Inquilab Logo Happiest Places to Work

اڈانی انتظامیہ کی جانب سے منظور کردہ ۲۰۰؍ کروڑ روپے کی پیشکش مسترد

Updated: June 01, 2026, 4:08 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Ambivali

نیشنل ریان کارپوریشن کمپنی کے مزدوروں نے نئے تنخواہ معاہدے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بھیک نہیں، حق چاہیے‘۔

Photo: INN
تسویر: آئی این این

 نیشنل ریان کارپوریشن(این آر سی)کمپنی کے ہزاروں ملازمین نے انتظامیہ اور لیبر یونین کے درمیان طے پانے والے نئے تنخواہ کے معاہدے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اڈانی انتظامیہ کے خلاف محاذ کھول دیا۔ ممبئی میں منعقدہ حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کمپنی مینجمنٹ کی جانب سے مزدوروں کیلئے  ۲۰۰؍ کروڑ روپے کے پیکیج کی منظوری دی گئی تھی جسے ملازمین نے اپنے حقوق پر شب خون مارنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ برسوں کی طویل جدوجہد کے بعد کسی بھی قسم کی مصالحت یا ادھورے پیکیج کو قبول نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے : سینٹرل ریلوے: اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ملتوی

تفصیلات کے مطابق  اتوار کوامبیولی کے یادو نگر میں ملازمین اور مزدور رہنماؤں کا ایک ہنگامی اور بڑے پیمانے پر اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں سیکڑوں کی تعداد میں متاثرہ ملازمین نے شرکت کر کے اڈانی انتظامیہ اور مزدور تنظیموں کے خلاف اپنے سخت غم و غصے کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ جب تک ان کے تمام مطالبات کو من و عن تسلیم نہیں کیا جاتا ان کی یہ جدوجہد مزید شدت کے ساتھ جاری رہے گی۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران پورا علاقہ انتظامیہ مخالف نعروں سے گونج اٹھا۔ ملازمین نے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ۲۰۰ ؍کروڑ کی بھیک نہیں ہمیں ہمارے حقوق کا صحیح معاوضہ دو۔ مزدور رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ اس نئے یکطرفہ معاہدے کے نفاذ سے ملازمین کو نہ صرف شدید مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ ان کی برسوں پر محیط سروس اور مراعات بھی داؤ پر لگ جائے گی۔

یہ بھی پڑھئے : دوران تعلیم اسکول کی مخدوش عمارتوں کی مرمت کے حکم سے والدین فکر مند

اس موقع پر سابق کارپوریٹر جے سی کٹاریہ، نامور مزدور لیڈربھیم راؤ ڈولس، شاہیرِ ارجن پاٹل اور اویناش نائک نے خطاب کرتے ہوئے  مشترکہ طور پر کہا کہ ہمارے ملازمین نے کئی دہائیوں تک اس کمپنی کو اپنے خون پسینے سے سینچا ہے۔ کئی برسوں کے طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد اگر ملازمین کی جھولی میں محض چند ٹکڑے ڈالے جا رہے ہیں تو ایسے کھوکھلے اور مزدور دشمن معاہدے کا کیا فائدہ؟ ہم اسے کسی قیمت پر تسلیم نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے : شہرومضافات میں ڈینگو اور ملیریا کے مچھروں کی بہتات، قابو پانے کی مہم تیز

اجلاس میں سب سے زیادہ تشویش کا اظہار این آر سی مزدور سنگھ کے معاندانہ کردار پر کیا گیا۔ ملازمین نے اپنی ہی یونین کے عہدیداران پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کی اپنی بنیادی ذمہ داری سے منہ موڑ لیا ہے۔مقررین نے دعویٰ کیا کہ یونین نے ملازمین کے مفادات کا سودا کرتے ہوئے اڈانی انتظامیہ کے مؤقف کا ساتھ دیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں خاندانوں کا مستقبل تاریک ہو گیا ہے اور ملازمین سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK