بامبے ہائی کورٹ کے بقول کولی سماج نے ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ سے علاحدہ ہونے کی درخواست دینے میں بہت تاخیر کردی ہے۔
EPAPER
Updated: April 20, 2026, 10:09 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai
بامبے ہائی کورٹ کے بقول کولی سماج نے ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ سے علاحدہ ہونے کی درخواست دینے میں بہت تاخیر کردی ہے۔
بامبے ہائی کورٹ نے دھاراوی کولی واڑہ کی ۲؍ لاکھ ۸۳۰؍ مربع میٹر زمین پر آباد کولی سماج کے مکینوں کی دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ سے علاحدہ کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے ۔ کورٹ نے دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ سے دھاراوی کولی سماج کو الگ نہ کرنے کا یہ جواز پیش کیا ہے کہ کولی سماج نے مذکورہ پروجیکٹ سے علاحدہ ہونے کی درخواست دینے میں بہت تاخیر کر دی ہے اور بیشتر زمین پر اپنا حقوق کھو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خود کار دروازے والی نئی لوکل میں سفر کرنے کیلئے ۲؍ ماہ سے زائد انتظار کرنا ہوگا
دھاراوی کولی جماعت ٹرسٹ نے اپنی داخل کردہ عرضداشت کے ذریعہ کورٹ کو بتایا کہ ۲؍ لاکھ سے زائد مربع میٹر پر آباد کولی سماج ممبئی کے ان ۷؍ ماہی گیری کولی سماج میں سے ایک ہے جو ممبئی کے سب سے قدیم شہری ہیں۔کولی جماعت ٹرسٹ نے سب سے قدیم شہری ہونے کے ساتھ دھاراوی کولی جماعت ٹرسٹ ماہی گیری برادری کی نمائندہ جماعت ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ انہوںنے فشریز اورسٹی سروے ڈپارٹمنٹ کےکئےگئے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ سے اپنے آپ کو علاحدہ کرنے کی درخواست کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دراندازوں‘‘ کے نام پر سیاست کے درمیان ممبئی میں پہلا ڈٹینشن سینٹر قائم
وکلاء روی گڈاگکر اور اوشا گڈاگکرنے ٹرسٹ کی پیروی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ’’ مہاراشٹر کے ریوینیو اور اربن ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹس کی طرف سے دھاراوی کولی واڑاہ کی بیرونی حدود کا تعین کرنے اور حتمی شکل دینے میں ۱۵؍سال کی غیر معمولی تاخیر کی ہے۔ نومبر ۲۰۱۸ءمیں ریوینیو اور فشریز ڈیپارٹمنٹ کے افسران پر مشتمل ایک کمیٹی نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ دھاراوی کولی واڑہ۲۰۰۸۳۰؍مربع میٹر پر پھیلا ہےجس میں گاؤٹھن (ماہی گیری گاؤں) اور ماہی گیری برادری کے روایتی استعمال میں آنے والے آس پاس کے علاقے شامل ہیں۔ ‘‘