Inquilab Logo Happiest Places to Work

این سی ای آرٹی نہم جماعت کی کتاب میں ’’ایمرجنسی‘‘ کی شمولیت، سیکولرازم ہدف

Updated: June 26, 2026, 10:12 PM IST | New Delhi

این سی ای آرٹی نہم جماعت کی کتاب میں ’’ایمرجنسی‘‘ سےمتعلق اسباق شامل کئے گئے ، جبکہ سیکولر اور سیکولرازم جیسے الفاظ ہد ف کردئے گئے،جو اس سے قبل شامل تھے، جس کے سبب کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے مابین تنازع پیدا ہوگیا ۔

Photo: X
تصویر: ایکس

این سی ای آر ٹی کی نئی نویں جماعت کی سوشل سائنس کی درسی کتاب ایک نئی بحث کا مرکز بن گئی ہے، نہ صرف اس لیے کہ اس میں پہلی بار ۱۹۷۵ء کی ہنگامی حالت (ایمرجنسی) کا اضافہ کیا گیا ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس میں پیش لفظ (Preamble) اور ’’سیکولر‘‘ اور ’’سیکولرزم‘‘ کے الفاظ کو حذف کر دیا گیا ہے، جو گزشتہ اشاعت میں نمایاں تھے۔ تاہم، یہ حذف ایمرجنسی  کے باب پر بڑی سیاسی جنگ  کے تناظر میں نظر انداز ہو گیا تھا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان اس بات پر جھگڑا جاری ہے کہ اس دور کو طلبہ کو کیسے پڑھایا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: ناگپور پولیس کمشنر کی آر ایس ایس کی تقریب میں حاضری

واضح رہے کہ نظرِ ثانی شدہ درسی کتاب،’’انڈراسٹینڈنگ سوسائٹی: انڈیا اینڈ بیونڈ - پارٹ ۱؍‘‘، قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ اور اسکولی تعلیم کے لیے قومی نصابی فریم ورک ۲۰۲۳ء کے تحت تیار کی گئی ہے۔ یہ پہلے کی علاحدہ سیاسیات کی درسی کتاب سے ہٹ کر تاریخ، جغرافیہ، سیاسیات اور معاشیات کے مواد کو ایک مربوط جلد میں یکجا کرتی ہے۔بعد ازاں نئی کتاب میں آئین پر دستور ساز اسمبلی، آئین سازی، جمہوری اداروں اور بنیادی حقوق پر ابواب کے ذریعے بحث کی گئی ہے۔ مزید برآں متن میں آئین کو ’’مضبوط، لچکدار، تبدیلی پذیر اور ذمہ دار‘‘ دستاویز قرار دیا گیا ہے اور آزادی، مساوات، انصاف اور بھائی چارے کی اقدار کو اجاگر کیا گیا ہے۔تاہم اس سے قبل کی نویں جماعت کی کتاب کے برعکس، یہ پیش لفظ کو مکمل طور پر نقل نہیں کرتی۔ اس سے قبل ’’ڈیموکریٹک پولیٹکس - آئی‘‘ کی جلد پیش لفظ کو آئین کی وضاحت کے لیے نقطۂ آغاز کے طور پر استعمال کرتی تھی، اور اسے وہ فلسفہ قرار دیتی تھی جس پر پورا آئینی ڈھانچہ تعمیر کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: اسمارٹ میٹر کے خلاف کانگریس اور ودربھ اسٹیٹ سمیتی کا احتجاج

جبکہ نئی کتاب میں ’’سیکولر‘‘ یا ’’سیکولرزم‘‘ کے الفاظ بھی شامل نہیں ہیں۔ خاص طور پر،گزشتہ اشاعت  میں ’’سوویریئن‘‘ ،’’سوشلسٹ،‘‘ ’’سیکولر‘‘، ’’ڈیموکریٹک‘‘ اور ’’ریپبلک‘‘ جیسی اصطلاحات کے معنی تفصیل سے بیان کیے گئے تھے۔ اس میں سیکولرزم کو ایک ایسے نظام کے طور پر بیان کیا تھا جس میں  حکومت کا کوئی سرکاری مذہب نہیں اور ریاست تمام مذاہب کا یکساں احترام کرتی ہے۔تاہم، نئی کتاب کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ ’’سیکولر‘‘اور ’’سیکولرزم‘‘ کے الفاظ کہیں بھی موجود نہیں ہیں۔  ساتھ ہی اس بات کا بھی کوئی اشارہ نہیں کہ ان تصورات پر کسی بعد کی جماعت میں بحث کی جائے گی۔  

یہ بھی پڑھئے: کیتن اگروال قتل: چیتن چودھری کا گرفتار ملازم وعدہ معاف گواہ

اس کے علاوہ اس تبدیلی نے کتاب سے متعلق تنازع میں ایک اور پہلو کا اضافہ کر دیا ہے۔نئی کتاب  میں انتخابی کمیشن کے حوالے سے بھی مواد میں تبدیلی کی گئی ہے۔ جہاںگزشتہ کتاب نے اس کی آزادی اور وسیع اختیارات پر زور دیا تھا، وہیں نئے ورژن میں اس کے آئینی اختیار اور انتخابات کے انعقاد میں کردار پر سرسری توجہ کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK