Inquilab Logo Happiest Places to Work

نتن گڈکری ای۔۲۰ معاملے میں اے آئی ڈیپ فیکس کے خلاف بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع، ۱۱ کروڑ کا ہرجانہ مانگا

Updated: July 28, 2026, 8:05 PM IST | Mumbai

بمبئی ہائی کورٹ میں دائر کئے گئے مقدمے میں گڈکری نے کہا ہے کہ ای۔۲۰ پروگرام کو تشکیل دینے یا اسے نافذ کرنے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایتھنال بلینڈنگ پروگرام‘ ۲۰۰۳ء میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس کا انتظام مکمل طور پر وزارتِ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے پاس ہے۔

Nitin Gadkari. Photo: X
نتن گڈکری۔ تصویر: ایکس

مرکزی وزیرِ ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے بمبئی ہائی کورٹ میں میٹا، ایکس، گوگل/یوٹیوب، وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی، محکمۂ مواصلات اور نامعلوم صارفین کے خلاف ایک سول سوٹ دائر کیا ہے جس میں انہیں اور ان کے خاندان کو حکومت کے ’ای۔۲۰ ایتھنال بلینڈنگ پروگرام‘ سے جوڑنے والے اے آئی ڈیپ فیکس اور گالی گلوچ پر مبنی مواد کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس عارف ڈاکٹر کریں گے۔

واضح رہے کہ پیٹرول میں ۲۰ فیصد ایتھنال کی ملاوٹ کو پرانی گاڑیوں میں مطابقت کے مسائل کے چلتے فیول سسٹم کے زنگ آلود ہونے اور کارکردگی میں کمی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ کے ایک کنزیومر کمیشن نے حال ہی میں مروتی سوزوکی کو ایک صارف کی گاڑی تبدیل کرنے کا حکم دیا جو ای۔۲۰ ایندھن کی وجہ سے خراب ہوئی تھی، جس سے گڈکری کے خلاف عوامی ردِعمل میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد سوشل میڈیا پرمیمز کا طوفان، گڈکری اگلا نشانہ

گڈکری نے ای۔۲۰ ایندھن کی ذمہ داری سے انکار کیا

ایڈووکیٹ سندیپ لڈا کے توسط سے دائر کئے گئے مقدمے میں گڈکری نے کہا کہ ای۔۲۰ پروگرام کو تشکیل دینے یا اسے نافذ کرنے میں ان کا کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایتھنال بلینڈنگ پروگرام‘ ۲۰۰۳ء میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس کا انتظام مکمل طور پر وزارتِ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے پاس ہے، نہ کہ ان کی وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کے پاس۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کبھی بھی پیٹرولیم کی وزارت کا چارج نہیں رہا اور نہ ہی انہوں نے اس اقدام پر کوئی پالیسی سازی کے اختیارات استعمال کئے ہیں۔

گڈکری خاندان پر لگائے گئے الزامات کی تردید

اس مقدمے میں ان دعؤوں کی بھی تردید کی گئی ہے کہ نتن گڈکری کے بیٹے نکھل گڈکری، جو ایتھنال بنانے والی کمپنی ’سی آئی اے این ایگرو انڈسٹریز اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ‘ چلاتے ہیں، نے ای۔۲۰ پروگرام سے مالی فائدہ اٹھایا ہے۔ گڈکری نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں جھوٹا اور سرکاری ریکارڈ کے برعکس قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’ای ۔۲۰‘ پیٹرول کے مسئلے پر عام آدمی پارٹی کا ملک گیر تحریک چلانے کااعلان

سوشل میڈیا مواد کو ہتکِ عزت پر مبنی قرار دیا

اس مقدمے میں ۲۶ لنکس کی فہرست دی گئی ہے جن میں فیس سوپ (face-swap) ویڈیوز، اے آئی کے ذریعے تیار کردہ تصاویر اور کارٹونز شامل ہیں جن میں ان کی اجازت کے بغیر ان کا نام، چہرہ، آواز اور انداز استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی شخصیت اور تشہیری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پالیسی پر حقیقی تنقید کو روکنا نہیں چاہتے، لیکن کہ نشان زدہ مواد میں سے زیادہ تر میں من گھڑت اقتباسات، نازیبا زبان اور ایسا مواد شامل ہے جو منصفانہ سیاسی تبصرے کے بجائے ہدف بنا کر کی جانے والی ہتکِ عزت کے زمرے میں آتا ہے۔ گڈکری نے اس مواد کو ہٹانے کیلئے مستقل اور لازمی حکمِ امتناعی کا مطالبہ کیا ہے، اس کے ساتھ ہی مدعا علیہان بشمول نامعلوم ”جان ڈو“ (John Doe) صارفین سے ۱۱ کروڑ روپے کے ہرجانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK