Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۶۴؍ غیر قانونی اسکولوں کے ہزاروں طلبہ کا میونسپل اسکولوں میں داخلہ مشکل

Updated: June 27, 2026, 12:42 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

پریشانی کا ایک سبب یہ ہے کہ ۱۴۵؍ غیر قانونی اسکول انگریزی میڈیم کے ہیں۔ وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ سبھی طلبہ کو سرکاری اسکولوں میں داخل کیا جائے گا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

شہر اور مضافات میں بڑے پیمانے پر بنا رجسٹریشن کے  جاری  ۱۶۴؍ اسکولوں میں زیر تعلیم ہزاروں طلبہ کو بی ایم سی  کے  اسکولوں میں داخل کرنا ریاست حکومت اور محکمہ تعلیم کے لئے سردرد بن چکا ہے ۔ موصولہ اطلاع کے مطابق شہر کے جن گنجان آبادی والے علاقوں میں مذکورہ ۱۰۰؍ سے زائد اسکولوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے ، ان علاقوں یا اطراف میں واقع بی ایم سی کے اسکولوں میں پہلے ہی بچوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ انہیں دو شفٹوں میں چلایا جارہا ہے ۔ البتہ ریاستی وزیر تعلیم دادا جی بھسے نے سبھی غیرقانونی اسکولوں  کے طلبہ کو سرکاری اسکولوں میں داخل کرائے جانے کا یقین دلایا ہے

یہ بھی پڑھئے: این سی پی نے ثنا ملک کے تین طلاق سے متعلق بیان سے لاتعلقی ظاہر کی۔

یاد رہے کہ ریاستی محکمہ داخلہ نے شہر اور مضافات میں جاری غیر قانونی اسکولوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ شروع کیا تھا اور ۱۶۴؍ اسکولوں کو  نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں بند کرنے کا حکم دیا تھا ۔   تاہم  جن ۵۳؍ اسکولوں نے نوٹس جاری کرنے کے باوجود اسکول بند نہیں کئے تھے ، ان اسکولوں کے انتظامیہ کے خلاف الگ الگ پولیس اسٹیشنوں میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی ۔  اب جبکہ تمام اسکول بند کر دیئے گئے ہیں ، ان میں زیرتعلیم ہزاروں طلبہ کا تعلیمی نقصان ہورہا ہے اور سرکاری اسکولوں میں اتنی جگہ نہیں ہے کہ انہیں  ان میں داخل کیا جائے۔

ریاستی محکمہ تعلیم نےشہر اور مضافات کی جن ۱۶۴؍ اسکولوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بند کیا ہے،  وہ دیونار،مانخورد ، گوونڈی ، ملاڈ ، کاندیولی اور کرلا  اور دیگر علاقوں میں واقع  ہیں ۔ ان غیر قانونی اسکولوں میں ۱۴۵؍ اسکول انگریزی میڈیم  کے تھے ۔ ان ۱۴۵؍ انگریزی میڈیم اسکولوں میں ۶۵؍ انگریزی اسکول دیونار، گوونڈی اور مانخورد میں، ۲۵؍ ملاڈ میں جبکہ ۱۲؍ کاندیولی اور ۱۲؍ کرلا میں واقع ہیں ۔ بقیہ ہندی اور اردو زبان کی اسکولیں بھی شامل ہیں ۔

یہ بھی واضح رہے کہ جن اسکولوں کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے، ان میں ۳۹؍ اسکول مانخورد اور گوونڈی میں ہیں جبکہ ۱۴؍ اسکول مالونی میں واقع ہیں ۔

یہ بھی پڑھئے: طلبہ اور والدین کی پریشانی کے باعث سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی ہدایت

ایک طرف ریاستی محکمہ تعلیم نے ۱۶۴؍ اسکولوں کو بند کرنے کا نوٹس جاری کرنے اور پولیس کارروائی کرنے کے بعد اسکولوں کوتو بند کردیا ہے لیکن ان میں زیرتعلیم۴۰؍ ہزار سے زائد بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخل کرانا ایک مسئلہ بنا ہوا ہے ۔

ڈپٹی میونسپل کمشنر (ایجوکیشن) پراچی جامبھیکرنے اس بارے میں بتایا کہ شیواجی نگر (گوونڈی ) میں بی ایم سی اسکول کی نئی عمارت مکمل ہوچکی ہےاور اس میں گوونڈی اور دیونار اسکولوں کے بچوں کو داخل کیا جائے گا ۔تاہم دیگر بچوں کے تعلق سے شیوسینا لیڈر سچن آہیر اور انل پرب کے علاوہ بی جے پی لیڈر شری کانت بھارتیہ نے وزیر تعلیم دادا جی بھسے سےمذکورہ مسئلہ حل کرنے کی اپیل کی تھی ۔ اس پر انہوں نے تمام بچوں کو شہر کے سرکاری اسکولوں میں داخل کرائے  جانے کا یقین دلایا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK