امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے قطر سے تحفے میں ملے طیارے کی ائیر فورس ون میں تبدیلی کے بعد افتتاح کیا ، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس جہاز کی تزئن کاری میں جو سہولیتیں فراہم کی گئی ہیں، وہ دنیا نے کبھی نہ دیکھی ہوں گی۔
EPAPER
Updated: June 21, 2026, 1:03 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے قطر سے تحفے میں ملے طیارے کی ائیر فورس ون میں تبدیلی کے بعد افتتاح کیا ، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس جہاز کی تزئن کاری میں جو سہولیتیں فراہم کی گئی ہیں، وہ دنیا نے کبھی نہ دیکھی ہوں گی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فضائیہکے طیارے ’ایئر فورس ون‘ متعارف کروا دیا، جو انہیں قطر کی طرف سے تحفے میں ملا ہے۔ یہ طیارہ جلد ہی ’کمیشننگ فلائٹس‘ (حتمی آزمائشی پروازیں) شروع کرے گا، جس کے بعد اگلے ماہ کے اوائل سے صدر کو ان کی سرکاری دوروں پر لے جانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔بوئنگ۷۴۷؍ لگژری جیٹ کی بیرونی رنگت اب سرخ، سفید اور نیوی بلیو (گہرا نیلا) ہے، جو پرانے طیارے کے رابن کے انڈے کے نیلے رنگ کی جگہ لے گی۔ پرانا طیارہ جارج ایچ ڈبلیو بش کے دور سے تقریباً۴۰؍ سال تک صدور کو لے جانے کا ذریعہ رہا۔ طیارے کی دم پر امریکی قومی پرچم کی لہراتی تصویر بنائی گئی ہے۔واشنگٹن کے قریب جوائنٹ بیس اینڈریوز میں منعقدہ ایک مختصر تقریب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’سب سے بڑا فرق سائز کا ہے، یہ عملی طور پر پہلے طیارے سے دگنا بڑا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ نئے رنگ ہیں ، سرخ، سفید اور نیلا۔ ہمیں ہلکا نیلا رنگ پسند تھا، لیکن تبدیلی کا وقت آگیا... مجھے امریکی پرچم کا رنگ پسند ہے۔‘‘امریکی فضائیہ کے مطابق، یہ طیارہ صدر کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے سے پہلے جلد ہی اپنی ’حتمی آزمائش‘ کے طور پر کمیشننگ فلائٹس شروع کرے گا۔صدر ٹرمپ نے بتایا کہ وہ بوئنگ کے ایئر فورس ون متبادل پروگرام میں تاخیر اور غیر ملکی حکومتوں کے جدید طیاروں کے مقابلے میں امریکی صدارتی بیڑے کی بڑھتی ہوئی پرانی حالت پر مایوس ہونے کے بعد یہ طیارہ امیر قطر سے طلب کیا تھا۔ ٹرمپنے کہا کہ ’’میں نے امیر سے پوچھا کہ کیا ہم بالکل نئے۷۴۷؍ کو استعمال کر سکتے ہیں،‘‘ اور یاد دلایا کہ اس طیارے کی پروازوں کے اوقات نسبتاً کم ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’دیکھیں، ایک عام صدر ایسا نہیں کرتا۔ ایک عام صدر طیاروں سے دور رہنا چاہتا ہے، لیکن ہمارے ملک کی مناسب نمائندگی ہونی چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو ایران امن کوششوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے: امریکی خفیہ اداروں کا انتباہ
قطری طیارہ ایک ’بریج‘ (عارضی) طیارے کے طور پر کام کرے گا، جو صدر کو اس وقت تک لے جائے گا جب تک کہ براہِ راست بوئنگ سے منگائے گئے نئے طیارے (ممکنہ طور پر ۲۰۲۸ءتک) فراہم نہیں کر دیے جاتے۔فضائیہ نے کہا کہ ایئر فورس ون ( امریکی صدور کے زیر استعمال خصوصی طیارہ)قرار دیا جانے والا کوئی بھی طیارہ ’’سخت حفاظتی تقاضوں کو پورا کرتا ہے‘‘اور قطری طیارے کو ’’ایک منظم انجینئرنگ نقطہ نظر کے تحت ترمیم کیا گیا جس نے ان بنیادی صلاحیتوں کو ہر چیز پر ترجیح دی۔‘‘صدر ٹرمپ نے کہا کہ نیا ایئر فورس ون۴؍ جولائی کو نیشنل مال پر امریکہ کی ۲۵۰؍ویں یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران فلائی اوور (پرواز کا مظاہرہ) کرے گا۔ بعد ازاں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ نئے طیارے کو اگلے ماہ ترکی میں نیٹو کے اجلاس میں بھی لے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے آبنائے ہرمز کیلئے نیا ضابطہ متعارف کرایا
واضح رہے کہ جمعرات ۱۸؍جون۲۰۲۶ء کو فرانس میں جی ۷؍ اجلاس سے صدر ٹرمپ کی واپسی پرانے ایئر فورس ون پر ان کا آخری طے شدہ سفر تھا۔فضائیہ کے چیف آف اسٹاف جنرل کین وِلس بیچ نے کہا کہ ’’ہمیں صدر کو بریج طیارہ فراہم کرنے پر فخر ہے۔‘‘فضائیہ نے پہلے کہا تھا کہ اس طیارے میں حفاظتی ترمیم کی لاگت ۴۰۰؍ملین ڈالر سے کم ہوگی۔امریکی فضائیہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ بریج طیارے کی فراہمی پرانے بیڑے پر دباؤ کم کرنے کی ضرورت کو پورا کرتی ہے، کیونکہ بھاری دیکھ بھال کے چکر طویل ہو رہے ہیں، اس طرح طویل مدتی بوئنگ VC-25B کے سروس میں آنے تک صدارتی فضائی آپریشن کے تسلسل کو یقینی بنایا گیا ہے۔