Updated: July 16, 2026, 3:07 PM IST
| New York
امریکی شہر نیویارک میں نیلامی کے معروف ادارے سوتھبیز (Sotheby’s) کی ایک نیلامی میں ٹی ریکس (Tyrannosaurus rex) کا نایاب فوسل ۱ء۵۰؍ ملین امریکی ڈالر (تقریباً ۴۸۲؍ کروڑ روپے) میں فروخت ہو گیا، جو کسی بھی ڈائنوسار کے فوسل کی اب تک کی سب سے مہنگی فروخت ہے۔
ٹی ریکس (Tyrannosaurus rex) کا نایاب فوسل۔ تصویر: ایکس
منگل کو نیویارک میں نیلامی کے عالمی ادارے سوتھبیز کی ایک خصوصی نیلامی میں ٹی ریکس (Tyrannosaurus rex) کا نایاب فوسل ۱ء۵۰؍ ملین امریکی ڈالر، یعنی تقریباً ۴۸۲؍ کروڑ روپے میں فروخت ہو گیا، جس کے ساتھ ہی یہ کسی بھی ڈائنوسار کے فوسل کی تاریخ کی سب سے مہنگی فروخت بن گیا۔ نیلامی میں کامیاب بولی دینے والے خریدار کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی کیونکہ بولی فون کے ذریعے گمنام انداز میں لگائی گئی تھی۔ فروخت ہونے والا یہ فوسل ۶۷؍ ملین سال قدیم ہے اور اسے ۲۰۲۱ء میں امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا میں دریافت کیا گیا تھا۔ دریافت کے بعد ماہرین نے اس کا نام ’’گس‘‘ (Gus) رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: پہلی بار ہیومنائیڈ روبوٹس نے زندہ جانور کی کامیاب سرجری کی
یہ ٹی ریکس ۱۲؍ فٹ سے زیادہ بلند، ۳۸؍ فٹ لمبا ہے اور اس کے جسم کی ۶۰؍ فیصد سے زائد اصل ہڈیاں محفوظ حالت میں موجود ہیں۔ فوسل میں مجموعی طور پر ۱۸۳؍ اصل فوسلائزڈ ہڈیاں شامل ہیں، جس کے باعث ماہرین حیاتیات اسے اب تک دریافت ہونے والے سب سے مکمل ٹی ریکس نمونوں میں شمار کرتے ہیں۔ سوتھبیز میں سائنس اور قدرتی تاریخ کی عالمی سربراہ کیسینڈرا ہیٹن نے نیلامی کے بعد کہا کہ ’’گس صرف ایک غیرمعمولی دریافت ہی نہیں بلکہ ایسا نمونہ بھی ہے جس کی کھدائی، دستاویزی عمل، تیاری اور حفاظت انتہائی اعلیٰ معیار کے مطابق کی گئی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ گس پہلا ڈائنوسار ہے جس کی قیمت نیلامی میں ۵۰؍ ملین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
یہ بھی پڑھئے: عباس عراغچی کا آبنائے ہرمز پرامریکی ٹول کا تمسخر، کہا ایران کا ٹول معقول ہے
اس سے قبل کسی ڈائنوسار کے فوسل کی سب سے مہنگی فروخت کا ریکارڈ ۲۰۲۴ء میں ایک اسٹیگوسورس کے پاس تھا، جو ۶ء۴۴؍ ملین امریکی ڈالر میں فروخت ہوا تھا۔ اس فوسل کو امریکی ارب پتی کینتھ گرفن نے خریدا تھا، جنہوں نے بعد ازاں اسے چار برس کے لیے امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے حوالے کر دیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں دنیا کے امیر ترین افراد کے درمیان نایاب فوسلز خریدنے کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے، جس کے باعث ان کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ گس کی کھدائی اور بحالی کا عمل بھی کئی برسوں پر محیط رہا۔ ماہرین کے مطابق اس فوسل کو زمین سے نکالنے میں تقریباً تین سال لگے، جبکہ اس کی صفائی، مرمت اور مکمل ڈھانچہ تیار کرنے میں مزید تین برس صرف ہوئے۔
فوسل کے معائنے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ٹی ریکس نے اپنی زندگی میں کئی شدید زخمی ہونے والے واقعات کا سامنا کیا تھا۔ اس کی کھوپڑی پر دانتوں کے گہرے نشانات موجود ہیں، جبکہ کئی پسلیاں ٹوٹنے کے بعد دوبارہ جڑ چکی تھیں۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ زخم یا تو شکار کے دوران لگے یا پھر دوسرے طاقتور ڈائنوساروں کے ساتھ لڑائی کے نتیجے میں آئے۔ ماہرین کے مطابق اس فوسل کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی غیرمعمولی طور پر محفوظ کھوپڑی ہے۔ چونکہ ٹی ریکس کی اصل کھوپڑی انتہائی وزنی اور نازک ہوتی ہے، اس لیے سوتھبیز نے نمائش کے دوران اصل کھوپڑی کو محفوظ رکھا جبکہ عوام کے لیے اس کی ہلکی نقل ایک اسٹیل فریم پر نصب کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ میں لائبریری، جوان بیٹا کھودیا، محمد سعد نے سڑک کنارے لائبریری بناڈالی
فوسل میں۳۰؍ گیسٹرالیا (پیٹ کی پسلیاں) بھی محفوظ ہیں، جو ڈائنوسار کے فوسلز میں شاذونادر ہی ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں فرکولا (Wishbone) بھی موجود ہے، جو ماہرین کے مطابق انتہائی نایاب حالت میں محفوظ رہنے والی ہڈیوں میں شمار ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گس نہ صرف سائنسی تحقیق کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے بلکہ یہ قدیم حیات کے مطالعے میں بھی ایک قیمتی سنگِ میل ثابت ہوگا۔