• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی: مدینہ منورہ میں بجلی گھر پر ڈرون حملہ، او آئی سی اور عرب ممالک کی مذمت

Updated: October 02, 2026, 7:03 PM IST | İstanbul

مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے اسٹیشن پر ڈرون حملے کے بعد او آئی سی اور متعدد عرب ممالک نے سعودی عرب سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حملے کا الزام حوثی ملیشیا پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے میں بجلی کے ایک ٹرانسفارمر کو نقصان پہنچا، تاہم بجلی کا نظام متاثر نہیں ہوا۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور متعدد عرب ممالک نے جمعرات کو سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں ایک بجلی گھر پر ہونے والے ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے اس حملے کا الزام حوثی ملیشیا پر عائد کیا ہے۔ او آئی سی، متحدہ عرب امارات، اردن، کویت اور بحرین کے یہ بیانات سعودی عرب کی جانب سے اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ مدینہ منورہ میں واقع طیبہ بجلی کی تقسیم کے اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جو مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرتا ہے۔ 
او آئی سی
اسلامی تعاون تنظیم کے جنرل سیکریٹریٹ نے حملے کی ’’سخت مذمت‘‘ کرتے ہوئے کہا کہ مدینہ منورہ میں اہم بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات کو نشانہ بنانا ’’خطرناک کشیدگی اور مقدس مقامات کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی‘‘ ہے۔ او آئی سی نے اسے بین الاقوامی اور انسانی قوانین و اصولوں کی بھی خلاف ورزی قرار دیا۔ تنظیم نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سرزمین، سلامتی اور استحکام کے تحفظ، اسلامی مقدس مقامات کے دفاع اور شہریوں و رہائشیوں کی حفاظت کے لیے سعودی عرب کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کی انتخابی حمایت پر ٹرمپ کا واضح مؤقف سے گریز، اسرائیل کی حمایت برقرار

متحدہ عرب امارات
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ڈرون حملہ ’’سعودی عرب کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی اور اس کی سلامتی و استحکام کیلئے خطرہ‘‘ ہے۔ ابوظبی نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اس کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی حمایت کی۔ 
اردن
اردن نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سعودی عرب کی خودمختاری کی ’’کھلی خلاف ورزی‘‘ ہے اور اس کی سلامتی، استحکام اور علاقائی سالمیت کیلئے خطرہ ہے۔ اردن نے حملے کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی بھی قرار دیا۔ اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان فواد مجالی نے سعودی عرب کے ساتھ ’’مکمل یکجہتی‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردن مملکت، اس کے اداروں، شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مکہ: مسجد الحرام میں خودکش بمبار کی افواہ، سیکوریٹی حکام نے تردید کی

کویت
کویت نے کہا کہ مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والی تنصیب کو نشانہ بنانا شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف مسلسل کیے جانے والے دشمنانہ حملوں کا حصہ ہے۔ کویتی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’’ایسے حملے سعودی عرب کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو بھی مجروح کرتے ہیں اور اسلامی مقدس مقامات کی حرمت کیلئے خطرہ ہیں۔ ‘‘کویت نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی کویت اور خلیج تعاون کونسل کے دیگر رکن ممالک کی سلامتی سے الگ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: زیادہ اسکرین ٹائم کے سبب بچوں کی نشوونما متاثر: تحقیق

بحرین
بحرین نے ’’ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر مسلسل حملوں ‘‘ کی مذمت کی۔ منامہ نے کہا کہ وہ سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی حمایت کرتا ہے اور اسے اپنے دفاع کے حق کے تحت کئے جانے والے اقدامات کا حصہ سمجھتا ہے۔ بحرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ حوثیوں کے بار بار ہونے والے حملوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرے اور متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے، جن میں ۲۰۱۵ء کی قرارداد۲۲۱۶؍ اور۲۰۲۶ء کی قرارداد۲۸۱۷ء بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل جمعرات کو سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا تھا کہ ایک ڈرون حملے میں مدینہ منورہ کے بجلی کی تقسیم کے اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا، جس کا الزام اس نے حوثیوں پر عائد کیا۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ یہ حملہ منگل، ۲۹؍ ستمبر کی صبح کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک ٹرانسفارمر بند ہوگیا، تاہم بجلی کے مجموعی نظام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

یہ بھی پڑھئے: سنگاپور: مگرمچھ کی اے آئی سے بنی جعلی تصویر شیئر کرنے پر ایک شخص کو ۱۰ سال تک قید کا سامنا

المالکی نے کہا کہ تحقیقات کے نتائج، آپریشنل معلومات اور ڈرون کے ملبے کے جائزے سے ’’حوثی ملیشیا کے اس کارروائی کی منصوبہ بندی اور اسے انجام دینے میں ملوث ہونے‘‘ کا ثبوت ملا ہے۔ انہوں نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والی شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ حملہ ان کوششوں کا حصہ ہے جن کے ذریعے ’’حرمین شریفین کو بار بار نشانہ بنانے‘‘ کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جمعرات کو۱۸۴۵؍ جی ایم ٹی تک حوثیوں کی جانب سے سعودی اتحاد کے اس بیان پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ ۱۵؍ ستمبر کو سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا تھا کہ سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کردیا تھا، جس کا الزام حوثیوں پر عائد کیا گیا۔ اتحاد کے مطابق یہ ڈرون شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK