لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اپنے دادا فیروز گاندھی کا برسوں سے گمشدہ ڈرائیونگ لائسنس اپنے رائے بریلی دورے کے دوران ایک مقامی خاندان سے وصول کیا، جس کی تصویر انہوں نے اپنی والدہ سونیا گاندھی کو وہاٹس ایپ پر بھی بھیجی۔
EPAPER
Updated: January 22, 2026, 7:03 PM IST | Raebareli
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اپنے دادا فیروز گاندھی کا برسوں سے گمشدہ ڈرائیونگ لائسنس اپنے رائے بریلی دورے کے دوران ایک مقامی خاندان سے وصول کیا، جس کی تصویر انہوں نے اپنی والدہ سونیا گاندھی کو وہاٹس ایپ پر بھی بھیجی۔
لوک سبھا میں لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی نے اپنے دادا اور سابق ممبر پارلیمنٹ فیروز گاندھی کا برسوں سے گمشدہ ڈرائیونگ لائسنس اپنے پارلیمانی حلقے رائے بریلی (یوپی) میں ایک جذباتی تقریب کے دوران وصول کیا۔ یہ واقعہ منگل کو اس وقت پیش آیا جب رائے بریلی پریمیر لیگ (کرکٹ ٹورنامنٹ) کے منتظمین کے ایک رکن وِکاس سنگھ نے ایک مقامی خاندان کے حوالے سے لائسنس راہل گاندھی کو دیا۔ اس موقع پر موجود لوگوں نے تالیاں بجائیں جبکہ راہل نے یہ یادگار دستاویز اپنے ہاتھ میں لے کر اسے غور سے دیکھا۔ مقامی خاندان نے بتایا کہ یہ لائسنس دہائیوں سے محفوظ طریقے سے انہوں نے سنبھال رکھا تھا اور ان کیلئے یہ ایک اعزاز (امانت) تھا۔
राहुल गांधी को अपने दादा और पूर्व सांसद फिरोज गांधी का वर्षों से खोया हुआ ड्राइविंग लाइसेंस सौंपा गया.
— Lutyens Media (@LutyensMediaIN) January 20, 2026
यह लाइसेंस दशकों से रायबरेली के एक स्थानीय परिवार द्वारा सहेज कर रखा गया था. pic.twitter.com/aRSgGN3tJl
وِکاس سنگھ نے کہا کہ کئی سال پہلے رائے بریلی میں ایک پروگرام کے دوران ان کے سسر نے یہ ڈرائیونگ لائسنس پایا تھا، جس کے بعد انہوں نے اسے محفوظ رکھا۔ سسر کے انتقال کے بعد ان کی بیوی نے بھی اسی دستاویز کو احتیاط سے رکھا۔ جب انھیں پتہ چلا کہ راہل گاندھی اپنے حلقے کے دورے پر آ رہے ہیں تو انھوں نے اسے واپس کرنا درست سمجھا۔ تقریب میں راہل گاندھی نے لائسنس کو نہ صرف ہاتھ میں لیا بلکہ اپنی والدہ اور سینئر کانگریس لیڈر سونیا گاندھی کو وہاٹس ایپ کے ذریعے اس کی تصویر بھی بھیجی، جس سے موجود کارکن اور شہری متاثر ہوئے۔ یہ لائسنس ایک تاریخی دستاویز ہونے کے ساتھ ساتھ گاندھی خاندان کی سیاسی تاریخ کا بھی حصہ ہے۔ فیروز گاندھی نے ۱۹۵۲ء میں رائے بریلی سے ہندوستان کے پہلے عام انتخابات میں جیت حاصل کی تھی اور وہ اپنے بے باک اور سوال پوچھنے والے انداز کے لیے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے اس حلقے میں مضبوط عوامی حمایت حاصل کی اور ۱۹۵۰ء کی دہائی کے دوران متعدد عوامی معاملات میں متحرک کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر کے دباؤ میں خود کشی ، الیکشن کمیشن کیخلاف ایف آئی آردرج
اس دستاویز کی واپسی کے بعد مقامی کانگریس کارکنوں اور شہریوں نے اس واقعہ کو گاندھی خاندان اور رائے بریلی کے درمیان دیرینہ تعلقات کی علامت قرار دیا۔ سیاسی کارکنوں نے کہا کہ یہ لمحہ صرف ایک دستاویز کی واپسی نہیں، بلکہ اس خطے میں کانگریس پارٹی کی روایات اور عوامی احساسِ تعلق کو دہراتا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں آیا ہے جب راہل گاندھی اپنے لوک سبھا حلقے کا دو روزہ دورہ کر رہے ہیں، جس میں انھوں نے مقامی ترقیاتی منصوبوں، عوامی ملاقاتوں اور کارکنوں کے اجتماعات میں شرکت کی۔ رائے بریلی کو کانگریس پارٹی کا مضبوط مرکز مانا جاتا ہے اور اس بار بھی پارٹی قیادت نے اسے اہم سیاسی دورے میں شامل کیا ہے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق، اس قسم کے جذباتی لمحات عوامی تعلق اور روایت کی وہ جھلک دیتے ہیں جو کسی سیاسی جماعت کی تاریخی شناخت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سابق حکمران خاندانوں کے ساتھ عوامی رشتے سیاسی علامت بھی بن جاتے ہیں، خاص طور پر جب وہ پارلیمانی نمائندگان کی ذاتی یادداشتوں سے جڑے ہوں۔
یہ بھی پڑھئے:سعودی عرب: العلاء میں اونٹ کے قافلوں کے قدیم تجارتی راستے منظر عام پر
گاندھی خاندان کی تاریخ میں فیروز گاندھی کا کردار نہ صرف سیاسی اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس سے رائے بریلی میں پارٹی کے لیے عوامی اعتماد اور وفاداری بھی جڑی ہوئی ہے۔ اس لائسنس کی واپسی نے نہ صرف ایک تاریخی لمحات کو یادگار بنایا بلکہ اس علاقہ کی عوامی ذہنیت میں تعلق، احترام اور یادداشت کے جذبات کو بھی تازہ کیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف تاریخی اہمیت رکھتا ہے بلکہ پارٹی کارکنوں، مقامی لیڈروں اور عوام کے مابین ایک مثبت اور جذباتی پل بھی قائم کرتا ہے، جس کا اثر سیاسی اور سماجی سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔