Updated: June 02, 2026, 10:01 PM IST
| Riyadh
سعودی عرب میں ایک تاریخی ماحولیاتی کامیابی کے طور پر شہزادہ محمد بن سلمان رائل ریزرو میں اونجر (Equus hemionus) کے بچے کی پیدائش ریکارڈ کی گئی ہے، جو ۱۰۰؍ سال سے زائد عرصے بعد سعودی سرزمین پر اس نسل کی پہلی پیدائش ہے۔ یہ کامیابی عربین ری وائلڈنگ پروگرام کے تحت حاصل ہوئی، جس کا مقصد معدوم یا نایاب مقامی انواع کو ان کے قدرتی مسکن میں دوبارہ آباد کرنا ہے۔
اونجر ان انواع میں شامل ہے جو ایک صدی سے زیادہ عرصے سے جزیرہ نما عرب کے صحراؤں سے تقریباً غائب ہو چکی تھی۔ تصویر: آئی این این
سعودی عرب میں جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں کو ایک بڑی کامیابی اس وقت حاصل ہوئی جب شہزادہ محمد بن سلمان رائل ریزرو میں اونجر (Equus hemionus) کے بچے کی پیدائش ریکارڈ کی گئی۔ یہ سعودی سرزمین پر گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے میں اس نسل کی پہلی پیدائش ہے، جسے ماہرین ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے شعبے میں ایک غیرمعمولی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ریزرو انتظامیہ کے مطابق نر اونجر کی پیدائش جون ۲۰۲۵ء میں ہوئی تھی، تاہم اس کا اعلان اب کیا گیا ہے کیونکہ اس نے کامیابی کے ساتھ اپنی زندگی کا پہلا سال مکمل کر لیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اونجر کے بچوں کے لیے زندگی کا پہلا سال انتہائی نازک مرحلہ ہوتا ہے اور اس دوران زندہ رہنے کی شرح ۵۰؍ فیصد سے بھی کم ہوتی ہے۔ اسی لیے ایک سال مکمل ہونے کے بعد اس کامیابی کو باضابطہ طور پر عوام کے سامنے لایا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: مسعود پزشکیان کے استعفے کی افواہیں، ایرانی صدر نے خود تردید کی
یہ پیدائش عربین ری وائلڈنگ پروگرام کے تحت ممکن ہوئی، جو مقامی حیاتیاتی تنوع کو بحال کرنے کے لیے شروع کیا گیا ایک وسیع منصوبہ ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ۲۳؍ مقامی جانوروں اور پرندوں کی انواع کو ان کے تاریخی قدرتی مسکن میں دوبارہ متعارف کرانا ہے۔ اونجر ان انواع میں شامل ہے جو ایک صدی سے زیادہ عرصے سے جزیرہ نما عرب کے صحراؤں سے تقریباً غائب ہو چکی تھی۔ ریزرو حکام نے بتایا کہ موجودہ کامیابی کے بعد اس موسم سرما میں مزید دو اونجر بچوں کی پیدائش کی توقع کی جا رہی ہے، جو افزائش نسل کے پروگرام کی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ جنگلی حیات کے تحفظ کے عالمی ادارے International Union for Conservation of Nature نے خبردار کیا ہے کہ اگر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو ۲۰۵۰ء تک اونجر کی عالمی آبادی میں ۹۰؍ فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گفتگو کے دوران ایران پر امریکہ کا فضائی حملہ
ادارے کے اندازوں کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں جنگلوں میں صرف ۶۰۰؍ سے کم اونجر باقی رہ گئے ہیں۔ اسی باعث ۲۰۲۰ء میں اس نسل کے خطرے کی سطح میں اضافہ کرتے ہوئے اسے زیادہ خطرے سے دوچار انواع کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ شہزادہ محمد بن سلمان رائل ریزرو کی انتظامیہ اس نسل کے جینیاتی تنوع کو بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ایک مادہ اونجر کو اردن سے لایا گیا ہے جو اس وقت قرنطینہ کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ توقع ہے کہ رواں سال کے آخر میں اسے افزائشی ریوڑ میں شامل کر دیا جائے گا تاکہ نسل کی طویل مدتی بقا، جینیاتی تنوع اور ماحولیاتی موافقت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ۲۰۲۵ء میں تنازعات سے جڑے جنسی تشدد کے تقریباً ۱۰ ہزار معاملات؛ اسرائیل، روس یو این بلیک لسٹ میں شامل
حکام کے مطابق مستقبل میں دو الگ الگ افزائشی ریوڑ قائم کرنے کا منصوبہ بھی زیر عمل ہے، جس کا مقصد نسل کے اندر جینیاتی تنوع برقرار رکھنا اور ممکنہ بیماریوں یا ماحولیاتی خطرات کے اثرات کو کم کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ صرف جانوروں کی افزائش تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع ماحولیاتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں جنگلی حیات کے تحفظ، قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی اور قومی و علاقائی سطح پر شراکت داری کو فروغ دینا شامل ہے۔ سعودی عرب گزشتہ چند برسوں سے ماحولیات اور حیاتیاتی تنوع کے شعبے میں متعدد منصوبے شروع کر چکا ہے جن کا مقصد صحرائی علاقوں میں قدرتی توازن کو بحال کرنا اور معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کو محفوظ بنانا ہے۔ اونجر کی کامیاب پیدائش کو اسی وسیع وژن کا اہم نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے اور ماہرین کو امید ہے کہ یہ اقدام مستقبل میں دیگر نایاب انواع کی بحالی کے لیے بھی ایک مؤثر ماڈل ثابت ہوگا۔