Updated: June 30, 2026, 9:04 PM IST
| Madrid
ہسپانوی حکومت نے غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے پروگرام کے اختتام پر اسے ملک کی معیشت اور مستقبل کیلئےناگزیر قرار دیا ہے۔ وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز کا کہنا ہے کہ امیگریشن اسپین کی اقتصادی ترقی، فلاحی نظام اور آبادی کے توازن کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
ہسپانوی وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز ۔ تصویر: آئی این این
ہسپانوی وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے منگل کو امیگریشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسپین کے مستقبل کیلئے ناگزیر ہے جبکہ ملک میں غیر قانونی تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کے غیر معمولی پروگرام کا آخری دن تھا، جس کے تحت تقریباً ۱۲؍لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں۔ سانچیز نے ہجرت سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’اگر امیگریشن نہ ہو تو۲۰۵۰ء تک اسپین اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا۱۹؍ فیصد کھو دے گا۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ایک ملین سے زیادہ درخواستوں کا موصول ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ اقدام کس قدر ضروری تھا۔ ‘‘ اس پروگرام کے تحت وہ غیر قانونی تارکینِ وطن، جو یکم جنوری۲۰۲۶ءسے پہلے اسپین میں مقیم تھے اور جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا، عارضی رہائشی اور ورک پرمٹ کیلئے درخواست دینے کے اہل تھے۔
یہ بھی پڑھئے: یورپ کی شدید گرمی سیکڑوں اضافی اموات کی ذمہ دار ہو سکتی ہے: ڈبلیو ایچ او
سانچیز نے کہا کہ امیگریشن اسپین کے فلاحی نظام کو برقرار رکھنے اور آبادی میں کمی کے اثرات کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق اگر تارکینِ وطن نہ ہوں تو صدی کے وسط تک اسپین تقریباً۹۰؍ ہزار بارز، ۲؍ لاکھ ۲۰؍ہزار زرعی فارم اور۵۰؍ ہزار کلاس رومز سے محروم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’اسپین نے کبھی دیواریں کھڑی کرکے ترقی نہیں کی۔ مہذب رویہ یہی ہے کہ لوگوں کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھایا جائے، نہ کہ امیگریشن سے منہ موڑ لیا جائے۔ ‘‘وزیرِاعظم نے تارکینِ وطن کے انضمام کیلئے۵۰۵؍ملین یورو (۵۷۵؍ ملین امریکی ڈالر) کے منصوبے کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد انہیں روزگار، تعلیم، رہائش اور صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ایک عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی، جس میں اسپین کی ترقی میں تارکینِ وطن کے کردار کو اجاگر کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ہند نژاد بچی تمام ۶۳؍ نیشنل پارکس دیکھنے والی کم عمر ترین فرد بن سکتی ہے
انہوں نے کہا، ’’ہسپانوی معاشرے کو چاہئے کہ وہ مساوی حقوق کی ضمانت دے، امتیازی سلوک کا خاتمہ کرے اور مواقع فراہم کرے۔ اسی طرح جو لوگ یہاں آئیں، وہ ہمارے قوانین کا احترام کریں، ہماری سرکاری زبانیں سیکھیں اور جمہوری اقدار کو اپنائیں۔ انضمام صرف کسی جگہ رہنے کا نام نہیں بلکہ ایک برادری کا حصہ بننے کا عمل ہے۔ ‘‘ قدامت پسند پاپولر پارٹی اور انتہائی دائیں بازو کی ووکس پارٹی کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے سانچیز نے کہا کہ ان کی حکومت سیاسی مفاد کے بجائے ’دانشمندی، انسانیت اور ہمدردی‘ پر مبنی امیگریشن پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسپین کی پالیسی کشادگی اور سرحدی نگرانی دونوں کا امتزاج ہے۔ ان کے مطابق اس سال غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد میں تقریباً ایک تہائی کمی آئی ہے، جبکہ کینری جزائر میں یہ کمی تقریباً۷۰؍ فیصد رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وزیراعظم مودی کا سیشیلز دورہ، ہند سیشیلز تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا عزم
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسپین کی سپریم کورٹ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا یورپی یونین کی عدالتِ انصاف سے یہ وضاحت طلب کی جائے کہ آیا یہ قانونی حیثیت دینے کا پروگرام یورپی یونین کے قوانین سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ یہ قانونی چیلنجز پاپولر پارٹی کے زیرِ انتظام متعدد علاقوں کی جانب سے دائر کئے گئے ہیں، جیسا کہ ہسپانوی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے۔ تاہم، عدالت نے اس پروگرام کو معطل نہیں کیا، جبکہ ہسپانوی حکومت نے منگل کے روز ایک بار پھر اعتماد ظاہر کیا کہ یہ پروگرام یورپی قوانین کے مکمل مطابق ہے۔