• Thu, 05 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ششی تھرور کا سیاسی ’کٹھ پتلیوں‘ کیلئے نیا لفظ Quockerwodger

Updated: November 05, 2026, 9:45 PM IST | New Delhi

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے ’اندھ بھکت‘، ’گودی‘ اور ’پیڈ فالوورز‘ جیسی اصطلاحات کے متبادل کے طور پر انگریزی کا ایک نایاب لفظ ’Quockerwodger‘ تجویز کیا ہے۔ اس کا مطلب ایسا سیاسی شخص ہے جو اپنی آزادانہ رائے کے بجائے کسی دوسرے کے اشاروں پر کام کرے۔ تھرور اس لفظ کو پہلے بھی سیاسی تناظر میں استعمال کرچکے ہیں، جبکہ اس کی جڑیں ۱۹؍ویں صدی کی لکڑی سے بنی کٹھ پتلیوں سے ملتی ہیں۔

Shashi Tharoor.Photo:INN
ششی تھرور۔ تصویر:آئی این این

کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے ایک مرتبہ پھر اپنی غیر معمولی انگریزی لغت کے ذریعے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ اس بار انہوں نے سیاسی بحث میں استعمال ہونے والی اصطلاحات ’اندھ بھکت‘، ’گودی‘ اور ’پیڈ فالوورز‘ کے متبادل کے طور پر ایک کم استعمال ہونے والا انگریزی لفظ ’کواکوووجر‘ (Quockerwodger) پیش کیا ہے۔ تھرور کے مطابق اس لفظ سے مراد ایسا سیاسی شخص ہے جو کسی دوسرے کے کنٹرول میں ہو اور اپنی مرضی یا آزادانہ فیصلے کے بجائے اس کی ہدایات پر عمل کرے۔  تروننت پورم سے لوک سبھا کے رکن تھرور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس لفظ کے معنی کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’ان لوگوں کے لیے جو ’اندھ بھکت‘، ’گودی‘، ’پیڈ فالوورز‘ اور اس طرح کی اصطلاحات استعمال کرتے کرتے تھک چکے ہیں، کیا یہ ایک قابلِ قبول متبادل ہوسکتا ہے؟‘‘ ان کی اس پوسٹ کے بعد لفظ کے معنی اور اس کے سیاسی استعمال پر سوشل میڈیا پر گفتگو شروع ہوگئی۔

’کواکوووجر‘ کا لغوی اور تاریخی پس منظر بھی دلچسپ ہے۔ یہ ۱۹؍ ویں صدی کی انگریزی اصطلاح ہے، جس کا ابتدائی تعلق لکڑی سے بنی ایسی کھلونا کٹھ پتلی سے تھا جس کے ہاتھ پاؤں دھاگوں یا کسی دوسرے طریقۂ کار سے حرکت کرتے تھے۔ بعد میں یہ لفظ مجازی اور سیاسی معنی میں استعمال ہونے لگا۔ سیاسی تناظر میں اس سے مراد ایسا شخص، بالخصوص سیاست دان، ہے جو بظاہر اپنے منصب پر موجود ہو، لیکن فیصلے اور اقدامات کسی بااثر دوسرے فرد یا گروہ کی ہدایات کے مطابق کرتا ہو۔ اس تشبیہ میں سیاست دان کو ایسی کٹھ پتلی سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کی حرکتیں کوئی دوسرا کنٹرول کررہا ہو۔ یہ پہلا موقع نہیں جب تھرور نے اس لفظ کو سیاسی بحث کا حصہ بنایا ہو۔ اپریل ۲۰۲۲ء میں بھی انہوں نے ’کواکوووجر‘ کے معنی شیئر کرتے ہوئے اسے سیاسی لغت میں ایک مفید اضافہ قرار دیا تھا۔ اس وقت انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاست میں ایسا شخص کواکوووجر کہلاتا ہے جو اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی کرنے کے بجائے کسی بااثر تیسرے فریق کی ہدایات پر عمل کرے۔ اس طرح وہ اس اصطلاح کو سیاسی خودمختاری اور نمائندگی کے سوال سے جوڑ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ میں پانی کے بحران سے نمٹنے کیلئے میونسپل کارپوریشن کی ہنگامی میٹنگ

ستمبر ۲۰۲۶ء میں بھی تھرور نے یہی لفظ دوبارہ استعمال کیا تھا۔ انہوں نے اسے ’’ہمارے عہد کا لفظ‘‘ قرار دیتے ہوئے لکھا تھا، ’’میرے خیال میں ہماری حکمراں جماعت نے گزشتہ ایک درجن برس میں ایسے چند افراد پیدا کیے ہیں۔‘‘ ان کے اس تبصرے کو حکمراں جماعت پر طنز کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ نومبر کی تازہ پوسٹ میں انہوں نے اسی لفظ کو ’اندھ بھکت‘، ’گودی‘ اور ’پیڈ فالوورز‘ جیسی سیاسی اصطلاحات کے متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔ ہندوستانی سیاست میں ’اندھ بھکت‘ اور ’گودی میڈیا‘ جیسی اصطلاحات حکومت کے ناقدین کی جانب سے استعمال کی جاتی ہیں۔ ’اندھ بھکت‘ کا لفظ ایسے حامیوں کے لیے بولا جاتا ہے جنہیں ناقدین کسی سیاسی جماعت یا رہنما کا غیر مشروط حامی سمجھتے ہیں، جبکہ ’گودی میڈیا‘ کی اصطلاح ان ذرائع ابلاغ کے لیے استعمال ہوتی ہے جن پر ناقدین کسی حکومت کے بیانیے کو فروغ دینے کا الزام لگاتے ہیں۔ یہ اصطلاحات سیاسی اختلاف اور عوامی بحث کا حصہ ہیں، تاہم ان کے استعمال پر بھی سیاسی حلقوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ تھرور نے اپنے تازہ پیغام میں ان اصطلاحات کے ساتھ ’کواکوووجر‘ کو ایک متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تلجاپور میں معاشقے پر تنازع، ۱۸؍سالہ نوجوان کا بہیمانہ قتل

ششی تھرور اپنی غیر معمولی انگریزی لغت اور مشکل الفاظ کو سیاسی تبصروں میں استعمال کرنے کے لیے خاصے مشہور ہیں۔ ان کی ایسی پوسٹس اکثر سوشل میڈیا صارفین کو لغت کھولنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ اس سے قبل وہ ’آلڈوکسوفوبیا‘ (Allodoxaphobia) کا لفظ بھی استعمال کرچکے ہیں، جس کا مطلب دوسروں کی رائے یا اختلاف سے غیر معمولی خوف ہے۔ اسی طرح ’فراگو‘ (Farrago) کا مطلب بے ترتیب یا مختلف چیزوں کا الجھا ہوا مجموعہ ہے، جبکہ ’ٹروگلوڈائٹ‘ (Troglodyte) ایسے شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جسے دانستہ طور پر جاہل، پسماندہ یا پرانے خیالات کا حامل سمجھا جائے۔ تھرور کی زبان سے متعلق دلچسپی صرف سیاسی پوسٹس تک محدود نہیں۔ وہ مصنف بھی ہیں اور مشکل و نایاب انگریزی الفاظ کے بارے میں ان کی کتاب ’تھروروسارس‘ (Tharoorosaurus) بھی شائع ہوچکی ہے۔ ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں میں الفاظ کے معنی، ان کے تاریخی پس منظر اور روزمرہ یا سیاسی گفتگو میں ان کے استعمال کو نمایاں جگہ حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کسی نایاب لفظ کے استعمال پر اکثر سیاسی بحث کے ساتھ زبان اور لغت سے متعلق گفتگو بھی شروع ہوجاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK