Inquilab Logo Happiest Places to Work

لوکل ٹرینوں میں ہاکرس کو کار و بار کی اجازت سے مسافروں کی تنظیمیں ناراض

Updated: April 10, 2026, 10:00 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

ممبئی مضافاتی ریلوے میں پہلے ہی بے پناہ بھیڑ اور آئے دن پیش آنے والے حادثات کے باعث مسافروں کی سلامتی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ممبئی مضافاتی ریلوے میں پہلے ہی بے پناہ بھیڑ اور آئے دن پیش آنے والے حادثات کے باعث مسافروں کی سلامتی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ایسے حالات میں ریلوے نے ایک متنازع فیصلے کیا جس سے تشویش پائی جارہی ہے۔ ریلوے حکام نے مسافر تنظیموں کے اراکین کو اعتماد میں لئے بغیر کلیان سے چھترپتی شیواجی مہاراج ٹر منس (سی ایس ایم ٹی) کے درمیان چلنے والی لوکل ٹرینوں میں پھیری والوں کو باقاعدہ کاروبار کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے پر مسافروں کی تنظیموں میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مسافروں سے بھری ٹرینوں میں پھیری والوں کو اجازت دینا مسافروں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ممبئی سینٹرل بریج کا نیا ڈیزائن آسانی سے زیادہ پریشانی کا سبب!

گزشتہ چند برسوں کے دوران ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں مسافروں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ حالات اس قدر سنگین ہو چکے ہیں کہ بیشتر ٹرینوں میں تل دھرنے کی بھی جگہ باقی نہیں رہتی اور ہزاروں مسافر روزانہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے تشویشناک حالات میں جب آئے دن مسافروں کے ٹرینوں سے گر کر ہلاک یا زخمی ہونے کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، سینٹرل ریلوے کا حالیہ ایک فیصلہ مسافروں کی تنظیموں میں شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سینٹرل ریلوے نے سی ایس ایم ٹی اور کلیان ریلوے اسٹیشنوں کے درمیان لوکل ٹرینوں میں ہاکرس کو باقاعدہ کاروبار کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سبربن ریلوے پیسنجر فیڈریشن کی صدر لتا ارگڑے اور سیکریٹری جیتو وشے نے ریلوے کے اعلیٰ حکام کو ایک احتجاجی مکتوب روانہ کیا ہےجس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ روزانہ مسافر ٹرینوں سے گرکر جان گنوا رہے ہیں، اسٹیشنوں اور ڈبوں میں شدید بھیڑ کی وجہ سے سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے لیکن انتظامیہ ان بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے محض آمدنی بڑھانے کی کوششوں میں مصروف نظر آتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلے مسافروں کی مشکلات کم کرنے کے بجائے انہیں مزید بڑھانے کا سبب بنیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: کلیان ڈومبیولی میں پانی کا بحران، ٹینکر مافیا اور انتظامیہ کے گٹھ جوڑ کا انکشاف

مسافروں کی تنظیموں کے مطابق کرجت،کسارا،امبرناتھ اور بدلاپور سے آنے والی لوکل ٹرینیں پہلے ہی حد درجہ بھری ہوتی ہیں۔ ان ٹرینوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کلیان اور ڈومبیولی کے مسافروں کو ٹرین میں داخل ہونے کا موقع تک نہیں ملتا۔ ایسے میں اگر پھیری والے اپنے بڑے بڑے تھیلوں اور سامان کے ساتھ ٹرینوں میں سوار ہوں گے تو صورتحال مزید ابتر ہو جائے گی اور مسافروں کیلئے دم گھٹنے جیسا ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ تنظیم کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ممبرا کے قریب نئے ریلوے ٹریک کی تعمیر کے بعد سے حادثات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق ٹرینوں میں پھیری والوں کی موجودگی اس خطرے کو مزید سنگین بنا سکتی ہے اور کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔

واضح رہے کہ سال ۲۰۲۳ میں بھی اس نوعیت کی ایک کوشش کی گئی تھی مگر عوامی احتجاج اور مسافروں کی تنظیموں کے شدید دباؤ کے باعث ریلوے انتظامیہ کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا تھا۔ اس کے باوجود اب ایک بار پھر ایس ایس انٹرپرائزر نامی ایجنسی کو دسمبر ۲۰۲۵ء سے ہاکرس کے کاروبار کا ٹھیکہ الاٹ کر دیا گیا ہے۔ مسافروں کی تنظیم نے اپنے انتباہ میں واضح کیا ہے کہ اگر یہ ٹھیکہ فوری طور پر منسوخ نہ کیا گیا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK