبائی جارہی، دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا چاہئے: کھرگے
گرافک ناول میں سیکو نے لکھا ہے کہ وہ فسادات کے تقریباً ایک سال بعد مظفر نگر پہنچے تھے۔ ان کے مطابق اگرچہ وہ ’’پہلے ہی تھوڑی دیر سے‘‘ وہاں پہنچے، لیکن ان کا مقصد یہ جاننا تھا کہ فسادات کے بعد ’’خیال، افسانہ اور جعل سازی‘‘ نے کس طرح حقیقت کی جگہ لے لی۔ اس سفر میں ان کے ساتھ ایک مقامی صحافی پیوش بطور مترجم اور لیڈرموجود تھے، جبکہ امریکی مصنف ڈیون بنشا (Devon Bansha) نے بھی ان کی رہنمائی کی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ انہوں نے مظفر نگر فسادات ہی کو اپنی تحقیق کا موضوع کیوں بنایا، سیکو نے کہا کہ ’’مظفر نگر فسادات ایک نسبتاً چھوٹے جغرافیائی علاقے پر ہوئے تھے، جسے آسانی سے کور کیا جا سکتا تھا، اس لیے فیلڈ ورک قابلِ انتظام تھا۔‘‘
کتاب میں سیکو نے اتر پردیش کے سرکاری حکام، سیاسی لیڈروں، دیہی سربراہوں اور فسادات سے متاثرہ افراد کے انٹرویوز کیے ہیں، جن میں اکثریت بے زمین کسانوں کی ہے۔ ان کے مطابق ان کی توجہ ان اجتماعی بیانیوں پر تھی جن کے ذریعے مختلف برادریاں اپنے طرزِ عمل کی وضاحت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرے کام میں اس کو سننا شامل تھا جو ایک اجتماعی کہانی کے طور پر گزری تھی، جو اکثر مبالغہ اور صریح جھوٹ سے بھری ہوتی تھی، اور اس کہانی کو کسی ایسی چیز کے ساتھ رکھنا تھا جو اصل حقائق تک پہنچتی ہو۔‘‘ انہوں نے ان گروہوں کی مثال بھی دی جو ’’جعلی طریقے سے‘‘ دعویٰ کرتے تھے کہ ان کے گاؤں میں کوئی تشدد نہیں ہوا تھا۔ بقول جو ’’یہ مجھ پر فرض تھا کہ میں اس تشدد کے اصل متاثرین کو تلاش کروں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال: مڈڈے میل سے انڈا ہٹایا گیا،’’اسکان‘‘ کو کانٹریکٹ دینے کے بعد فیصلہ
کتاب اس بات کا بھی جائزہ لیتی ہے کہ کس طرح ہجوم، افواہیں، اجتماعی نفسیات اور سیاسی مفادات فرقہ وارانہ تشدد کو جنم دیتے ہیں، اور مختلف برادریاں ایک ہی واقعے کے بالکل مختلف بیانیے کیسے تشکیل دیتی ہیں۔ سیکو کے مطابق انہوں نے پہلی جنگِ عظیم، فلسطین، بوسنیا اور غزہ سمیت مختلف تنازعات پر رپورٹنگ کے دوران انہی موضوعات کا مطالعہ کیا، تاہم مظفر نگر کے ذریعے انہیں یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ ہندوستان میں انتخابی سیاست اور فرقہ وارانہ تشدد کس طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے یہ سمجھنا شروع کیا کہ تشدد ہندوستان میں انتخابی سیاست کے ساتھ کس طرح جڑا ہوا ہے، اور مجھے یہ محسوس ہوا کہ یہی رجحان امریکہ اور مغربی یورپ میں خود کو ظاہر کر رہا ہے۔ لہٰذا کتاب کا ایک عالمگیر پہلو بھی ہے۔‘‘
سیکو نے کہا کہ ان کے نزدیک تشدد کے پس منظر میں افواہیں، ہجوم کا رویہ، ذات پات، طبقاتی تقسیم، صنفی مسائل، پرانی شکایات اور سیاسی مفادات سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عوامل ہیں۔ انہوں نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہندو قوم پرستی عروج پر ہے، اور اس کی بڑی مسلم اقلیت اپنے آپ سے پوچھ رہی ہوگی کہ یہ ایک ایسے ہندوستان میں کیسے فٹ بیٹھتی ہے جو اب خود کو ایک سیکولر ریاست کے طور پر بیان نہیں کرتا، حالانکہ وہ مذہبی دائرے کو تسلیم کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس قسم کی چیز صرف برادریوں کے درمیان تناؤ کو بڑھا سکتی ہے اور ان سیاست دانوں کو فائدہ پہنچاتی ہے جو شکار اور خوف کی ڈور بجانا جانتے ہیں۔ مجھے فکر ہے کہ تشدد کو معمول بنایا جا رہا ہے، نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دوسرے معاشروں میں بھی جو خود کو جمہوریت سمجھتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کا بنگال سرکار کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی اپیل پر سماعت سے انکار
فی الحال ہندوستانی قارئین اس کتاب کو برطانیہ سے درآمد شدہ کاپیوں کے ذریعے آن لائن پلیٹ فارمز اور چند کتاب فروشوں سے حاصل کر سکتے ہیں، جو پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے تقسیم کے نظام سے باہر کام کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ ابھی واضح نہیں کہ جو سیکو سے رابطہ کرنے والے چھ ہندوستانی ناشرین میں سے کوئی ایک The Once and Future Riot کو باضابطہ طور پر ہندوستان میں شائع کرے گا یا نہیں۔