Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچوں میں ٹائپ ون ذیابیطس کی بڑھتی شکایت پر قابوپانے کی ضرورت ہے

Updated: July 25, 2026, 2:22 PM IST | Mumbai

واڈیااسپتال میں ۱۳۰۰؍ بچوںکاعلاج جاری، ڈاکٹروں کے مطابق ان بچوں کا وقت پر اور پابندی سے علاج کیا جائے تو وہ لمبی عمر پا سکتے ہیں۔

More than 300,000 children across the country have diabetes (file photo)
ملک بھر میں ۳؍ لاکھ سے زائد بچوں کو ذیابیطس کی شکایت ہے ( فائل فوٹو)

بچوں اور نوعمر لڑکے لڑکیوں میں ٹائپ ون ذیابیطس کی شکایت میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے ۔ فی الحال ملک میں ۳؍لاکھ سے زیادہ بچے اس مرض مبتلا ہیں ۔ ہر سال ۱۹؍ہزار نئے بچے اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔  ممبئی اور مضافات میں بھی اس مرض میں مبتلا بچوں کی تعداد ایک ہزار ۳۰۰؍ سے زیادہ ہے ۔ ان کا علاج پریل کے بائی جربائی واڈیا اسپتال کے پیڈیاٹرک اینڈو کرائنولوجی ڈپارٹمنٹ میں جاری ہے ۔ ا ن میں سے ۱۲۰۰؍ سے زیادہ بچے باقاعدگی سے علاج اور فالواپ کیلئے اسپتال آ رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان بچوں کا وقت پر اور پابندی سے علاج کیا جائے تو وہ لمبی عمر  پا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی : میونسپل کمشنر کا محکمۂ صفائی کے کیبن کا دورہ

ممبئی کےواڈیا اسپتال میں اس طرح کے بچوں کیلئے خصوصی اسکریننگ اوپی ڈی کا انتظام ہے۔ یہاں، بچوں کے اینڈو کرائنولو جسٹ، شوگر کے ماہر، نرس، غذائی ماہر اور ماہر نفسیات کی مشترکہ رہنمائی میں بچوں اور ان کے والدین کو علاج، مناسب خوراک، نفسیاتی مدد اور بیماری کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جاتی ہیں ، جس سے بچوں کو بہتر زندگی گزارنے میں مدد ملتی ہے۔

اسپتال کی پیڈیاٹرک اینڈو کرائنولوجسٹ ڈاکٹر سدھا راؤکے مطابق ’’ہندوستان میں بچوں اور نوعمروں میں ٹائپ ون ذیابیطس تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہ بیماری ناقص غذا یا طرز زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ یہ قوت مدافعت کاعارضہ ہے۔ جس میں جسم کا مدافعتی نظام لبلبہ میں انسولین پیدا کرنے والے خلیوں پر حملہ کرتا ہے۔ جس سے یہ بیماری ہوتی ہے۔ اس کیلئے بلڈ شوگر کی باقاعدہ جانچ، متوازن خوراک، ڈاکٹر کے مشورے اور طبی نگرانی کی ضرورت ہے ۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: غیر منظور شدہ۵؍ اسکولوں کے خلاف شکایت درج

ڈاکٹر سدھا راؤ نے مزید کہا کہ’’ ٹائپ ون ذیابیطس کا علاج صرف انسولین دینے تک محدود نہیں ہے۔ بچوں اور ان کے والدین کو بھی اس بات کی تربیت دینے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس بیماری سے نمٹنے کی تیاری کیسے کریں ۔ بچوں کو دن میں کئی بار انسولین لینا پڑتی ہے، ان کی بلڈ شوگر کو بار بار چیک کرنا پڑتا ہے، اور ان کی خوراک پر خصوصی توجہ دینا پڑتی ہے ۔‘‘

یاد رہے کہ بڑے شہروں کا طرز زندگی اور روزانہ کے نظام الاوقات کے سبب بڑوں کے ساتھ بچوں کے بھی طبی معاملات پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے مختلف بیماریاں خاص کر ذیابیطس کی شکایتیں بڑھ رہی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK