Updated: July 15, 2026, 10:15 PM IST
| Mumbai
مہاراشٹر سی اے جی نے چھ گمنام ہوسٹل کا انکشاف کیا ہے، جہاں کوئی طالب علم نہیں ہے، لیکن انہوں نے ایک کروڑ باسٹھ لاکھ کی سرکاری امداد وصول کی، رپورٹ میں پسماندہ اور اقتصادی طور پر کمزور طبقات کے طلبہ کے لیے چلنے والے سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ ہاسٹلوں میں وسیع تر خامیوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔
مہاراشٹر میں سی اے جی نے چھ گمنام ہوسٹل دریافت کیے ہیں جنہیں چار سالوں میں ایک کروڑ باسٹھ لاکھ روپے سرکاری امدادملی، حالانکہ ان میں ایک بھی طالب علم موجود نہیں تھا۔ یہ بات ان کی۲۰۲۴ء کی تعمیل آڈٹ رپورٹ میں سامنے آئی، جو۱۰؍ جولائی کو ریاستی اسمبلی میں پیش کی گئی۔رپورٹ میں پسماندہ اور اقتصادی طور پر کمزور طبقات کے طلبہ کے لیے چلنے والے سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ ہاسٹلوں میں وسیع تر خامیوں کو بھی اجاگر کیا گیا، جن میں انفراسٹرکچر، حفاظت، صفائی، عملے کی تعیناتی اور امداد کے استعمال میں کمیوں کی نشاندہی کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: پنڈھر پور جا رہے مذہبی جلوس میں شریک لوگوں کو ٹرک نے اڑا دیا
رپورٹ کے مطابق، ’’محکمہ سماجی انصاف اور خصوصی امداد نے چار سالوں میں غیر فعال اداروں کو ایک کروڑ باسٹھ لاکھ روپے تقسیم کیے اور ان چھ اداروں کو گمنام ہوسٹل قرار دیا۔ مارچ۲۰۲۴ء تک مہاراشٹر میں۴۴۳؍ سرکاری اور۲۳۸۸؍ سرکاری امداد یافتہ ہاسٹل تھے، جن میں ۱۲۱۹۷۱؍لڑکے اور ۴۰۵۴۳؍لڑکیاں رہائش پذیر تھیں۔جبکہ ریاست نے آڈٹ کی مدت کے دوران ان ہاسٹلوں پر ۲۳۲۱؍کروڑ روپے خرچ کیے۔ آڈٹ میں ۱۸؍ سرکاری اور۲۱؍ سرکاری امداد یافتہ ہاسٹلوں کا معائنہ کیا گیا۔
بعد ازاں سی اے جی نے جالنہ کے مودیکھان ہاسٹل کو ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمارت خستہ حال اور تالے سے بند تھی، جس میں کسی کی مومودگی کا کوئی نشان نہیں تھا، جبکہ ریکارڈز میں۳۸؍ طلبہ اور ایک سپرنٹنڈنٹ دکھایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، ریاستی حکومت نے چار سالوں میں اس ہاسٹل کو۱۸؍ لاکھ روپے اعزازیہ جاری رکھا۔ آڈٹ ٹیم نے جالنہ ضلع کے جعفرآباد میں۲۴؍ طلبہ کے لیے بنائے گئے ایک ہاسٹل میں گرد آلود اور غیر آباد بستر بھی پائے۔ اسی طرح کے گمنام ہاسٹل جالنہ میں چار، اور بلڈانہ اور لاتور میں ایک ایک جگہ پائے گئے۔
یہ بھی پڑھئے: طبیلے میں گائے تھی ہی نہیں، کیمیکل کے ذریعے دودھ تیار کیا جا رہا تھا!
علاوہ ازیں رپورٹ میں کہا گیا کہ بہت سے سرکاری ہاسٹلوں میں کھانے کے کمرے، لائبریریاں، کمپیوٹر لیبارٹریز، سی سی ٹی وی کی نگرانی، روزنامہ اخبارات، ٹیلی ویژن اور بجلی کے متبادل انتظامات نہیں تھے۔ باقاعدہ طبی معائنے تقریباً غیر موجود تھے، جبکہ چار ہاسٹلوں میں طلبہ کو میزیں اور کرسیاں نہ ہونے کی وجہ سے فرش پر بیٹھ کر کھانا کھانا پڑتا تھا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ احمدنگر، دھاراشو، جالنہ اور ناگپور کے کچھ ہاسٹلوں میں رسائی کے قواعد کی خلاف ورزی کی گئی، جہاں معذور طلبہ کو اوپری منزلوں پر کمرے دیے گئے، حالانکہ قواعد گراؤنڈ فلور پر رہائش کا تقاضا کرتے ہیں۔سی اے جی نے مزید کہا کہ بائیو میٹرک حاضری کے نظام سے لیس۲۸۰؍ سرکاری ہاسٹلوں میں سے صرف۴۶؍ میں آلات کام کر رہے تھے۔ اس میں ناقص صفائی، کم معیار کا کھانا، پینے کے صاف پانی کی کمی، ناکافی روشنی اور کچھ اداروں میں خوراک کے ایک ماہ کے لازمی بفر اسٹاک کو برقرار رکھنے میں ناکامی پر بھی تنقید کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: سیلاب متاثرہ سورت کے شہری عوامی نمائندوں پر شدید برہم
مزید برآں رپورٹ نے امداد کے ناقص استعمال پر انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ۲۰۲۳ء-۲۴ءمیں سرکاری ہاسٹلوں کے لیے مختص۴۸۷؍ کروڑ روپے میں سے۵۶؍ کروڑ ۶۵؍ لاکھ روپے خرچ نہیں ہوئے۔ اس کے مطابق،۱۱۷؍ تعلقوں میں تقریباً۸۹۳۰؍ طلباء ہاسٹل کی سہولیات سے محروم رہ گئے کیونکہ حکومت ہر تعلقہ میں ایک سرکاری ہاسٹل قائم کرنے کی اپنی پالیسی پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی۔ سی اے جی کے مطابق،۴۹؍ سرکاری ہاسٹل سپرنٹنڈنٹ کے بغیر کام کر رہے تھے، جبکہ پانچ لڑکیوں کے ہاسٹل مرد سپرنٹنڈنٹ کے ماتحت تھے۔ تاہم سی اے جی نے یہ بھی کہا کہ ۲۰۲۰ءتک ۵۰۰؍ سرکاری ہاسٹل بنانے کا ریاستی ہدف ادھورا رہا، اور فنڈز کی منظوری کے باوجود صرف۴۴۳؍ ہاسٹل قائم کیے گئے۔ مجموعی طور پر، رپورٹ نے غیر فعال ہاسٹلوں کو امدادملنے اور وسیع تر کمیوں کی نشاندہی کی، جنہوں نے مہاراشٹر میں طلبہ کی بہبود کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور چلانے کو متاثر کیا۔