Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ممبرا میں عوام کیلئے ریزرو پلاٹ بلڈروں کے سپر د کئے جا رہے ہیں‘‘

Updated: July 21, 2026, 10:39 AM IST | Iqbal Ansari | Thane

ایم آئی ایم لیڈر سیف پٹھان نے سوال کیا کہ جس زمین کو سی آر زیڈ کی بتا کر وہاں سلاٹر ہائوس نہیں بننے دیا گیا اس زمین پر بلڈنگ کیسے بن گئی؟

Shoaib Dongre and Saif Pathan. Photo: INN
شعیب ڈونگرے اور سیف پٹھان۔ تصویر: آئی این این

تھانے میونسپل کارپوریشن میں مجلس اتحاد المسلمین کے گروپ لیڈر سیف پٹھان نے الزام لگایا ہے کہ میونسپل افسران بلڈروں سے ملی بھگت کر کے ممبرا کوسہ کے ریزرو پلاٹ بلڈروں کو سونپ رہے ہیں۔ جہاں پر سلاٹر ہاؤس، اسکول ، میدان اور گارڈن تعمیر ہونا چاہئے تھا، وہاں بلڈنگیں تعمیر ہو رہی ہیں۔ سیف پٹھان نےکہا کہ یہ ممبرا کے عوام کی حق تلفی  ہے۔ انہوں نے میونسپل افسران سے سوال کیاکہ جس قطعہ اراضی پر سلاٹر ہاؤس کا ریزرویشن تھا ، اس پر یہ کہتے ہوئے سلاٹر ہاؤس نہیں بننے دیا گیا کہ وہ قطعہ اراضی سی آر زیڈ میں آتی ہے تو پھر وہاں پر عمارت کیسے تعمیر ہوگئی؟ سیف پٹھان نے پیر کومیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’ہماری پارٹی کے پینل نمبر ۳۰؍کے کارپوریٹر شعیب ڈونگرے نے میونسپل افسران سے ان کے وارڈ میں واقع ریزرو پلاٹس کی تفصیل پوچھی تھی۔ لیکن جنرل باڈی کی میٹنگ میں انہیں گول مول جواب دیا گیا اور گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: جنتر منتر پر طلبہ پر لاٹھی چارج کی مذمت، این سی پی (شرد ) کا ریاست گیر احتجاج

سلاٹر ہاؤس کی جگہ قبرستان اور قبرستان کی جگہ بلڈنگ

کارپوریٹر شعیب ڈونگرے نے بتایا کہ ’’سروے نمبر ۵۶، ۵۷؍ اور ۵۸؍ پہلے سلاٹر ہاؤس کیلئے مختص کیا گیا تھا۔ یہ ۱۵؍ تا ساڑھے ۱۵؍ ایکڑ کا پلاٹ تھا۔ ۱۷۔۲۰۱۶ء میں اس میں رد و بدل کر کے سلاٹر ہاؤس کی قطعہ اراضی کو کم کر کے ۱۱؍ ایکڑ کر دیا گیا۔ اسکے بعد سلاٹر ہاؤس کو منتقل کر کے اسکی جگہ ۵؍ ایکڑ میں قبرستان بنایا گیا اور بقیہ ۶؍ ایکڑ بلڈر کو دےدی گئی ۔سلاٹر ہاؤس جو ۱۱؍ ایکڑ کا تھااسے کم کر کے ۶؍ ایکڑ کر دیا گیا اور یہ سلاٹر ہاؤس سروے نمبر ۶۶، ۶۷؍ اور ۶۸؍ پر منتقل کر دیا گیا۔ جب ہم نے اس سروے نمبرکا دورہ کیاتو پتہ چلا کہ اس جگہ کو کسی بلڈر نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس طرح ممبرا کے شہریوں کو سلاٹر ہاؤس دینے کے نام پر گمراہ کیا جارہاہے اور افسران بدعنوانی کر کے یہ جگہیں بلڈروں کو دے رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’ٹینڈر کے پیسوں پر تکبر دکھانے والوں کو برداشت نہیں کریں گے‘‘

انہوںنے مزید بتایاکہ ’’مَیںنے میونسپل افسران سے سیدھا سوال کیاتھا کہ میرے پینل نمبر ۳۰؍ میں کتنے ریزرویشن ہیں اور اب تک شہری انتظامیہ نے کتنے اپنے تابع میں لئے ہیں؟ یہ سوال مَیں نے ٹی ایم سی کی جنرل باڈی سے ۸؍ تا ۱۰؍ روز قبل پوچھا تھا لیکن پیر ۲۰؍ جولائی تک بھی ان کے پاس سوالوں کا سیدھا جواب نہیں تھا بلکہ وہ گول مول باتیں کر رہے تھے۔ جب ہم نے میونسپل ایوان میں ان سے سیدھے جواب دینے کی درخواست کی تو انہوں نے یقین دلایا ہے کہ ۲؍ دن کے بعد تحریری جواب دیں گے۔

سیف پٹھان نے بتایاکہ ’’ میونسپل افسران نے ممبرا میں جاری میونسپل اسکول اور ان میں زیر تعلیم طلبہ کی تفصیل بھی نہیں بتائی ۔ایک ٹھیکیدار نے اسکول عمارت کی مرمت کیلئے طے مدت میں کام نہیں کیا لیکن کارپوریشن اس کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اس لاڈلے ٹھکیدار کو مزید ۲؍ ماہ کی مدت دے رہی ہے۔اس غیر ذمہ دارانہ رویے سے ۱۶۰۰؍طلبہ کی پڑھائی کا نقصان ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK