’پیڈسٹرین فرسٹ‘ مہم کے تحت میونسپل کمشنرکی ہدایت پر پہلے مرحلے میں ۳۲۰؍ کلو میٹر کے فٹ پاتھ سے غیرقانونی ہاکرس اوررکاوٹیں ختم کی جائیں گی۔
EPAPER
Updated: August 04, 2026, 12:28 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
’پیڈسٹرین فرسٹ‘ مہم کے تحت میونسپل کمشنرکی ہدایت پر پہلے مرحلے میں ۳۲۰؍ کلو میٹر کے فٹ پاتھ سے غیرقانونی ہاکرس اوررکاوٹیں ختم کی جائیں گی۔
’برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن(بی ایم سی)‘ کی کمشنر اشوینی بھیڈے نے راہگیروں کو رکاوٹوں سے پاک فٹ پاتھ فراہم کرنے کو اولین ترجیح دیتے ہوئے میونسپل افسران کو حکم دیا ہے کہ وہ فٹ پاتھوں سے فوری طور پر غیرقانونی ہاکرس اور تجاوزات کو ہٹادیں۔شہری انتظامیہ کے مطابق ممبئی میں لوگ تقریباً ۵۰؍ فیصد سفر پیدل طے کرتے ہیں اور اسی کے پیش نظر اس مہم کے تحت پہلے مرحلے میں ۳۲۰؍ کلو میٹر فٹ پاتھ سے غیر قانونی ہاکرس، تجاوزات اور دیگر رکاوٹوں کو ہٹایا جائے گا۔
پیر کو بی ایم سی کی جانب سے اطلاع دی گئی ہے کہ شہریوں کےپیدل سفر کو محفوظ، آسان اور رکاوٹوں سے پاک بنانے کے مقصد سے ’پیڈسٹرین فرسٹ‘ مہم کو موثر طریقہ سے نافذ کیا جارہا ہے اور اسی مہم کے تحت بی ایم سی کمشنر نے تمام اسسٹنٹ میونسپل کمشنروں (وارڈ افسران) کو روزانہ اس سلسلے میں کی جانے والی کارروائیوں کی پیش رفت کی رپورٹ بلا ناغہ دیکھنے اور اس کام کا جائہ لینے کی بھی سختی سے ہدایت دی ہے۔ اپنے جائزے میں انہیں ہر دن کی ’پہلے‘ اور ’بعد‘ کی تصویروں کے ساتھ کارروائی کی رپورٹ کی جانچ کرنی ہوگی۔ اسسٹنٹ کمشنروں کے بعد ڈپٹی کمشنر زون کی سطح پر ہفتے میں ایک بار اس کا جائزہ لیں گے اور اپنی رپورٹ ایڈیشنل میونسپل کمشنر کو پیش کریں گے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر کو ہر ۱۵؍ دن بعد اس کا جائزہ لینا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: انو شکتی نگر میں ایس آئی آر کا فارم صحیح طریقے سے نہ بھرنے کی شکایت
فٹ پاتھوں کو چلنے پھرنے کیلئے بہتر اور خوبصورت بنانے کابھی حکم
فٹ پاتھوں کو خالی کرانے کے ساتھ انہیں چلنے کیلئے بہتر، خوبصورت بنانے اور حفاظتی اقدامات پر فوری عملدرآمد کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ سینئر افسران کو اس بات کا خیال رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ خالی کرائے گئے فٹ پاتھ پر دوبارہ غیرقانونی تجاوزات نہ ہوں اور ہاکرس دوبارہ قبضہ نہ کرلیں۔
بی ایم سی کمشنر نے کہا ہے کہ اس مہم میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور حکم کی تعمیل نہ کرنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ تمام ہدایات بی ایم سی کے صدر دفتر میں حال ہی میں منعقد کی گئی مختلف محکموں کی ایک اہم جائزہ میٹنگ میں دی گئی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے پاک رکھنا صرف ایک مہم نہیں ہے بلکہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اس لئے تعمیراتی سامان، راستے میں رکاوٹیں، لاوارث یا غلط پارک کی گئی گاڑیاں، کوڑے کے ڈھیر اور فٹ پاتھوں پر ناہموار سطحیں پیدل چلنے والوں کیلئے رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں۔ لہٰذا عوامی مقامات بالخصوص اسکولوں، اسپتالوں، ریلوے اسٹیشنوں، میٹرو اسٹیشنوں، بس اسٹینڈ، بازاروں اور شہریوں کی بھیڑبھاڑ والے علاقوں میں فٹ پاتھوں پر سے ہر قسم کی تجاوزات کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور فٹ پاتھوں کو پیدل چلنے والوں کے لئے محفوظ اور قابل رسائی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’تبدیلی مذہب مخالف قانون آئین کے برخلاف ہے‘‘
کن رکاوٹوں کو ہٹایا جائے گا؟
جن رکاوٹوں کو دور کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، ان میں غیر قانونی اشتہاری بورڈ، ہورڈنگ، اونچے ریمپ اور دیگر رکاوٹیں شامل ہیں۔متعلقہ حکام کو باقاعدگی سے یہ تصدیق کرنے کو بھی کہا گیا ہے کہ لائسنس یافتہ دکاندار اپنی اشیاء اور بورڈ وغیرہ ان حدود میں لگاتے ہیں یا نہیں جو ان کو دی گئی ہیں۔
فٹ پاتھ پر رکاوٹیں پیدا کرنے والے درختوں کی شاخوں کو بھی سائنسی طریقہ سے کاٹنے کو کہا گیا ہے۔ نئے فٹ پاتھ کی تعمیر صرف مقررہ معیاری ڈیزائن کے مطابق اور ۴۰؍ایم گریڈ کنکریٹ میں کی جائے اور کسی بھی حالت میں پیور بلاکس یا اسٹیمپڈ کنکریٹ کا استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
بی ایم سی کمشنر کے مطابق فٹ پاتھ پر سہولت سے چلنے کا راستہ ملنے سے طلبہ، خواتین اور عمر دراز افراد کو بھی فائدہ پہنچے گا، لوگ فٹ پاتھ پر زیادہ چلیں گے تو سڑک حادثات میں کمی آئے گی اور ٹریفک جام سے بھی نجات ملے گی۔