یہاں تعلقہ کے فُگالے گرام پنچایت کے تحت آنے والا ورسواڑی گاؤں آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔
EPAPER
Updated: April 05, 2026, 10:53 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Mumbai
یہاں تعلقہ کے فُگالے گرام پنچایت کے تحت آنے والا ورسواڑی گاؤں آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔
یہاں تعلقہ کے فُگالے گرام پنچایت کے تحت آنے والا ورسواڑی گاؤں آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ آزادی کے ۷۸؍ برس بعد بھی یہاں نہ پکی سڑک ہے اور نہ ہی کوئی قابلِ استعمال راستہ، جس کے باعث گاؤں تک رسائی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ قبائلیوں کو روزمرہ ضروریات کے لئے تقریباً ۳؍کلومیٹر طویل پہاڑی راستوں، ندی نالوں اور دشوار گزار پگڈنڈیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔اسی پس منظر میں ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جب گاؤں کی رہائشی مندا آگھان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور وہ بے ہوش ہوگئیں۔ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے ایمبولنس گاؤں تک نہ پہنچ سکی، جس کے بعد مقامی افراد نے فوری طور پر انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاتون کو کپڑے کی ڈولی میں بٹھایا اور پہاڑی راستوں سے اٹھا کر مرکزی سڑک تک پہنچایا۔ بعد ازاں انہیں تعلقہ اگت پوری کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
مقامی شہری کالو ٹاکرے کے مطابق خاتون کو شدید پیٹ درد کی شکایت تھی، جس کے باعث ان کی حالت نازک ہوگئی تھی۔ وقت پر طبی امداد نہ ملنے کا خطرہ بڑھ رہا تھا، اسی لئے دیہاتیوں کو یہ مشکل قدم اٹھانا پڑا۔اس واقعے نے ورسواڑی میں بنیادی سہولتوں کی شدید کمی کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ گاؤں میں سڑک نہ ہونے کے باعث نہ صرف آمد و رفت متاثر ہے بلکہ ایمرجنسی حالات میں مریضوں کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ متعدد بار انتظامیہ سے سڑک تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا مگر اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر پرشہر ومضافات کی مساجد میں ائمہ نےخطابِ جمعہ میں روشنی ڈالی
شرم جیوی سنگٹھن کے سیکریٹری پرکاش کھوڑکا نے اس واقعے کو افسوسناک اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال سرکاری دعوؤں اور زمینی حقیقت کے درمیان واضح فرق کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو ایسے واقعات مستقبل میں بھی پیش آ سکتے ہیں۔یہ واقعہ نہ صرف ورسواڑی بلکہ دیگر دور دراز اور قبائلی علاقوں کی محرومیوں کی عکاسی کرتا ہے جہاں آج بھی بنیادی سہولتیں خواب بنی ہوئی ہیں۔