Inquilab Logo Happiest Places to Work

مزید ۱۰؍ ہزار روپے جمع کرانے کی ہدایت پر عازمین برہم

Updated: May 01, 2026, 10:26 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

کہا: مشرق ِ وسطیٰ کے جن خراب حالات کا حوالہ دیا جارہا ہے، اس سے کئی ماہ قبل ہی تمام رقم جمع کرائی جاچکی ہے۔ یہ بھی پوچھا کہ اگر ایندھن سستا ہوتا تو کیا کرایہ کم کیا جاتا اور لی گئی رقم لوٹائی جاتی۔

So far, more than 20,000 pilgrims have left for the holy Hijaz. (File photo)
اب تک ۲۰؍ ہزار سے زائد عازمین حجاز مقدس کیلئے روانہ ہوچکے ہیں۔ (فائل فوٹو)

عازمین ِ حج کی روانگی شروع ہونےکے بعد مزید ۱۰؍ ہزار روپے فی عازم جمع کرانے کی ہدایت   پرعازمین سخت برہم ہیں اور اسےصریح زیادتی قراردے رہے ہیں ۔وہ کئی سوالات قائم کررہے ہیں۔نمائندۂ انقلاب نے متعدد عازمین سے بات چیت کی اور ان کی رائے معلوم کی ۔عازمین نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ  سب کچھ طے ہوجانے اور اب تک ۲۰؍ ہزار سے زائد عازمین کی حجاز مقدس روانگی کے باوجود اس طرح کا فیصلہ کیسے کیا گیا۔ 

 عازمین نے کیا کہا ؟

نبی حسین خان، جو اہلیہ،بیٹی اور بہن کے ساتھ حج بیت اللہ کیلئے جانے والے ہیں، نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے نمائندۂ انقلاب کوبتایا کہ ’’منگل کی رات میں پونے ۱۲؍ بجے حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے انہیں میسیج آیا،اس میں تین چیزوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اوّل یہ کہ مشرق وسطیٰ کے خراب حالات کے سبب ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔ ہوائی کمپنیوں کی جانب سے ۴۰۰؍ ڈالر اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر وزارت برائے اقلیتی امور کی جانب سے محض ۱۰۰؍ڈالر (انڈین دس ہزارروپے ) اضافے کو منظوری دی گئی ۔ دوسرے یہ رقم ہرعازم کو خواہ وہ کسی بھی امبارکیشن پوائنٹ سے جارہا ہے ، دینا ہوگی۔ تیسرےیہ دس ہزار روپے ۱۵؍مئی تک حج کمیٹی آف انڈیا کے کھاتے میں جمع کرانا ہوگا ۔‘‘  ان کایہ بھی کہنا ہے کہ ’’ یہ طریقہ غلط ہے۔ جب سب کچھ ہوگیا  اس کے بعد یہ تو زبردستی ہےاور حاجیوں کو پریشان کیا جارہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر ایندھن کا دام کم ہوجاتا تو کیا کرایہ کم کیا جاتا۔ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ اگر کسی کے گھر کے چار لوگ حج کے لئے جارہے ہیں تو اسے ۴۰؍ ہزار روپے دینا ہوگا، کیا یہ ایک بڑا بوجھ نہیں ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: ریلوے پولیس اہلکار کی مستعدی ، ماں اور بچے کی جان بچ گئی

اسماعیل شیخ جن کے ساتھ ان کے گھر کے ۳؍ لوگ حج کے لئے جارہے ہیں، نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’حج کمیٹی کی اس سے بدتر بدنظمی کچھ اور نہیں ہوسکتی۔ حج ۲۰۲۶ء کے آغاز سے ہی عازمین کو اندھیرے میں رکھا گیا اور تین قسطوں میں رقم جمع کرائی گئی۔ اب روانگی کے وقت جب سب کچھ کلیئر ہوگیا تو مزید بوجھ ڈالا جارہا ہے۔اس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس طرح گویا حاجیوں کو لوٹا جارہا ہے۔‘‘ انہوں نےیہ بھی کہا کہ ’’کیا اگر حاجی اپنی پریشانی یا کسی اہم مسئلے کے سبب عین وقت حج پرجانے کا ارادہ ملتوی کرتا تو کیا اسے پوری رقم لوٹائی جاتی تب تو اسے دنیا بھر کے ضابطے یاد دلائے جاتے۔ اس لئے حج کمیٹی کو چاہئے کہ وہ اس دس ہزارروپے کے اضافی بوجھ کے سبب حجاج کے لئے کھانے کا نظم کرے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے بھی حج کمیٹی کو یہ یاد دلایا کہ جب رقم لی گئی تب تو حالات خراب نہیں تھے پھرعین روانگی کے وقت اس طرح کا بوجھ حاجیوں پر ڈالنا کتنا مناسب ہوگا؟‘‘

محمدحسین سر، جو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ حج بیت اللہ کے لئے جارہے ہیں، کا کہنا ہے کہ’’ یہ حاجیوں پربوجھ کے ساتھ بدنظمی کی بدترین مثال ہے ۔ حج کمیٹی کو سال بھرکا وقت ملتا ہے کہ وہ بہترنظم کرے،عازمین کو سہولت فراہم کروائے اورقونصل جدہ برائےہند اوران کی ٹیم کی بھی یہی ذمہ داری ہے مگر اس طرح کےبوجھ ڈالنے سے بآسانی اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ کس طرح کام کیاجارہا ہے اورکیا واقعی عازمین کوسہولت مہیاکرائی جارہی ہے یا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اس لئے حج کمیٹی اور وزارت اقلیتی امور اپنے اس فیصلے پر فوراً نظر ثانی کرے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: ’مہاراشٹراے آئی پالیسی ۲۰۲۶ء‘ کا اعلان

عازمین کے۵؍سوالات 

(۱)آخرکس بنیاد پرروانگی کے وقت عازمین پریہ اضافی بوجھ ڈالا گیاجبکہ پہلے ہی ۲۱؍ ہزار روپے زائد لئے گئے ہیں ۔اب مزید ۱۰؍روپے ۱۵؍مئی تک جمع کرانے کی ہدایت کیوں دی گئی ہے (۲) مشرقِ وسطیٰ کے بہتر حالات کے وقت ہی تمام اخراجات اور ہوائی جہاز کا کرایہ لیا جاچکا ہے۔ اب تمام عازمین سے ۱۰؍ ہزار روپے کے حساب سے ایک ارب ۲۲؍کروڑ ۵۰؍ لاکھ روپے مزیدوصول کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے(۳) اگر ایندھن سستا ہوتا توکیا پہلے جوکرایہ لیا گیا ہے، اس میں سے عازمین کو رقم لوٹائی جاتی (۴) کیاکسی طرح یہ درست ہے کہ سب کچھ طے ہونے اور مکمل اخراجات وصول کرنے کے بعد کسی چیز کو بنیاد بناکر مزید رقم وصو ل کرنے کا بہانہ تلاش کیاجائے (۵) حج ۲۰۲۶ء کیلئے کئی ماہ قبل ہی پوری رقم لے لی گئی ،اس کے عوض عازمین کوکیا حاصل ہوا؟ اس لئے عازمین پر بوجھ ڈالنا قطعاًمناسب نہیں،اس فیصلے پرنظرثانی کی جائے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK