موجودہ بی ایل اوز کام کےبوجھ سے پریشان۔ ڈیوٹی جوائن نہ کرنےوالے اہلکاروںکے خلاف ایف آئی آر درج کرانےکااشارہ ۔
بی ایل او میپنگ ووٹر۔ تصویر:آئی این این
’اسپیشل انٹینسیو ریویژن ( ایس آئی آر )‘ کے تحت رائے دہندگان کی میپنگ کا کام بی ایل اوز کی کمی کے سبب متاثر ہے ۔ شہر ومضافات کے متعدد علاقوں کے الیکشن ریٹرننگ آفیسر کے مطابق پیر ۶؍ اپریل سے بڑی تعداد میں بی ایل او ڈیوٹی جوائن کرنے والے تھے لیکن بیشتر بی ایل او کے غیرحاضر رہنے سے ریٹرننگ افسران کی مشکلیں بڑھ گئی ہیں ۔ آئندہ ۳؍ دن میں ڈیوٹی جوائن نہ کرنے پر ان کےخلاف ایف آئی آر کرانے کاانتباہ دیا گیا ہے جبکہ موجودہ بی ایل او کام کے بوجھ سے پریشان ہیں ۔ کچھ بی ایل او احساس ذمہ داری کے تحت بڑی پابندی سے ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی یادی کے ۴۰؍ سے ۵۰؍فیصد ووٹروں کی میپنگ اپنے طور پر مکمل کرلی ہے ۔ان میں ایک بی ایل اوایسی بھی ہے جوروزانہ پونے سے ممبئی آکر ڈیوٹی انجام دے رہی ہے ۔اس نے بھی تقریباً ۵۰؍ فیصد ووٹروں کی میپنگ خود مکمل کرلی ہے۔
واضح رہے کہ ایک طرف بی ایل اوز کی کمی سے رائے دہندگا ن کو میپنگ کرانے میں دشواری ہو رہی ہے تو دوسری جانب جو بی ایل اوز ڈیوٹی کر رہے ہیں ،عملے کی قلت سے انہیں کام مکمل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ کچھ حلقوں میں دستیاب بی ایل اوز کو تعینات کیا گیا ہے لیکن عملے کی کمی سے وہ اپنا کام پورا نہیں کر پا رہے ہیں ۔ مثلاً بائیکلہ اسمبلی حلقہ نمبر ۱۸۴؍ میں محمد عمررجب اسکول (مدنپورہ) میں ۷؍ دن کیلئے ۷؍بی ایل اوز کو ایک ہفتہ پہلے تعینات کیا گیا تھا لیکن منگل کو ان میں سے ۴؍ بی ایل اوز کو دیگر علاقوں کی یادی کی میپنگ پر مامور کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے محمد عمررجب روڈ کی یادی کا کام ادھورا رہ گیا ہے ۔
محمدعمر رجب اسکول میں تعینات بی ایل او امرتا پاٹل کے مطابق ’’مجھے ۲؍پارٹ کی یادی دی گئی ہے جن میں تقریباً ایک ہزار ۲۰۰؍ رائے دہندگان کی تفصیلات درج ہیں ۔ یہاں جو وو ٹر میپنگ کیلئے آ رہے ہیں ، ان میں ۵۰؍فیصد ووٹروں کی میپنگ میں نے اپنے طور پر مکمل کرلی ہے ۔ ایسے میں یہاں آنے والے بیشتر ووٹروںکو آسانی سے میں بتا پا رہی ہوں کہ ان کی میپنگ ہوچکی ہے۔ گزشتہ ۷؍دن میںیہاں آنے والے کچھ ووٹروں کےپرانے اور نئے سیریل نمبروں میں تضاد کی شکایتیں سامنے آئی ہیں جس کی جانچ کر کے ہم نے انہیں درست کر دیا ہے ۔ عملے کی قلت سے کام کا بوجھ کافی بڑھ گیا ہے ، ایسے میں ہم اپنے گھروں پر بھی میپنگ کا کام کر رہے ہیں تاکہ ہدف مکمل کیا جاسکے ۔‘‘پرجکتا اینگرے جو روزانہ پونے سے ممبئی آکر بی ایل او کی ڈیوٹی انجام دے رہی ہیں ، نے بتایا کہ ’’میں گزشتہ دسمبر سے یہ ڈیوٹی کر رہی ہوں ۔روزانہ صبح ۶؍بجے پونے سے نکلتی ہوں اور رات ۱۱؍ بجے تک گھر واپس پہنچ جاتی ہوں ۔ پونے سے ممبئی آنے اور واپسی کےسفر کے دوران بھی میپنگ کا کام کرتی ہوں ۔ اس وجہ سے مجھے جو ۲؍یادی دی گئی ہے، ان میں سے تقریباً ۵۰؍ فیصد رائے دہندگان کی میپنگ مکمل ہوچکی ہے ۔‘‘
وارڈ نمبر ۲۱۱؍ کے کارپوریٹر وقار خان نے بتایاکہ’’ بائیکلہ اسمبلی حلقہ کے ریٹرننگ آفیسر کرشنا جادھو نے گزشتہ جمعہ کو مجھے ۷؍بی ایل اوز دیئے تھے جنہیں میں نے محمد عمررجب اسکول میں تعینات کیا تھا۔ انہوں نے پیر ۶؍اپریل کو مزیدبی ایل اوز فراہم کرنے کاوعدہ کیا تھالیکن پیر کو انہوں نے بتایا کہ جن بی ایل اوز کو ڈیوٹی جوائن کرنی تھی، وہ حاضر نہیں ہوئے جس سے بڑی پریشانی ہو رہی ہے ۔ اگر آئندہ ۳؍ دن میں ان بی ایل اوز نے ڈیوٹی نہیں جوائن کی تو ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی جائے گی ۔‘‘انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’بائیکلہ اسمبلی حلقہ میں ۲۶۵؍ بی ایل اوز کی ضرورت ہے لیکن ریٹرننگ آفیسر نے گزشتہ ہفتہ ۳۸؍بی ایل اوز فراہم کئے تھے جنہوںنے اسکولوں کےعلاوہ اپنے طور پر اب تک اس حلقہ کے ۵۴؍فیصد ووٹروں کی میپنگ مکمل کرلی ہے۔ ‘‘
اس تعلق سے مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے بائیکلہ کے ریٹرننگ آفیسر کرشناجادھو سے ان کے موبائل فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ملی۔