ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق ۲۰۲۵ء میں انٹارکٹکا کے اوزون ہول کا پھیلاؤ اور شدت ۱۹۹۰ء۔۲۰۱۰ء کی اوسط سے نمایاں کم رہی، جبکہ ہندوستانی شہروں میں زمینی سطح کے اوزون کی آلودگی کئی موسموں تک پھیل رہی ہے۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 10:06 PM IST | Geneva / New Delhi
ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق ۲۰۲۵ء میں انٹارکٹکا کے اوزون ہول کا پھیلاؤ اور شدت ۱۹۹۰ء۔۲۰۱۰ء کی اوسط سے نمایاں کم رہی، جبکہ ہندوستانی شہروں میں زمینی سطح کے اوزون کی آلودگی کئی موسموں تک پھیل رہی ہے۔
زمین کی حفاظتی اوزون تہہ کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، تاہم ہندوستان میں اسی گیس کی ایک مختلف شکل تیزی سے بڑھتا ہوا فضائی آلودگی کا مسئلہ بن رہی ہے۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) کی ستمبر ۲۰۲۶ء کی تازہ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں انٹارکٹکا کے اوزون ہول کا حجم اور گہرائی حالیہ دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں رہی۔ دوسری جانب ہندوستان میں زمینی سطح پر بننے والی اوزون کی آلودگی کئی بڑے شہروں میں زیادہ دنوں اور زیادہ طویل اوقات تک برقرار رہنے لگی ہے۔ ڈبلیو ایم او کے مطابق ۲۰۲۵ء کا انٹارکٹک اوزون ہول ۱۹۹۲ء کے بعد شدید اوزون کمی کے دور میں چوتھے یا پانچویں سب سے کم حجم والے ہول کے طور پر ریکارڈ کیا گیا۔ یہ مسلسل دوسرا سال تھا جب اوزون ہول کی گہرائی اور پھیلاؤ دونوں ۱۹۹۰۔۲۰۱۰ء کی اوسط سے نمایاں کم رہے۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ سال بہ سال اتار چڑھاؤ موسمی اور فضائی حالات سے بھی متاثر ہوتا ہے، اس لیے کسی ایک سال کے اعداد و شمار کو مکمل بحالی کی علامت نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھئے: جنرل اسمبلی اجلاس سے قبل جی سی سی وزارتی کونسل کی رابطہ میٹنگ
ڈبلیو ایم او نے اوزون تہہ کی طویل مدتی بحالی کو ۱۹۸۷ء کے مونٹریال پروٹوکول کے تحت اوزون کو نقصان پہنچانے والے کیمیکلز، خصوصاً کلورو فلورو کاربنز، میں کمی سے جوڑا ہے۔ تنظیم کے مطابق ۲۰۰۰ء کے بعد اوزون تہہ کی بحالی کا رجحان واضح ہے اور موجودہ پالیسیوں کے برقرار رہنے کی صورت میں آنے والی کئی دہائیوں میں اس کی بحالی جاری رہنے کی توقع ہے۔ ڈبلیو ایم او کی سیکریٹری جنرل سیلیسٹے ساؤلو نے اسے ’’ماحولیاتی کامیابی کی ایک کہانی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ۲۰۰۰ء کے بعد اوزون تہہ بحال ہو رہی ہے اور مکمل بحالی کی توقع آنے والی کئی دہائیوں میں کی جا سکتی ہے۔ تاہم تنظیم نے ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ بالائے بنفشی شعاعیں اب بھی صحت کے لیے خطرہ ہیں اور اوزون کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
ڈبلیو ایم اوکے مطابق فضا میں موجود اوزون کا تقریباً ۹۰؍ فیصد حصہ بالائی فضا، یعنی اسٹریٹوسفیئر میں موجود ہے۔ یہی تہہ سورج سے آنے والی نقصان دہ بالائے بنفشی شعاعوں کے بڑے حصے کو زمین تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے مشاہدات میں بعض علاقوں میں زیادہ UV انڈیکس والے دنوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے اوزون تہہ کی بحالی کے باوجود سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں سے تحفظ کی اہمیت برقرار ہے۔ انٹارکٹکا کے اوزون ہول میں بہتری کے برعکس ہندوستان کو زمینی سطح کے اوزون سے متعلق ایک بڑھتے ہوئے مسئلے کا سامنا ہے۔ سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ (CSE) کے جون ۲۰۲۶ء کے ۲۵؍ ہندوستانی شہروں کے ۶؍ سالہ تجزیے کے مطابق زمینی اوزون اب محدود اور مختصر مدت کے واقعات تک محدود نہیں رہی بلکہ کئی خطوں میں سال بھر جاری رہنے والی شہری اور علاقائی فضائی آلودگی کا مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس میں داخلہ پر پابندی کیخلاف ۳؍ میڈیا ادارے ٹرمپ پرمقدمہ کرینگے
سی ایس ای کے تجزیے میں ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۶ء تک کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ یکم مارچ سے ۱۰؍ مئی ۲۰۲۶ء کے دوران شامل ۲۵؍ بڑے شہروں میں سے ۱۵؍ میں موسم گرما کے دوران اوزون کی اوسط سطح ۸؍ گھنٹے کی زیادہ سے زیادہ مدت کے لیے مقرر قومی فضائی معیار، یعنی ۱۰۰؍ مائیکروگرام فی مکعب میٹر، سے کافی زیادہ رہی۔ چنڈی گڑھ میں موسم گرما کے دوران اوزون کی اوسط سطح ۱۷۳؍ مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو تجزیے میں شامل شہروں میں سب سے زیادہ تھی۔ جے پور ۱۲۰، احمد آباد ۱۱۵؍ اور بھوپال ۱۰۹؍ مائیکروگرام فی مکعب میٹر کے ساتھ اس کے بعد رہے۔ دہلی این سی آر میں مسئلہ سب سے زیادہ مسلسل رہا، جہاں مطالعے کے ۷۱؍ دن کے عرصے میں ہر روز ۸؍ گھنٹے کے قومی معیار سے تجاوز ریکارڈ کیا گیا۔ سی ایس ای کے مطابق بھوپال میں اوزون کی سطح اوسطاً روزانہ ۱۷؍ گھنٹے تک مقررہ حد سے زیادہ رہی، جبکہ لکھنؤ میں یہ مدت ۳ء۱۶؍ گھنٹے اور ممبئی اور بنگلورو میں ۹ء۱۵؍ گھنٹے رہی۔ ممبئی میں اوزون کی آلودگی صرف موسم گرما تک محدود نہیں رہی اور جنوری سے اپریل اور پھر نومبر اور دسمبر میں بھی اس کے زیادہ ہونے کے واقعات سامنے آئے۔
ایک اور تشویش رات کے وقت اوزون کی موجودگی ہے۔ سی ایس ای کے مطابق دہلی این سی آر میں ۴۶؍ راتوں، بنگلورو میں ۱۴، بھوپال میں ۱۳؍ اور پٹنہ و مظفرپور میں ۸۔۸؍ راتوں میں اوزون کی مقررہ حد سے تجاوز ریکارڈ کیا گیا۔ شدید گرمی کے دوران دہلی میں بعض مہینوں میں ۲۰؍ سے ۳۰؍ راتوں تک اوزون کی سطح میں رات کے وقت بھی اضافہ دیکھا گیا۔ سی ایس ای کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور تجزیے کی سربراہ انومیتا رائے چودھری کے مطابق ہندوستان کا مسئلہ اسٹریٹوسفیر میں موجود اوزون کی کمی سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں زمینی اوزون گاڑیوں کے اخراج، صنعتی سرگرمیوں اور دیگر ذرائع سے خارج ہونے والی گیسوں کے سورج کی روشنی اور گرمی میں کیمیائی ردعمل کے نتیجے میں بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روس میں انتخابات، حکمراں پارٹی یونائیٹڈ رَشیا کوواضح برتری
زمینی سطح کی اوزون براہ راست کسی ایک ذریعہ سے خارج نہیں ہوتی بلکہ نائٹروجن آکسائیڈز، غیر مستحکم نامیاتی مرکبات اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسے پیش رو آلودہ مادوں کے سورج کی روشنی میں کیمیائی تعامل سے بنتی ہے۔ شدید گرمی اور تیز دھوپ اس عمل کو مزید تقویت دے سکتی ہے، جبکہ یہ آلودگی شہری حدود سے باہر بھی منتقل ہو کر پورے خطے کو متاثر کر سکتی ہے۔ سی ایس ای نے خبردار کیا ہے کہ اوزون کی بڑھتی ہوئی سطح انسانی صحت کے علاوہ زراعت اور علاقائی آب و ہوا پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ ادارے کے مطابق اوزون پودوں میں ضیائی تالیف اور نشوونما کو متاثر کر سکتی ہے اور ہندوستان میں گندم کی پیداوار پر بھی دباؤ ڈالنے والے عوامل میں شامل ہو سکتی ہے۔
رائے چودھری نے کہا کہ ہندوستان کے قومی صاف ہوا پروگرام کے اگلے مرحلے میں صرف ذراتی آلودگی پر توجہ دینے کے بجائے اوزون بنانے والی پیش رو گیسوں، خصوصاً نائٹروجن آکسائیڈز اور غیر مستحکم نامیاتی مرکبات، کو بھی ایک جامع حکمت عملی کے تحت قابو کرنا ضروری ہے۔عالمی سطح پر اوزون کی حفاظتی تہہ کی بحالی مونٹریال پروٹوکول کے تحت بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ ہندوستان کے شہروں میں زمینی اوزون کا بڑھتا ہوا مسئلہ فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے مقامی اور علاقائی سطح پر مختلف گیسوں کے اخراج کو ایک ساتھ کم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔