ایف ڈی اے کےاے آئی پورٹل کے آغاز کے بعد سے فوڈ سیفٹی سے متعلق ریاست بھر سےشکایات مل رہی ہیں۔ ۲۴؍ گھنٹے میں ۱۰؍ لاکھ ہٹس ملے۔
EPAPER
Updated: July 20, 2026, 10:02 AM IST | Pune
ایف ڈی اے کےاے آئی پورٹل کے آغاز کے بعد سے فوڈ سیفٹی سے متعلق ریاست بھر سےشکایات مل رہی ہیں۔ ۲۴؍ گھنٹے میں ۱۰؍ لاکھ ہٹس ملے۔
فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر تکارام منڈے نے گزشتہ روزکو کہا کہ جب سے ایف ڈی اے نے عوامی شکایت کیلئے اے آئی پورٹل متعارف کرایا ہے تب سے ریاست میں غیر صحت بخش کھانے کے بارے میں سب سے زیادہ شکایات پونے ضلع سے موصول ہوئی ہیں۔سینئر آئی اے ایس افسر مہارتا چیمبر آف کامرس، انڈسٹریز اینڈ ایگریکلچر کے زیراہتمام فوڈ سیفٹی کانفرنس میں شرکت کیلئے شہر میں تھے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تکارام منڈے نے کہا کہ ایف ڈی اے نے حال ہی میں پورٹل ’’complaints.mahafda.in‘‘شروع کیا ہے تاکہ لوگ کھانے پینےکی اشیاء سے متعلق اپنی شکایات درج کراسکے۔انہوں نے ی ہ بھی کہا کہ نیا سسٹم جواب دہی اور شفافیت لائے گا۔
متعلقہ علاقے کے ایف ڈی اے جوائنٹ کمشنر۲۴؍ گھنٹوں کے اندر اندر ان شکایتوں کا نوٹس لیں گے۔ اسے شکایت کسی افسر کو سونپنی ہوگی۔ اگر وہ مقررہ وقت کے اندر ضروری کارروائی کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو شکایت خودبخود محکمے کے کسی سینئر افسرتک پہنچ جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال پر مغربی میڈیا کی نظریں، تعلیمی بحران پر نئی بحث
تکارام منڈے نے کہا کہ پورٹل کے متعارف ہونے کے بعد ہزاروں شکایات سامنے آئیں اور ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر۱۰؍ لاکھ ہٹس ریکارڈ کئے گئے۔
تکارام منڈے جو ایماندار افسر مانےجاتے ہیں، نے کہا کہ ایف ڈی اے ان اداروں کے ریکارڈ کو برقرار رکھنے کیلئے بلاک چین ٹیکنالوجی کے استعمال کی تلاش میں ہے جن کے خلاف ماضی میں کارروائی کی گئی ہے۔
ریاست بھر سے موصول ہونے والی شکایات کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہاکہ ’’سب سے زیادہ شکایات پونے ضلع میں درج کی گئی ہیں اور ان میں سے زیادہ تر غیر صحت بخش کھانے سے متعلق ہیں۔‘‘ این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق انہوں نے ہوٹلوں اور دیگر اداروں سے فوڈ سیفٹی مینجمنٹ سسٹم کے اصولوں پرعمل کرنے اور فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھاریٹی آف انڈیا کی طرف سے تجویز کردہ تمام ۲۲؍ بڑے ضوابط پر عمل کرنے کی تاکید کی جنہیں عام طور پر’ ایف ایس ایس اے آئی‘ کہا جاتا ہے۔
ایف ڈی اے نے پونے ضلع میں گزشتہ روز ہوٹلوں، ریستوراں، بیکریوں اور ڈیریوں کا اچانک معائنہ کرتے ہوئے کارروائی کی جس کے دوران فوڈ سیفٹی اور حفظان صحت کے قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں پائے جانے پر۱۰؍ ہوٹلوں اور بیکریوں کے لائسنس فوری طور پر معطل کر دیئے گئے۔ پونے کے دکن جمخانہ پر واقع مشہور ’کیفے گڈلک‘ بھی ان میں شامل ہیں جبکہ مشہورہوٹل متھرا پر بھی کارروائی کی گئی تھی۔
مئی میں جب سے تکارام منڈے نے ایف ڈی اے کے سربراہ کا عہدہ سنبھالاتھا ، مہاراشٹر میں کھانے پینے کا کاروبار کرنے والوںکے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آئی ہے ۔ متعدد ہوٹلوں، ریسٹورنٹ اور ڈھابوں پر معائنہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ چرچ گیٹ میں مشہور آئس کریم پارلر ’کے رستم اینڈ کمپنی ‘ ، اس کے بعد جنوبی ممبئی کی مشہور ہوٹلوں ، مرین لائنس پر قدیم پارسی ڈیری فارم ، کے ای ایم اسپتال کی کینٹین کا لائسنس بھی ایف ڈی اے نے اصولوں کی خلاف ورزی پر معطل کردیا ہے۔ اس کے علاوہ جوگیشوری ، گوونڈی ، وسئی ، پال گھر ، واشی اور دیگر کئی علاقوں میں بھی کھانے پینے کی اشیاء کا کاروبار کرنے والوں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔