Updated: June 16, 2026, 9:57 PM IST
| Pune
ستیاکی ساورکر نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ کئی نامور مجاہدینِ آزادی، جن میں بھگت سنگھ، راج گرو، بتوکیشور دت اور اشفاق اللہ خان شامل ہیں، نے کوئی رحم کی اپیل جمع نہیں کرائیں اور آخر وقت تک برطانوی حکومت کے ساتھ اپنے معاملات میں اپنے اصولوں اور نظریات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
وی ڈی ساورکر اور ستیاکی ساورکر۔ تصویر: ایکس
ونایک دامودر ساورکر کے پوتے ستیاکی ساورکر نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے خلاف مجرمانہ ہتکِ عزت کے مقدمے کی سماعت کے دوران اعتراف کیا کہ ساورکر نے برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ کے سامنے اپنی سزا میں کمی کیلئے ۱۰ مرتبہ رحم کی اپیلیں دائر کی تھیں۔ ان کا یہ اعتراف پیر کو پونے کی ایک عدالت میں خصوصی جج امول شندے کے سامنے جرح کے دوران سامنے آیا۔ یہ کیس ستیاکی ساورکر کی طرف سے اپریل ۲۰۲۳ء میں دائر کی گئی ایک شکایت سے شروع ہوا تھا جس میں انہوں نے گاندھی پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے مارچ ۲۰۲۳ء میں لندن میں ایک تقریب کے دوران وی ڈی ساورکر کے بارے میں جھوٹے اور توہین آمیز ریمارکس دیئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی کی طلبہ سے حق کی مانگ کیلئے’ کوٹا مہاریلی‘ میں پہنچنے کی اپیل
سماعت کے دوران، ستیاکی ساورکر نے تصدیق کی کہ ”یہ کہنا درست ہے کہ ساورکر نے دس بار رحم کی اپیل دائر کی تھی۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ان اپیلوں کا ریکارڈ سرکاری آرکائیوز میں موجود ہے۔ انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ ساورکر نے سزا سنائے جانے کے ایک ماہ کے اندر ہی اپنی پہلی رحم کی اپیل دائر کر دی تھی۔ تاہم، ستیاکی نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ رحم کی اپیلیں دائر کرنا ساورکر کے لقب ”ویر“ (جس کا مطلب بہادر ہے) کے منافی تھا۔ انہوں نے ان اپیلوں کو ”برطانوی حکومت کے تحت ایک مروجہ طریقہ کار“ قرار دیا جسے بہت سے قیدیوں کے ذریعے سزاؤں میں چھوٹ یا کمی حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”رحم کی اپیل دائر کرنا نہ تو غیر معمولی تھا اور نہ ہی غیر قانونی۔“
ستیاکی ساورکر نے جرح کے دوران اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ اسی دور کے کئی نامور مجاہدینِ آزادی، جن میں بھگت سنگھ، راج گرو، بتوکیشور دت اور اشفاق اللہ خان شامل ہیں، نے کوئی رحم کی اپیل جمع نہیں کرائی تھی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ”یہ کہنا درست ہے کہ بھگت سنگھ اور بتوکیشور دت آخری وقت تک اپنے نظریے اور اصولوں پر قائم رہے۔ انہوں نے آخر وقت تک برطانوی حکومت کے ساتھ اپنے معاملات میں اپنے اصولوں اور نظریات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔“
یہ بھی پڑھئے: یوپی: جی آر پی ہیڈ کانسٹیبل جمشید فرقہ وارانہ ہم آہنگی کےفروغ کیلئے مستعفی
ساورکر کی اپیلوں میں استعمال ہونے والی زبان پر، ستیاکی ساورکر نے اپنا مؤقف برقرار رکھا کہ اس کے الفاظ سرکاری طریقہ کار کے مطابق تھے اور اس میں ”برطانوی حکومت کے ساتھ وفاداری کا اظہار کرنے والے الفاظ“ شامل نہیں تھے۔ ستیاکی نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ برطانوی حکومت نے ساورکر کی تمام دس اپیلوں کو یہ سوچ کر مسترد کر دیا تھا کہ رہا ہونے کی صورت میں وہ دوبارہ انقلابی سرگرمیوں میں شامل ہو جائیں گے۔
اس معاملے میں اگلی سماعت یکم جولائی کو ہوگی۔