نائب تحصیلدار نے اعتراف کیا کہ ابھی محض ۱۵۵؍ بی ایل او کےنام آئے ہیں،دیگر کا انتظار کیا جارہا ہے ۔ اسی سبب میپنگ کاکام ابھی باضابطہ شروع نہیں ہوا ہے۔نوجوان اور مالونی سٹیزنس فورم اپنے طور پر بیداری مہم چلارہے ہیں۔
ایس آئی آر کے تعلق سے مسجد عثمانیہ میں حاضرین کی رہنمائی کی جارہی ہے۔ تصویر:آئی این این
ملاڈ اسمبلی حلقہ نمبر ۱۶۲؍ میں تقریبا ۳؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار ووٹرس ہیں۔اس لحاظ سے ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر)‘ کے لئے ۳۰۶؍سے زائد بی ایل اوز ہونے چاہئیں مگرحیرت انگیز طور پر ابھی تک ان کا باضابطہ تقرر نہیں کیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہےکہ ووٹرس کی باضابطہ میپنگ کاکام شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔
دوسری جانب مقامی نوجوان اورمالونی این جی اوز اور سٹیزنس فور م کی جانب سے مساجد کی سطح پرمسلسل بیداری مہم چلائی جارہی ہے ، لوگوں کوسمجھایا جارہا ہے کہ ان کوپرانی اورنئی ووٹر لسٹ میں اپنے نام کس طرح تلاش کرنے ہیں، میپنگ کے لئے کیا کرنا ہوگا۔ مگرمیپنگ کام بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او) کوہی کرنا ہے اس لئے جلد سےجلد ان کا تقرر ضروری ہےتاکہ وقت کے اندر تمام رائے دہندگان اوران کے اہل خانہ کے ساتھ میپنگ کو یقینی بنایاجاسکے نیز ایک بھی ووٹر کا نام چھوٹنے نہ پائے۔
نائب تحصلیدار کااعتراف اوراب تک محض ۱۵۵؍ بی ایل اوز
ملاڈ اسمبلی حلقہ ۱۶۲؍کے تعلق سے جب نمائندۂ انقلاب نے نائب تحصیلدار جادھو(ان کے ذمہ بی ایل او کے تقرر کے ساتھ نگرانی بھی ہے) سے بات چیت کی اوریہ جاننا چاہا کہ اب تک کتنے بی ایل اوکی تقرری کی جاچکی ہے اور وہ میدان میں آکر کیوں کام نہیں کررہے ہیں ، رائے دہندگان آخر کہاں رابطہ قائم کریں تو انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ ’’پورے حلقے کے ووٹرس کی تعداد کی مناسبت سے ۳۰۶؍ الیکٹورل پارٹ ہیں ، اس کیلئے ۳۰۶؍بی ایل اوز کی ضرورت ہے مگر اب تک محض ۱۵۵؍بی ایل او کا ہی انتخاب ہوا ہے،وہ بھی ابھی میدان میں نہیں آئے ہیں، اسکول سے ہی اپنے طور پر میپنگ کررہے ہیں۔‘‘نائب تحصیلدار جادھو نے یہ بھی بتایا کہ’’ ہوسکتا ہے کہ اسی ہفتے بقیہ ۱۵۱؍ بی ایل اوز اور بی ایم سی کی جانب سے ریلیز کئے جائیں، تب کام میںتیزی آئے گی۔ ‘‘ مزید کہاکہ’’ کوشش کی جائے گی کہ کام اچھی طرح سے اوروقت پرپورا کیا جائے اورکسی کا نام چھوٹنے نہ پائے۔‘‘
بی ایل او نے اسکول سے اپناکام شروع کردیا
کچھ سابق بی ایل اوز سےرابطہ قائم کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اس وقت امتحانات چل رہے ہیں اور اساتذہ کو بوتھ لیول آفیسر کی بھی ذمہ داری دی گئی ہے اس لئے انہوں نے ۲۰۰۲ء اور ۲۰۲۴ء کی فہرست رائے دہندگان کو لے کر اپنی سہولت کے مطابق اسکول سے میپنگ شروع کردی ہے۔ اسکول کا کام ختم ہونے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے باضابطہ ہدایت جاری ہونے اور تاریخوں کاتعین کئے جانے کےبعد وہ گھر گھر جاکر میپنگ کریں گے۔
یہ بھی یادر ہے کہ مدنپورہ اوردیگر علاقوں میں بی ایل او نےکئی دن قبل سے ہی اپنا کام شروع کردیا ہے ۔
نوجوان بھی پیش پیش ۔ تفریق کی بھی شکایت
بیداری مہم میںنوجوان بھی پیش پیش ہیں۔ گیٹ نمبر ۵؍ میںرہنے والے حافظ محمداظہرالدین نےایس آئی آر کی اہمیت کے پیش نظر اپنے قریب کے پورے علاقے کے ووٹروں کی۲۰۰۲ء کی فہرست تلاش کرکے رائے دہندگان کے گھر پہنچادی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے ووٹرس کو علم نہیںہے، اس سے پرانی فہرست میں اپنا نام تلاش کرنے میںانہیں آسانی ہوگی۔
رکن اسمبلی اسلم شیخ کے دفتر میںووٹرس کے کام کاج دیکھنے والے طاہرخان نے بتایاکہ’’ متعدد مرتبہ نائب تحصیلدار اور کاندیولی الیکشن کمیشن کے دفتر میں رابطہ قائم کیا گیا ہے لیکن اب تک بی ایل او کی نہ تومکمل فہرست جاری کی گئی اورنہ ہی تقرر کیا گیا ہے جبکہ ۱۶۱؍ اسمبلی حلقہ کاندیولی میںایسا کوئی مسئلہ نہیںہے، وہاں تمام کام اوربی ایل اوز وغیرہ کاتقرر کیا جاچکا ہے ۔ ‘‘
آج الیکشن عملہ کے ہمراہ میٹنگ
بدھ (آج)کے دن الیکشن آفیسر کے ہمراہ نائب تحصیلدار اوراس کام پرمامور عملہ کی میٹنگ بلائی گئی ہے۔ اس میں بی ایل او اور اساتذہ کی بھی شرکت ہوگی تاکہ وہ اسکول کی ذمہ داری ، امتحان اوربی ایل اوز کی ذمہ داری کے تعلق سے اپنی دشواری بتاسکیں اوراس کاحل نکالا جاسکے ۔