Inquilab Logo Happiest Places to Work

تنظیمی ضابطوں کی خلاف ورزی پر رادھارمن داس برطرف، ’اسکون‘ کا باضابطہ بیان

Updated: June 29, 2026, 9:10 PM IST | Kolkata

انٹرنیشنل سوسائٹی فار کرشنا کونشیئس نیس (اسکون) نے کولکاتا کے سابق نائب صدر اور ترجمان رادھارمن داس کو تنظیمی ضابطوں کی خلاف ورزی اور غیر مجاز عوامی بیانات کے الزام میں تمام عہدوں سے ہٹا کر تنظیم کی نمائندگی سے بھی روک دیا ہے۔

Radharman Das. Photo: INN
رادھارمن داس۔تصویر: آئی این این

انٹرنیشنل سوسائٹی فار کرشنا کونشیئس نیس (ISKCON) نے اتوار کو اپنے کولکاتا کے نائب صدر اور ترجمان رادھارمن داس کو تمام ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا۔ رادھارمن داس نے خبر رساں ایجنسی یو این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’گزشتہ برسوں کے دوران مجھے جو محبت اور تعاون ملا، اس پر میں شکر گزار ہوں اور’ اسکون‘ کی مسلسل ترقی اور کامیابی کیلئے دعا گو ہوں۔ ‘‘
برطرفی کی چھ وجوہات بیان کیں 
رادھارمن داس نے اتوار کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے چھ ایسے اقدامات کا ذکر کیا جنہیں انہوں نے اپنی برطرفی کی وجوہات قرار دیا۔ ان کے مطابق ان میں بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مبینہ مظالم کے بارے میں ان کے عوامی بیانات، چنمئے کرشنا پربھو کی حمایت، اور۲۹؍ مئی۲۰۲۹ء کو ریپبلک ٹی وی پر ان کی شرکت شامل ہے۔ انہوں نے سابق مرکزی وزیر مینکا گاندھی کو قانونی نوٹس بھیجنے، کامیڈین سرلین کور کے خلاف سائبر شکایت درج کرانے، سناتن دھرم کے عوامی دفاع، اور ڈونالڈ ٹرمپ کے ۱۹۷۶ءکی نیویارک رتھ یاترا سے تاریخی تعلق کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرنے کو بھی اپنی برطرفی کی وجوہات میں شامل کیا۔ تاہم، ’اسکون‘ ذرائع کے مطابق ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی بنیادی وجہ بنگلہ دیش کے راہب سے متعلق معاملے پر ان کے عوامی بیانات تھے۔

یہ بھی پڑھئے: آر راج گوپال معاملہ: ایڈیٹرز گلڈ کا اظہار تشویش، اپوزیشن کی مرکز پر شدید تنقید

ساتوک غذا پر تنازع
رادھارمن داس کی برطرفی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وہ حال ہی میں مغربی بنگال کے اسکولوں میں ویج مڈ ڈے میل منصوبے کے دفاع میں ’اسکون ‘کا نمایاں عوامی چہرہ بن کر سامنے آئے تھے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کولکاتا کے اسکولوں میں ’ اسکون‘ کے تیار کردہ کھانے فراہم کرنے کے فیصلے نے انڈوں کو مینو سے خارج رکھنے پر بحث چھیڑ دی تھی۔ داس کا مؤقف تھا کہ سویا چنکس، راجما، پنیر اور چنے جیسی غذائیں بچوں کی پروٹین کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہیں۔ انہوں نے تنظیم کے جدید خودکار کچن اور صفائی کے اعلیٰ معیار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے اس ہفتے کے اوائل میں کھانوں کی غذائی افادیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا، ’’ہم (اسکون) دنیا بھر میں بنگالی تھالی پیش کرتے ہیں، اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ صرف انڈہ یا گوشت ہی بنگالی تھالی کو مکمل بناتا ہے۔ مینو میں چاول، دال، کھچڑی اور سبزی شامل ہوگی۔ یہ سمجھنا غلط ہے کہ تھالی میں پروٹین کی کمی ہوگی۔ سویا چنکس اور راجما سمیت کئی غذائیں پروٹین سے بھرپور ہیں۔ ‘‘
اسکون کے ذرائع کے مطابق تنظیم کی انتظامیہ رادھارمن داس کی جانب سے انڈوں اور سویا بین کے درمیان عوامی سطح پر موازنہ کرنے سے مطمئن نہیں تھی۔ تنظیم کا مؤقف تھا کہ ساتوک غذا کے بارے میں تفصیلی عوامی وضاحت دینے کا اختیار کسی ایک فرد کو نہیں دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: تلنگانہ میں اردو پڑھانے پر ٹیچر پر حملہ، کیس بھی درج

’اسکون‘ نے رادھارمن داس کو عہدے سے ہٹانے پر باضابطہ بیان جاری کیا
’اسکون‘ نے سابق نائب صدر اور ترجمان رادھارمن داس کو تمام تنظیمی ذمہ داریوں سے ہٹانے کے فیصلے پر باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں میڈیا، سرکاری اداروں یا کسی بھی عوامی فورم پر اسکون کی نمائندگی یا اس کی جانب سے بیان دینے سے بھی روک دیا گیا ہے۔ اسکون کولکاتا کے قانونی و مواصلاتی ڈائریکٹر اننت بھگوان داس نے جاری بیان میں کہا:’’ہم اپنے خیر خواہوں، عقیدت مندوں، میڈیا نمائندوں اور عوام کو مطلع کرنا چاہتے ہیں کہ رادھارمن داس کو اسکون میں لازمی رخصت (Compulsory Leave of Absence) پر بھیج دیا گیا ہے اور انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ میڈیا، حکومتی اداروں یا کسی بھی عوامی پلیٹ فارم پر اسکون کی نمائندگی نہ کریں۔ ‘‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ دنیا کے۱۰۰؍ ممالک میں سرگرم اسکون جیسی عالمی تنظیم اپنے اراکین کیلئے واضح قواعد، معیارات، ذمہ داریاں اور اخلاقی اصول رکھتی ہے۔ اگر کوئی رکن ان ضابطوں پر عمل نہ کرے تو اصلاحی اقدامات کئے جاتے ہیں۔ اسکون کے مطابق، کئی برسوں تک متعدد مرتبہ تنبیہ اور درخواستوں کے باوجود رادھارمن داس نے تنظیمی طریقۂ کار پر عمل نہیں کیا، یکطرفہ فیصلے کئے، تنظیم کے سرکاری مؤقف کے برخلاف بیانات دیئے اور اپنے دائرۂ اختیار سے باہر معاملات میں مداخلت کی، جس کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں تنظیم کے اراکین کی سلامتی اور فلاح کو خطرات لاحق ہوئے۔ اسی لئے انہیں لازمی رخصت پر بھیجا گیا تاکہ وہ اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کر سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: مودی حکومت نے آپریشن سیندور کے شہداء کی معلومات چھپائی: کانگریس کا الزام، حکومت نے دعویٰ مسترد کیا

اتوار کواسکون نے باضابطہ طور پر رادھارمن داس کو تمام تنظیمی ذمہ داریوں سے فارغ کرتے ہوئے انہیں تنظیم کی نمائندگی سے روک دیا تھا۔ اگرچہ تنظیم نے یہ فیصلہ داخلی نظم و ضبط برقرار رکھنے کیلئے براہِ راست رادھارمن داس کو آگاہ کیا، تاہم، سابق نائب صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے اپنی برطرفی کی تفصیلات خود عوام کے سامنے رکھیں۔ دریں اثنا، مغربی بنگال کی حکومت نے حال ہی میں کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں میں پکا ہوا مڈ ڈے میل فراہم کرنے کی ذمہ داری اسکون کو سونپی تھی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ دعوے گردش کرنے لگے کہ طلبہ کو اب مڈ ڈے میل میں انڈے نہیں دیئے جائیں گے۔ اس وقت اسکون کولکاتا کے نائب صدر اور ترجمان کی حیثیت سے رادھارمن داس نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ گمراہ کن سوشل میڈیا پوسٹس پر یقین نہ کریں۔

یہ بھی پڑھئے: کھنڈوا میں ۳۸؍مکانات کے انہدام پر عبوری روک

انہوں نے اپنی پوسٹ میں ایسی ایک مبینہ فرضی مینو فہرست بھی شیئر کی اور کہا تھا کہ یہ مکمل طور پر من گھڑت اور گمراہ کن ہے، کیونکہ ابھی تک کوئی حتمی مینو طے نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ فہرست اسکون نے جاری کی ہے۔ تاہم، سنیچر کوایک اور سوشل میڈیا پوسٹ میں رادھارمن داس نے زیادہ پروٹین رکھنے والی سبزی خور غذاؤں کی حمایت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کئی سبزی خور ریاستوں میں پروٹین کی مقدار گوشت خور ریاستوں سے زیادہ ہے۔ انہوں نے لکھا:’’اگر ہم سائنس کی بات کریں تو ہندوستان کا پروٹین نقشہ خود اس کی گواہی دیتا ہے۔ کئی ایسی ریاستیں جہاں اکثریت سبزی خور ہے، وہاں پروٹین کا استعمال ان ریاستوں سے زیادہ ہے جہاں گوشت زیادہ کھایا جاتا ہے۔ ۱۰۰؍ گرام غذا میں پروٹین کی مقدار: انڈہ۱۳؍ گرام، مچھلی۲۲؍ گرام، سویا چنکس۵۲؍ تا۵۴؍ گرام، پنیر۲۲؍ گرام، راجما۲۴؍ گرام، مونگ، مسور اور اُرد۲۵؍ گرام جبکہ کالا چنا۲۲؍ گرام پروٹین رکھتا ہے۔ ‘‘اس متنازع سوشل میڈیا پوسٹ کے اگلے ہی روز اسکون نے رادھارمن داس کو کولکاتا میں اپنے تمام عہدوں سے ہٹا دیا۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK