Updated: August 29, 2026, 10:04 PM IST
| New York
مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے ساتھ سائبر حملوں کا خطرہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس نے دنیا کی بڑی کمپنیوں اور حکومتوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ۱۰۰؍ سے زائد عالمی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی سے ہونے والے ممکنہ سائبر حملوں سے اہم بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
اے آئی سائبر حملوں سے خود اے آئی بنانے والی کمپنیاں بھی خائف ہیں۔ تصویر: آئی این این
دنیا کی۱۰۰؍ سے زائد بڑی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پیدا ہونے والے ایک سنگین اور فوری خطرے کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اوپن اے آئی، انتھروپک، مائیکروسافٹ، گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ اور امیزون اور کئی دیگر کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سائبر حملوں کی ایک لہر آنے والی ہے اور دنیا اس کیلئے تیار نہیں ہے۔ ۱۰۰؍سے زائد کمپنیوں کے دستخط شدہ ایک کھلے خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے سائبر حملے ان کمپنیوں اور عوامی خدمات کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں جن پر معاشرے کا انحصار ہے، جن میں اسپتال، پانی صاف کرنے کے پلانٹس اور انٹرنیٹ کو چلانے والا بنیادی ڈھانچہ شامل ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس خط پر ان میں سے کئی کمپنیوں نے بھی دستخط کئے ہیں جو خود وہی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی تیار کر رہی ہیں، جسے پہلے ہی ایسے سائبر حملوں میں استعمال کیا جا چکا ہے۔ مثال کے طور پر چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے بھی اس خط کی تشہیر کی اور اس پر دستخط کئے ہیں۔ اوپن اے آئی کو اس واقعے کے بعد مسلسل تنقید کا سامنا ہے جس میں اس کے ایک تجرباتی نظام نے ایک دوسری اے آئی کمپنی پر سائبر حملہ کیا تھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی سائبر سکیوریٹی ٹولز پہلے ہی دفاع کرنے والوں کو برسوں سے موجود سکیوریٹی خامیوں کو دور کرنے کے نئے طریقے فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم، ان ٹولز کو حملوں کے بجائے نظاموں کے تحفظ کیلئے استعمال کرنے کو یقینی بنانے کیلئے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل یروشلم کی سڑکوں، تاریخی عمارتوں کے عربی نام عبرانی ناموں سے بدل رہا ہے
خط میں اجتماعی ردعمل کیلئے تین بنیادی اصول پیش کئے گئے ہیں :
۱۔ یہ تسلیم کرنا کہ موجودہ سکیوریٹی نظام کافی نہیں ہوگا، کیونکہ بہت سی سکیوریٹی ٹیموں کے پاس اپنے نظام کو محفوظ رکھنے کیلئے مناسب وسائل موجود نہیں ہیں۔
۲۔ دفاع کرنے والوں کو بہتراے آئی ٹولز فراہم کرنا تاکہ وہ اپنے نظام کو زیادہ مؤثر انداز میں محفوظ بنا سکیں۔
۳۔ اس خطرے سے نمٹنے کیلئے ایک اجتماعی اور عالمی ردعمل تشکیل دینا۔
کمپنیوں نے سکیوریٹی ٹیموں اور دفاعی اے آئی نظاموں کیلئے نئی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان خطرات پر قابو پایا جا سکے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے کہ یہ خطرہ ہمارے اہم ترین اور حساس بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرے، ہمارے پاس اپنی ڈجیٹل دنیا کو زیادہ محفوظ بنانے کیلئے وقت بہت محدود ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں اے آئی سے چلنے والے سائبر حملے کہیں زیادہ عام ہو جائیں گے، کیونکہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ خط نے حکومتوں اور صنعتوں کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اس کوشش کیلئے اپنی ٹیکنالوجی، وسائل اور مہارت کو پوری طرح بروئے کار لائیں۔
یہ بھی پڑھئے: مشرقی یروشلم میں اسرائیلی پولیس کا فلسطینی گریجویشن تقریب پر دھاوا، ۴؍ گرفتار
خط میں حکومتوں سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ قابلِ اعتماد رسائی کے پروگراموں کو تیز کریں۔ ان پروگراموں کے ذریعے بعض کمپنیوں کو عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اے آئی ماڈلز تک پہلے سے رسائی دی جاتی ہے۔ دیگر تمام اداروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ سائبر دفاع کو اپنی قیادت کی فوری ترجیح بنائیں۔ یہ کھلا خط اس بڑھتی ہوئی تشویش کے جواب میں جاری کیا گیا ہے کہ اے آئی پر مبنی سائبر سکیوریٹی نظام ہماری ان ٹیکنالوجیز کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت سے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور یہ ہیکرز کو غیر معمولی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی رکن پارلیمان نے مقبوضہ مغربی کنارہ میں موجود فلسطینی میموریل کو توڑا
خود اے آئی کمپنیوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ ان کے ٹولز میں خطرناک رویے کا امکان بڑھ رہا ہے۔ تاہم، ان کمپنیوں کا زیادہ تر مؤقف اب بھی یہی ہے کہ اگر ان ٹیکنالوجیز کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ سکیوریٹی اور تحفظ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اس خط پر دنیا کی کئی معروف جدید اے آئی کمپنیوں نے دستخط کئے ہیں جن میں اوپن اے آئی، کلاؤڈ بنانے والی انتھروپک اور گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ شامل ہیں۔ الفابیٹ ہی کے پاس ڈیپ مائنڈ نامی اے آئی کمپنی بھی ہے۔ تاہم، دستخط کرنے والوں میں ٹیکنالوجی کے شعبے سے باہر کی متعدد کمپنیاں بھی شامل ہیں، جن میں ماسٹر کارڈاور زیورخ جیسی انشورنس اور مالیاتی کمپنیاں شامل ہیں۔ اس سے قبل جون میں دنیا کے ’’Five Eyes‘‘ انٹیلی جنس اتحاد جس میں امریکہ، برطانیہ، کنیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں نے بھی ایک غیر معمولی مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت کا انقلاب سائبر سکیوریٹی کے شعبے کو ’’بنیادی طور پر تبدیل‘‘ کرنے والا ہے۔