• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کا اثر و رسوخ بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے

Updated: January 07, 2026, 3:17 PM IST | Berlin

ایک ماہر رومی آرنلڈ نے بتایا کہ جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی تنظیم کا اثر بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ دائیں بازو کے ذریعے نوجوانوں کے غصے کا غلط استعمال کر کے ان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے جمہوری سیاسی جماعتوں کو بھی اس بات کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایک ماہر نے بتایا ہے کہ جرمنی بھر میں انتہائی دائیں بازو کے نظریات کی شدت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ انادولو سے بات چیت کرتے ہوئے دائیں بازو کی انتہا پسندی سے لڑنے والی تھیورنجیہ کی ایک تنظیم موبٹ کی پروجیکٹ مینجر رومی آرنلڈ نے بتایا کہ کس طرح انتہائی دائیں بازو کے لوگ جرمنی میں روزمرہ کی زندگی میں اپنے خیالات کو ظاہر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی دائیں بازو کے نظریات تیزی سے قابل توجہ بنتے جا رہے ہیں، خصوصی طور پر کمزور علاقوں اور نوجوانوں میں اپنا رسوخ بڑھا رہے ہیں۔ آرنلڈ کے مطابق غیر انسانی اور نو نازی رویے اب سڑکوں پر، پارلیمانوں میں اور مقامی جگہوں پر عام طور پر نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ انتہائی دائیں بازو کے نظریات مزید عام ہوتے جا رہے ہیں۔‘‘ آرنلڈ نے کہا کہ انتہائی دائیں بازو کے حملوں میں اضافہ بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتہائی دائیں بازو کی الٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) پارٹی کا ہر انتخابات میں بڑھتا ہوا ووٹ اب صرف مشرقی جرمنی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک ملک گیر رجحان بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اراکین نے وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنے پر امریکہ کی مذمت کی

مقامی انتخابات میں نو نازی پارٹی کے بڑھتے ووٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آرنلڈ نے کہا کہ انتہائی دائیں بازو کے جنگی کھیلوں کے نیٹ ورکس، نوجوان گروہ  اور کھلے طور پر  منظم انتہائی دائیں بازو کے نیٹ ورکس بھی عروج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی دائیں بازو کے لوگ ہر اس جگہ شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں لوگ موجود ہیں یہ خاص طور پر کمزور علاقوں اور طبقوں میں واضح نظر آتا ہے۔‘‘ کمزور صنعتی نظام، دیہی علاقوں سے ریاست کا انخلاء، تعلیمی نظم و ضبط کے مسائل اور اس مایوسی کو ہوا دینے والے عوامل کے طور پر کورونا کے دوران نوجوانوں سے طلب کی گئی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے آرنلڈ نے نوجوانوں کے بڑھتے غصے کی وجوہات بھی بیان کی۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی پوتن سے ایران پر حملے سے انکار کا پیغام پہنچانے کی درخواست: رپورٹ

جمہوری جماعتیں نوجوانوں کو نظر انداز کر رہی ہیں

آرنلڈ نے اس بات پر زور دیا کہ انتہائی دائیں بازو کے لوگ بڑے سخت اور موثر طریقے سے نوجوانوں کے غصے کا استحصال کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مرکزی سیاست کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’بد قسمتی سے جمہوری جماعتیں بھی نوجوانوں کو نظر انداز کر رہی ہیں۔ ایسا صرف سوشل میڈیا پر ہی نہیں ہے۔ تھیورنجیہ میں حالیہ ریاستی انتخابات کے دوران صرف ایک سیاسی جماعت نے اپنی مہم اور پوسٹرز کے ذریعے براہ راست نوجوانوں سے خطاب کیا ہے، اور وہ پارٹی اے ڈی ایف ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو نوجوان جہاں بھی ہیں اے ڈی ایف کے لوگ وہاں تک پہنچ کر ان سے ملاقات کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے تنبیہ کی کہ کچھ علاقوں میں انتہائی دائیں بازو کی مخالفت بہت مشکل ہو گئی ہے۔ آرنلڈ نے کہا کہ ’’مشرقی میونسپل علاقوں کے بلدیاتی انتخابات میں اے ڈی ایف کا ووٹ شیئر ۵۰؍ فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اور ہم دیہی علاقوں میں جن بنیادی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا ریچسبرگر سے متعلق بات بھی نہیں شروع کر سکتے جو ابھی یہاں موجود ہے۔ یہ حقیقی مسائل ہیں جن کا ہمیں سامنا ہے۔ لوگوں کو جمہوری اقدار کے لیے کھڑے ہونے کی ترغیب دینا، بعض اوقات ذاتی تحفظ کا معاملہ بن سکتا ہے۔‘‘ اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ وہ نوجوانوں کے غصے کو سمجھ سکتی ہیں انہوں نے واضح کیا کہ یہ قابل قبول نہیں ہے کہ اس غصے کے ذریعے معصوموں کو نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی دائیں بازو کے لوگ قصداً دوسروں پر الزام لگاتے ہیں اور نچلے طبقے کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دنیا کے سب سے بڑے تیل ذخائر کے باوجود وینزویلا غریب کیوں؟

سیاسی ذمہ داریوں کی بات کرتے ہوئے آرنلڈ نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں چاہئے کہ شخصی یا تنظیمی طور پر جمہوریت کیلئے لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ مسئلہ عوام کی ضروریات پر سنجیدگی برتنے اور اچھی حکمت عملی اپنانے کے بارے میں ہے۔ سبھی جمہوری جماعتیں اس بات کو دہراتی ہیں مگر انہیں چاہئے کہ وہ اسے عملی صورت دیں اور ان کے لئے مشکلات نہ پیدا کریں جو جمہوریت کو بچانے کیلئے پہلے سے مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ہندوستان کو وارننگ، روسی تیل کی درآمدات کم نہ کرنے پر مزید ٹیرف لگانے کا انتباہ دیا

سوشل میڈیا نیٹ ورکس انتہائی دائیں بازو کیلئے ایک محرک قوت ہے
آرنلڈ نے دائیں بازو کی تنظیم میں سوشل میڈیا کے اہم کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہاٹس ایپ، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز بنیاد پرستی کو بڑھاوا دیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ موجودہ تمام سوشل نیٹ ورکس ایک بڑی محرک قوت ہیں (دائیں بازو کیلئے) کیونکہ وہ ماضی کے مقابلے نوجوانوں کو بہت تیزی سے پیغامات پہنچاتے ہیں۔ پہلے آپ کو بہت محنت کرنی پڑتی تھی، جیسے اسکولوں میں جا کر بچوں کو بھرتی کرنے کی کوشش یا سی ڈی کے ذریعے اپنا پیغام پہنچانا۔ اب بہت سی سہولتیں موجود ہیں اور صرف اے ایف ڈی نہیں بلکہ پورا انتہائی دایاں بازو ان سہولیات کا غلط استعمال کر رہا ہے۔‘‘ سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے آرنلڈ نے تنبیہ کی کہ ایسے اقدامات سے معصوموں کو سزا مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے بجائے نوجوانوں کے جمہوری شعور کو جگانا اور انہیں تنقیدی صحافت کی تعلیم دینا بہتر حل ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK