Updated: July 17, 2026, 10:07 PM IST
| New Delhi
پنجاب کے۱۷؍ سالہ آرین گپتا نے نیٹ-یو جی۲۰۲۶ءمیں آل انڈیا رینک وَن حاصل کرکے ملک بھر میں نمایاں کامیابی حاصل کی، مگر ان کے نزدیک یہ صرف ایک امتحان میں کامیابی نہیں بلکہ ایک بڑے مقصد کی جانب پہلا قدم ہے۔ اپنی دادی کو کینسر کے باعث کھونے کے بعد آرین نے آنکولوجسٹ بننے کا عزم کیا، تاکہ مستقبل میں کینسر کے مریضوں کا علاج کرکے اس بیماری کے خلاف جدوجہد میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
آرین گپتا نامہ نگار کو اںترویو دیتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
پنجاب کے۱۷؍سالہ آرین گپتا کیلئے نیٹ-یو جی۲۰۲۶ءمیں آل انڈیا رینک ون حاصل کرنا برسوں کی محنت کا اختتام نہیں بلکہ ایک بہت بڑے خواب کی شروعات ہے۔ آرین نے ہریانہ کے پنشول بنسل کے ساتھ مشترکہ طور پر ملک بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دونوں نے۷۲۰؍ میں سے۷۱۵؍ نمبر حاصل کئے (این ٹی اے کے مطابق دونوں کا حاصل کردہ اعلیٰ اسکور۷۱۴؍شمار کیا گیا)۔ آرین کا کہنا ہے کہ ان کا اصل مقصد ایک کینسر اسپیشلسٹ (آنکولوجسٹ) بننا اور کینسر کے مریضوں کی خدمت کرنا ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے ان کی دادی کا کینسر کے باعث انتقال ایک اہم وجہ ہے۔
۲۰؍لاکھ امیدواروں میں نمایاں کامیابی
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے مطابق آرین گپتا اور پنشول بنسل وہ واحد امیدوار تھے جنہوں نے سب سے زیادہ اسکور حاصل کیا۔ اس سال تقریباً۲۰؍لاکھ امیدواروں نے امتحان دیا، جن میں سے۱۱ء۲۱؍لاکھ طلبہ ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، آیوش اور دیگر متعلقہ انڈرگریجویٹ کورسز میں داخلے کیلئے اہل قرار پائے۔
یہ بھی پڑھئے: نیٹ یوجی ۲۰۲۶ء: نتائج جاری، ۲۱ء۱۱؍ لاکھ امیدوار میڈیکل داخلوں کیلئے اہل قرار
’’یہ تو صرف پہلا قدم ہے‘‘
اپنی کامیابی کو’’ناقابلِ یقین ‘‘قرار دیتے ہوئے آرین نے کہا کہ ابھی بھی انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خواب دیکھ رہے ہوں۔ ان کے مطابق یہ کامیابی ان کے طویل سفر کا صرف پہلا سنگِ میل ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’یہ تو صرف ایک ابتدائی قدم ہے۔ ابھی کالج کی زندگی شروع ہونی ہے۔ میرا اصل مقصد کینسر کے مریضوں کا علاج کرنا اور اس بیماری کے علاج میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ‘‘
ڈاکٹروں کے خاندان سے تعلق
آرین کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جہاں طب کا پیشہ نسلوں سے وابستہ ہے۔ ان کے والد ڈاکٹر سنجیو گپتا اینستھیزیولوجسٹ ہیں، جبکہ والدہ ڈاکٹر نیلو گپتا ماہرِ امراضِ نسواں (گائناکولوجسٹ) ہیں۔ ان کے بڑے بھائی نے بھی نیٹ میں آل انڈیا رینک۵۴؍ حاصل کی تھی اور اس وقت نمز (NIMS) میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تیسری زبان کا آغاز چھٹی جماعت سے ہی کریں: سپریم کورٹ
دادی کی بیماری نے زندگی کا مقصد بدل دیا
آرین نے بتایا کہ ڈاکٹر بننے، خصوصاً کینسر کے شعبے میں جانے کا فیصلہ ان کی ذاتی زندگی کے ایک دردناک واقعے سے جڑا ہے۔ انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ تیسری جماعت میں تھے تو ان کی دادی کا اسٹیج۴؍ کینسر کے باعث انتقال ہوگیا تھا۔ اگرچہ ان کا پورا خاندان ڈاکٹروں پر مشتمل ہے، لیکن بیماری آخری مرحلے میں تشخیص ہونے کے باعث انہیں بچایا نہ جا سکا۔ انہوں نے کہا:’’میرے خاندان کے سب لوگ ڈاکٹر ہیں، لیکن اس کے باوجود ہم میری دادی کو نہیں بچا سکے کیونکہ کینسر کی تشخیص بہت آخری مرحلے میں ہوئی تھی۔ اسی دن میں نے عہد کیا کہ میں کینسر کا ماہر بنوں گا اور اس بیماری میں مبتلا لوگوں کا علاج کروں گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آج دہرہ دون میں ’چھاتروں کی گونج‘، تیاریاں مکمل
آخری مرحلے میں روزانہ۱۶؍ سے۱۷؍گھنٹے کی پڑھائی
اپنی تیاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے آریان نے کہا کہ ان کی کامیابی کا راز نظم و ضبط، مستقل مزاجی اور سخت محنت تھی، نہ کہ کوئی شارٹ کٹ۔ انہوں نے بتایا:’’مجھے نہیں لگتا کہ میں اس سے زیادہ کچھ کر سکتا تھا۔ دباؤ کی وجہ سے کئی راتیں ایسی گزریں جب مجھے نیند نہیں آئی۔ امتحان سے پہلے کے آخری مرحلے میں، میں روزانہ۱۶؍ سے۱۷؍ گھنٹے تک پڑھائی کرتا تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آشیش اور اجے مشرا کے خلاف گوا ہوں کو دھمکانے کا ثبوت نہیں ملا!
امیدواروں کیلئے مشورہ
مستقبل کے نیٹ امیدواروں کو آرین نے مشورہ دیا کہ وہ اپنے اساتذہ پر اعتماد رکھیں، نظم و ضبط کے ساتھ مسلسل محنت کریں اور دوسروں سے موازنہ کرنے یا بہانے تلاش کرنے کے بجائے اپنی تیاری پر پوری توجہ دیں۔ ان کے مطابق، مخلصانہ محنت، اپنے اساتذہ پر یقین اور ثابت قدمی ہی کسی بھی مسابقتی امتحان میں کامیابی کی اصل کنجیاں ہیں۔