ہومیوپیتھ ڈاکٹروں کومہاراشٹر میڈیکل کاؤنسل کے رجسٹریشن کی اجازت دینے کیخلاف آج بی ایم سی اسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات بندرہیں گی۔
EPAPER
Updated: August 05, 2026, 12:52 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
ہومیوپیتھ ڈاکٹروں کومہاراشٹر میڈیکل کاؤنسل کے رجسٹریشن کی اجازت دینے کیخلاف آج بی ایم سی اسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات بندرہیں گی۔
ہومیو پیتھ ڈاکٹروں کو ایلوپیتھ علاج کی پریکٹس کیلئے رجسٹریشن کی اجازت دینے پر مہاراشٹر میڈیکل کونسل(ایم ایم سی) نے سخت اعتراض کیا ہے ۔جہاںایک طرف اس کے خلاف ممبئی سمیت ریاست بھر کے نجی ڈاکٹروں اور اسپتالوں میں منگل کی صبح ۶؍بجے سے بدھ کی صبح ۶؍بجے تک یعنی ۲۴؍گھنٹے طبی خدمات محدود رہیں ،وہیںدوسری جانب انڈین میڈیکل کائونسل ( آئی ایم سی ) اور بی ایم سی کے مہاراشٹر اسوسی ایشن آف ریسیڈنٹ ڈاکٹرز( مارڈز) نے بدھ سے بی ایم سی کے تمام اسپتالوں میں اوپی ڈی خدمات بند کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ایمرجنسی سروسیز، کیزولٹی، انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو)، میٹرنٹی وارڈ اور دیگر ضروری طبی خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں گی ۔ ان اداروں نے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں احتجاج میں شدت کی دھمکی بھی دی ہے ۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی پولیس میں تنخواہ گھوٹالہ، افسران کی جعلسازی
بی ایم سی مارڈز نے بدھ سے بی ایم سی کے نائر،کے ای ایم ، سائن اور کوپر اسپتالوں میں باقاعدہ’ آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ‘ (اوپی ڈی) بند کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ فیصلہ بیچلر آف ہومیوپیتھک میڈیسین اینڈ سرجری ( بی ایچ ایم ایس ) ڈاکٹروں کو ایم ایم سی میں رجسٹریشن کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے مشروط اجازت دیئے جانے کے خلاف کیا گیا ہے ۔اس تعلق سے ریاستی حکومت نے پیر کو ایک جی آر بھی جاری کیا ہے ۔ ایم ایم سی کے رجسٹرار راکیش واگھمارے کے مطابق ہومیوپیتھ ڈاکٹر وں کے رجسٹریشن کا عمل جلد شروع ہوسکتا ہے ۔
بی ایم سی مارڈ نے واضح کیا ہے کہ ایک سال کے بریج کورس کے ذریعے سرٹیفکیٹ کورس ان ماڈرن فارماکولوجی ( سی سی ایم پی) کی اہلیت کے حامل بی ایچ ایم ایس ڈاکٹروں کو ایم ایم سی رجسٹریشن دینا میڈیکل ایجوکیشن کے قائم کردہ اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا ہے ۔ اس کی وجہ سے ایم ایم سی رجسٹریشن سسٹم کی ساکھ کے متاثر ہونے اور مریضوں کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ مارڈز تمام تسلیم شدہ طبی طریقوں کا احترام اور ریگولیٹری اُصولوں میں نرمی کی مخالفت کرتی ہے ۔ مارڈز نے حکومت کے سامنے ۳؍ اہم مطالبات رکھے ہیں۔ جن میں بامبے ہائی کورٹ کے حتمی فیصلے تک سی سی ایم پی اہلیت کے حامل بی ایچ ایم ایس ڈاکٹروں کی ایم ایم سی رجسٹریشن شروع نہ کی جائے، میونسپل انتظامیہ فوری طور پر رہائشی ڈاکٹروں کے زیر التواء مسائل پر بات کرے اور طبی تعلیم اور مریضوں کی حفاظت کے قائم کردہ اُصولوں کو برقرار رکھا جائے،شامل ہیں۔
بی ایم سی مارڈز نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ اگر حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا گیا تو احتجاج کو تیز کیا جائے گا اور احتجاج کا اگلا مرحلہ قانونی اور جمہوری طریقے سے شروع کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: حاجی ملنگ کے مزار پر بھگوا عناصر کا دعویٰ خارج
دریں اثناء ہومیوپیتھ ڈاکٹروں کیلئے مشروط ایم ایم سی رجسٹریشن کی پیشکش والے جی آر کے خلاف آئی ایم اے کی ریاستی ونگ نے منگل کی صبح ۶؍ بجے سے ۲۴؍ گھنٹے کیلئے طبی خدمات کو مسدود رکھاجس کی وجہ سے چند نجی اسپتالوں کے پرائیویٹ کلینکس اور او پی ڈیز کی خدمات متاثر رہیں ۔سینٹرل مارڈز کے صدر ڈاکٹر اتھروا شندے نے کہا کہ’’ اگر ایم ایم سی نے رجسٹریشن کا عمل شروع کیا تو مارڈز سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی خدمات کو غیرمعینہ مدت کیلئے بند کر نے اعلان بھی کرسکتی ہے۔‘‘آئی ایم اے نے اس تعلق سے ایک بیان میں کہاہے کہ’’ایلوپیتھک طبی برادری اس اقدام کو جدید ادویات کے معیارات، سالمیت اور سائنسی بنیادوں سے سمجھوتہ کرنا سمجھ رہی ہے جس سے صحت عامہ اور مریضوں کی حفاظت کیلئے ممکنہ طور پر سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔‘‘
دریں اثناء مہاراشٹر کونسل آف ہومیوپیتھی کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر باہوبلی شاہ نے کہا ہےکہ’’ یہ ریاست کے عام لوگوں کی ایک دیرینہ فتح ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ’’ ۲۰۲۵ء میں ڈھائی ہزار سے زیادہ ہومیوپیتھ ڈاکٹرز رجسٹریشن کیلئے پہلے ہی آن لائن درخواست دے چکے ہیں اور اب وہ رجسٹریشن حاصل کرنے کے منتظر ہیں ۔۱۰؍ہزار مزید ہومیوپیتھ ڈاکٹرز جنہوں نے سی سی ایم پی کورس مکمل کر لیا ہے ، وہ بھی رجسٹریشن کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔‘‘