حکومت کی جانب سے وضاحت کی جارہی ہے کہ لاک ڈاؤن نہیں لگے گا مگر گزشتہ لاک ڈاؤن اور اس کے سبب پیدا شدہ حالات میں ناقابل بیان دشواریوں کے سبب شہریوں میںمسلسل خوف ہے،بڑی تعداد میں لوگ اپنے آبائی وطن روانہ ہورہے ہیں،اپنوں کے درمیان پہنچنے کے لئے بے قراری، ٹکٹ کے لئے بھی مسئلہ۔
لوگ بڑی تعداد میں آبائی وطن روانہ ہورہے ہیں، ٹرینیں فل ہونے سے کنفرم ٹکٹ نہ ملنا بھی بڑا مسئلہ ہے۔ تصویر: آئی این این
ممبئی۔امریکہ اور اسرائیل کے ذریعے ایران پر تھوپی گئی جنگ اور ایران کے منہ توڑ جوابی حملے کے بعد پیدا شدہ موجودہ حالات، سلنڈر کی قلت اور ایک بار پھر لاک ڈاؤن کے اندیشے سے شہریوں میں خوف پایا جارہا ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں آبائی وطن روانہ ہورہے ہیں ، ٹرینیں فل ہونے سے کنفرم ٹکٹ نہ ملنا بھی بڑا مسئلہ ہے۔ حالانکہ حکومت کی جانب سے وضاحت کی جارہی ہے کہ لاک ڈاؤن نہیں لگے گا مگر گزشتہ لاک ڈاؤن اور اس کے سبب پیدا شدہ حالات میں ناقابل بیان دشواریوں کے سبب شہریوں میں خوف کی کیفیت ہے۔ ذیل میں لوگوں کے ذریعے بیان کردہ ان کیفیات کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’حقائق اس بنیاد پر نہیں بدلے جا سکتے کہ حکومت میں کون ہے‘‘
خورشید احمد نامی نوجوان نے جو سیکوریٹی گارڈ ہیں، بتایا کہ’’ساتھیوں اور دوسروں کی زبانی طرح طرح کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں، کہا جارہا ہے کہ یکم اپریل سے پھر لاک ڈاؤن لگے گا۔ سلنڈر نہ ملنے سے کھانے پکانے کی پریشانی الگ ہے۔ اس لئے اب ممبئی میں نہیں رکنا ہے۔ اگر پہلے جیسے حالات ہوئے تو او ر برا حال ہوگا۔ اس لئے اپنے بچوں کے درمیان ہوں گے تو بہتر ہوگا، سب ساتھ رہیں گے تو حالات کا سامنا کرلیں گے، اس لئے خطرہ مول لینے سے بہتر ہے کہ گاؤں چلے جائیں۔‘‘ خبر لکھے جانے تک وہ اپنے گاؤں سنت کبیر نگر یوپی پہنچ چکے تھے۔
وارث علی شیخ (وکھرولی) نے بتایا کہ ان کاآبائی وطن الہ آباد ہے، اس وقت حالت یہ ہے کہ کاریگر، مزدور اور دیگر طبقے کے لوگ تیزی سے اپنے آبائی وطن روانہ ہورہے ہیں۔ اس وقت تو یہ حالت ہے کہ سلنڈر نہ ملنے سے ان لوگوں کا بھی براحال ہے جنہوں نے لاک ڈاؤن میں لوگوں کی بھرپور مدد کی تھی اور ان کو کھلایا پلایا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کرلا ٹرمنس پر بھیڑ ہے، لوگوں کو ٹکت نہیں مل رہا ہے۔ ایسے میں بہتر ہوگا جو ٹرینیں گرمی کی چھٹی میں چلائی جانے والی ہیں وہ ابھی چلائی جائیں تاکہ پریشان حال لوگ سہولت سے اپنے گاؤں تو پہنچ جائیں۔سانتا کروز میں تدریسی خدمات انجام دینے والے حافظ صلاح الدین نےجو یوپی میں اپنے گاؤں سے ممبئی لوٹ رہے ہیں اور ٹرین میں ہیں، بتایا کہ’’یہ صحیح ہے کہ تقریباً ہر شخص یہی کہہ رہا ہے کہ لاک ڈاؤن لگنے والا ہے۔ ان حالات میں لوگ ممبئی سے اپنے گاؤں جارہے ہیں اور میںممبئی آرہا ہوں۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب لوگوں سے یہ پوچھئے کہ بھائی پہلے تو بیماری اور وباء کے سبب لاک ڈاؤن لگا تھا، اس دفعہ کس وجہ سے لاک ڈاؤن لگے گا تو وہ واضح جواب نہیںدےپاتے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ڈیزل اور پیٹرول کے لئے یوپی میں بھی لمبی لائنیں ہیں اور کسان بھی فکرمند ہیں کہ گیہوں کی کٹائی کا سیزن قریب ہے جو ہفتہ عشرہ میں شروع ہوجائے گا۔ اگر ڈیزل اور پیٹرول کی اسی طرح قلت رہی تو ان کیلئے بڑا مسئلہ ہوجائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: حفاظ سے گفتگو میں ایسے کئی لمحے آئے جب خود پر قابو مشکل تھا!
ریلوے افسران کی زبانی
سینٹرل اور ویسٹرن ریلوے میں رابطہ قائم کرنے پر بتایا گیا کہ موسم گرما کی تعطیلات کے لئے پیشگی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔چھٹی کے دوران لاکھوں شہریوں کو ان کے آبائی وطن پہنچانےکیلئے ہزاروں کی تعداد میں اسپیشل ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ریلوے افسران کا ہمیشہ کی طرح یہ بھی دعویٰ تھا کہ آج بھی حسب ضرورت طویل مسافتی ٹرینیں ملک کے طول وعرض میں چلائی جارہی ہیں، ان کے حساب سے شہریوں کو آنے جانے میں کوئی دقت نہیں ہے۔ممبئی میں مختلف شعبوں کے افسران سے رابطہ قائم کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ یکم اپریل سے لاک ڈاؤن لگانے کی خبریں صحیح نہیں ہیں۔مرکزی حکومت کی جانب سے بھی اس کی وضاحت کی گئی ہے، اس لئے شہری پریشان نہ ہوں۔ ہاں، ایل پی جی اور ڈیزل پیٹرول کی قلت سے پیدا شدہ بحران ختم کرنے کی مسلسل کوشش جاری ہے، امید ہے کہ عنقریب حالات معمول پر آجائیں گے۔
کیا کہنا ہے کہ لوگوں کا؟
*خورشید احمد نامی نوجوان نے جو سیکوریٹی گارڈ ہیں، بتایا کہ’’ساتھیوں اور دوسروں کی زبانی طرح طرح کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ سلنڈر نہ ملنے سے کھانے پکانے کی پریشانی الگ ہے۔ اس لئے اب ممبئی میں نہیں رکنا ہے۔ اگر پہلے جیسے حالات ہوئے تو او ر برا حال ہوگا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مالونی : شوبھایاترا میں نتیش رانے کی اشتعال انگیزی
*وارث علی شیخ (وکھرولی) نے بتایا کہ ان کاآبائی وطن الہ آباد ہے، اس وقت حالت یہ ہے کہ کاریگر، مزدور اور دیگر طبقے کے لوگ تیزی سے اپنے آبائی وطن روانہ ہورہے ہیں۔ کرلا ٹرمنس پر بھیڑ ہے، لوگوں کو ٹکت نہیں مل رہا ہے۔ ایسے میں بہتر ہوگا جو ٹرینیں گرمی کی چھٹی میں چلائی جانے والی ہیں وہ ابھی چلائی جائیں۔
nحافظ صلاح الدین کا کہنا ہےکہ یہ ضرور ہے کہ ڈیزل اور پیٹرول کے لئے یوپی میں بھی لمبی لائنیں ہیں اور کسان بھی فکرمند ہیں۔