جلگائوں ضلع کے ایک گائوں میں بقایا بلوں کے تعلق سے ہوئی بحث میں گرام سیوک کے ساتھ بدسلوکی، گرام سیوکوں کا احتجاج۔
EPAPER
Updated: August 19, 2026, 3:59 PM IST | Sharjeel Qureshi | Jalgaon
جلگائوں ضلع کے ایک گائوں میں بقایا بلوں کے تعلق سے ہوئی بحث میں گرام سیوک کے ساتھ بدسلوکی، گرام سیوکوں کا احتجاج۔
جلگائوں ضلع کے پارولہ تعلقہ میں واقع شیورے ڈگر گائوں میں منعقدہ گرام سبھا میں اس قدر گرما گرم بحث ہوئی کہ ایک گرام سیوک کو دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوگئی۔ اس کی وجہ سے گائوں بھر میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
اطلاع کے مطابق ایک روز قبل شیورے ڈگر میں صبح تقریباً ۹؍بجے گرام سبھا منعقد ہوئی جس میں سرپنچ، پولیس پاٹل، گرام کے اراکین کے ساتھ گائوں کے نوجوانوںنے بھی شرکت کی۔ میٹنگ کے دوران ،پرانے کام کے بلوں کے تعلق سے گاؤں والوں اور گرام سیوک پرہلاد پاٹل کے درمیان زور دار بحث ہوئی۔ الزام ہے کہ شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے دوران کچھ لوگوں نے کے ساتھ بدسلوکی کی اور پٹائی بھی کی۔ اس کی وجہ سے پاٹل بے چینی محسوس کرنے لگے اور میٹنگ چھوڑ کر گھر چلے گئے۔گھر پہنچنے کے بعد پرہلاد پاٹل کی حالت اور بگڑ گئی۔ انہیں فوری طور پر پارولہ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کروایا گیا۔ تاہم ان کی حالت مزید تشویشناک ہوگئی اور انہیں مزید علاج کیلئے دوسرے اسپتال لے جایا جانے لگا مگر راستہ ہی میں وہ انتقال کر گئے۔
یہ بھی پڑھئے: کاکروچ پارٹی کی ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کا اثر، ضلع پریشد اسکول کا ہیڈماسٹر معطل
واقعہ کی اطلاع ملنے پر گرام سیوک سنگھٹنا کے عہدیدار پارولہ پولس اسٹیشن پر جمع ہوئے اور پرہلاد پاٹل کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے لگے۔پولیس نے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے ایک شخص کو گرفتار کر لیا۔پرہلاد پاٹل کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ ان کی منگل کو ان کے آبائی گاؤں بودردے (تعلقہ پارولہ) میں کی گئی۔ واقعے کے پیش نظر پولیس نے علاقے میں پہرہ لگا دیا ہے۔
اس معاملے میں پارولہ پولیس نے بی این ایس کی دفعہ ۱۰۵؍ کے تحت ۷؍ افراد کے خلاف معاملہ درج کیااور ایک کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے ہنگامے میںکلیدی کردار ادا کیا تھا۔گرفتار ملزم سے بھی پولیس پوچھ تاچھ جاری ہے ہے جس کے بعد مزید گرفتاریاں عمل میں آ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:دیویندر فرنویس کی وزراء پر قدغن لگانے کی کوشش؟
گرام سیوک سنگھٹنا کا احتجاج
اس دوران گرام سیوکوں کی تنظیم’ گرام سیوک سنگھٹنا‘ کے ذمہ دارنند کمارگوراڈے اپا نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد تنظیم نے ریاست بھر میں ہونے والی گرام سبھاوں کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے ۔اس سلسلے میں جب تک ریاستی سطح پر اس طرح کے واقعات پر قدغن لگانے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا جاتاگرام سبھا منعقد نہیں کی جائے گی ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بقیہ ملزمین آئندہ دو یا تین روز میں گرفتار نہیں ہوئے تو جلگائوں ضلعے کے ۱۱۶۵؍ گرام پنچایتوں کے دفتروں پر تالا لگا کرچابیاں ضلع ایس پی شری کانت دھیورے کے سپرد کردینگے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کے زمانے میں گرام سبھاکا کام کاج مکمل طور پر بند تھا ۔اسکے بعد بھی گائوں کے ترقیاتی کام کاج ہوئے ۔اب جب ڈیجٹیل دور ہے گرام سبھا کا کاروبار بھی آن لائن ہے ۔اسکے بعد بھی گرام سبھا کیوں کر منعقد کی جا تی ہے؟ نند کمار نے کہا کہمستقبل میںگرام سبھا کا انعقاد نہ ہو اس کیلئے مہاراشٹر بھر کے تمام اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمان کو گرام سبھا قانون میں تبدیلی کروانے کا مکتوب بھیجا جائے گا۔